نیویارک (پاکستان نیوز)وفاقی عدالت نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی جانب سے انسداد ڈس انفارمیشن کے بلاگر جیم سٹیورٹسن کیخلاف دائر کردہ ہتک عزت کے مقدمے کو مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔ نیواڈا کی وفاقی عدالت کے چیف جج اینڈریو گورڈن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عدالت کو کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے اس لکھاری کے خلاف اس معاملے میں ذاتی دائرہ اختیار حاصل نہیں ہے، جس کی بنیاد پر بلاگر کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔ کاش پٹیل نے جون 2023 میں، ایف بی آئی ڈائریکٹر بننے سے قبل، جیم سٹیورٹسن کے خلاف 10 ملین ڈالر سے زائد کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ بلاگر نے اپنے بلاگ مائنڈ وار اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انہیں روسی ایجنٹ اور 6 جنوری کے پرتشدد واقعات کا منصوبہ ساز قرار دے کر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا۔ ابتدا میں بلاگر کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر اگست 2025 میں عدالت نے کاش پٹیل کے حق میں 250,000 ڈالر کا ابتدائی فیصلہ سنایا تھا۔ تاہم، جیم سٹیورٹسن نے بعد میں عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اس فیصلے کو منسوخ کرنے اور مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ انہیں عدالت کی جانب سے قانونی نوٹس صحیح طور پر موصول نہیں ہوا تھا اور نیواڈا کی ریاست کے ساتھ ان کے کوئی کاروباری یا ذاتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مقدمہ خارج کرنے کا حکم دے دیا۔ کاش پٹیل کے لیے یہ فیصلہ ایک اور ناکامی ہے، کیونکہ وہ صحافیوں اور مبصرین کے خلاف کم از کم 6 ہتک عزت کے مقدمات دائر کر چکے ہیں۔ اس سے قبل اپریل میں بھی ایک جج نے سابق ایف بی آئی اہلکار فرینک فیگلیوزی کے خلاف ان کا کیس خارج کر دیا تھا۔












