مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات اور الہان عمر کے موقف پر جاری سیاسی بحث

0
7

نیویارک (پاکستان نیوز)منیسوٹا میں کورونا وبا کے دوران عوامی امدادی پروگراموں کے ذریعے کی جانے والی 250 ملین ڈالر سے زائد کی مبینہ مالیاتی بدعنوانی کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں۔ اس معاملے پر صومالی نڑاد امریکی رکنِ کانگریس الہان عمر اور وفاقی اداروں کے درمیان سیاسی و قانون سازانہ سطح پر شدید بحث اور ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق منیسوٹا میں قائم فلاحی نیٹ ورک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے بچوں کو خوراک فراہم کرنے کے نام پر حاصل کی گئی رقم کا بڑا حصہ غلط طریقوں سے استعمال کیا۔ اس اسکینڈل میں درجنوں افراد کے نام سامنے آنے کے بعد امریکی محکمہ انصاف اور محکمہ خزانہ نے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ وفاقی حکام اس پہلو کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ کیا ٹیکس دہندگان کی رقم میں سے کوئی حصہ بیرونِ ملک منتقل ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے ان تمام الزامات پر اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیکس دہندگان کی رقم غیر قانونی طور پر غلط ہاتھوں میں پہنچی ہے تو یہ وفاقی تحقیقاتی اداروں اور امریکی عدالتی نظام کی ناکامی ہے کہ وہ اسے بروقت نہ روک سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بدعنوانی اور دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف مکمل شفافیت کے ساتھ سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔ الہان عمر کا کہنا تھا کہ منیسوٹا میں مقیم صومالی برادری خود بھی عام امریکی شہریوں کی طرح باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہے اور اس قسم کی بدعنوانی سے ان کی برادری کے وہ لوگ بھی متاثر ہوئے ہیں جو ان سرکاری فلاحی منصوبوں کے حقیقی حقدار تھے۔ اس وقت ریاست میں وفاقی تحریری کارروائیوں اور مقامی رہنماؤوں کے بیانات سے صورتحال کافی گرما گرمی اختیار کر چکی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here