اسلامی سال اور یوم عاشور!!!

0
4
شمیم سیّد
شمیم سیّد

ہمارا اسلامی سال محرم الحرام سے شروع ہوتا ہے جس میں بہت بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے اور اس مہینے میں روزے بھی رکھے گئے لیکن ہماری ممالک میں محرم الحرام کی حیثیت واقعہ کربلا کی وجہ سے سب سے زیادہ اہمیت اخیتار کر چکی ہے جوں ہی محرم کا مہینہ آتا ہے لوگ اسلامی مہینے کی مبارکباد بہت کم اور شہدائے کربلا کی شہادت کی وجہ سے اس مہینہ کو سوگ کا مہینہ زیادہ تر پاک و ہند میں منایا جاتا ہے۔ پورا سال ہم ایک دوسرے کیساتھ بڑے پیار و محبت سے رہتے ہیں لیکن جوں ہی محرم شروع ہوتا ہے ہم دو فرقوں میں بٹ جاتے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے کیوں ہمارے اندر یہ نفرتیں پیدا ہو جاتی ہیں کیا یہ ہمارے اندر ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کو اُبھارنے کا مہینہ ہے یا پھر اس کے پیچھے کچھ اور عوامل شامل ہیں میں شاید کچھ تلخ حقائق بیان کرنا چاہتا ہوں اپنی ناقص عقل کے مطابق ہم نے اپنے بچپن میں یہ چیزیں نہیں دیکھی تھیں ہم سب مل کر سب چیزیں ایک ساتھ مناتے تھے اہلسنت کے ہاں بھی نذر و نیاز کونڈے منائے جاتے تھے۔ سبیلیں لگائی جاتی تھیں بچوں کو حضرت امام حسین کا فقیر بنایا جاتا تھا اسی طرح ربیع الاول میں شیعہ سنی سب مل کر ولادت حضور اکرمۖ منایا کرتے تھے پھر ایسا کیا ہوا کہ یہ سب محبتیں نفرتوں میں بدلتی گئیں اس میں ہمارے علماء اکرام نے وہ کردار ادا نہیں کیا اس میں ہمارے جید علماء کرام چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی ہوں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا بلکہ ان تفرقہ پسند مولویوں اور ذاکروں نے صرف ارو صرف تفرقہ پھیلا کر اور ایک دوسرے کیخلاف تقریریں کر کے اپنے ریٹ بڑھائے اور جو جتنی مخالفت میں تقریر کرتا تھا وہ زیادہ پاپولر ہوتا تھا اور لوگ ان کی تقریریں بڑے شوق سے سنتے تھے۔ مجھے یاد ہے ہمارے زمانے میں علامہ رشید تُرابی، طالب جوہری، ابن حسن نجفی، نصیر اجتحادی، علامہ شفیع اوکاڑوی، مولانا یعقوب کیماڑی والے، علامہ ریاض الدین سہروردی، عبدالمصطفی الازہری یہ وہ علماء اکرام تھے جو پورے محرم مجالس پڑھا کرتے تھے اور ان کے مجالس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شرکت کیا کرتے تھے مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ اہل بیعت پر زیادہ حق شیعہ حضرات کا ہے مجالس میں اہل بیعت کا ذکر ہو اور سید الشہداء کے مصائب یان کئے جائیں تو وہ کون سی آنکھ اور دل ہوگا جو اشکبار نہیں ہوگا لیکن میں یہ لکھنے میں حق بجانب ہوں کہ گنتی کے چند ذاکرین ہیں جو مصائب سے زیادہ اپنی نفرتوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور وہاں پر بیٹھا ہوا مجمع واہ واہ کی صدائیں لگاتا ہے کیونکہ میرا تعلق انچولی سے رہا ہے اور میں سادات کالونی بلاک 20 میں رہا ہوں اس لیے مجھے معلوم ہے کہ یہ نفرتیں کیسے بڑھی ہیں لیکن اس سال جو سب سے بڑی پیش رفت ہوئی ہے وہ اہل تشیع حضرات کی طرف سے جنگ اخبار میں جو اشتہار چھپا ہے جس میں خاص طور پر اہلسنت کو دعوت دی گئی ہے ارو لکھا ہے یہ ہمارے خاص مہمان ہیں اور ان کا خاص خیال رکھا جائے اور ہمارے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور سونے پہ سہاگہ جس طرح جماعت اسلامی نے بلاک 20 میں تمام سڑکوں کو نیا بنا دیا ہے اسی طرح ہم تمام بھائیوں میں محبت اور یگانگی پیدا ہوتی ہے اسی لیے اس سال بلاک 20 میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ مجلسوں میں شرکت کر رہے ہیں ہمیں تمام اختلافات ختم کر کے جو بھی تفرقہ پھیلانے کی کوشش کرے اس کیخلاف کھڑے ہو جانا چاہیے ہمارے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم امریکہ اور ایران، اسرائیل میں سمجھوتہ کروا سکتے ہیں کیا اپنے ملک میں یہ تفرقے ختم نہیں کروا سکتے۔ سیاسی اختلافات ختم کر کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر کے سیدالشہداء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سر کٹادیں مگر ظلم کے آگے نہ جھکیں اسی لیے شہادت امام حسین کی وجہ سے محرم الحرام کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلم اُمہ کو ایک لڑی میں پرو دے تاکہ دنیا میں اسلام کا نام اور زیادہ روشن ہو۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here