لاکھوں افراد بغیر سماعت ڈی پورٹ ہونے کے خطرے سے دوچار

0
7

واشنگٹن (پاکستان نیوز)ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قاعدے نے پناہ کے خواہش مندوں اور ان کے قانونی نمائندوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت لاکھوں پناہ گزینوں کو اپنی معروضات پیش کرنے یا ذاتی سماعت کا موقع ملے بغیر ہی ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ ضابطہ منگل کے روز بغیر کسی عمومی مشاورت یا عوامی آرا کے فوری طور پر نافذ العمل کر دیا گیا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں محکمہ شہریت و ہجرت میں زیرِ التوا چودہ لاکھ سے زائد مقدمات میں سے تقریباً چار لاکھ چوالیس ہزار سے زیادہ درخواستیں براہِ راست وزارتِ انصاف کے شعبہ ہجرت کے ججوں کو منتقل کی جا سکتی ہیں۔ چونکہ ان ججوں کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ سماعت کا باقاعدہ موقع فراہم کیے بغیر کچھ درخواستوں کو مسترد کر دیں، اسی لیے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں کو بغیر مقدمہ لڑے واپس بھیج دیا جائے گا۔ نامور وکلا نے اس اقدام کو قانونی طور پر مقیم افراد کو غیر قانونی بنانے اور اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے معاہدوں سے انحراف قرار دیا ہے۔ بنیادی تشویش ان درخواست دہندگان کے بارے میں ہے جنہوں نے آمد کے ایک سال بعد درخواست جمع کرائی تھی۔ گرچہ امریکی قوانین میں بعض استثنائی حالات میں اس شرط کو نرم کیا جا سکتا ہے، لیکن تارکینِ وطن اکثر ان پیچیدہ قانونی باریکیوں سے واقف نہیں ہوتے۔ دوسری جانب سرکاری حکام اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے نظام کے ناجائز استعمال اور بلاوجہ کی تاخیر کو روکا جا سکے گا۔ تاہم ناقدین اسے بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here