قارئین اور عزیزانِ وطن! ایک عرصے کے بعد کالم لکھنے بیٹھا ہوں۔ سچی بات یہ ہے کہ جب سے پاکستان سے واپس آیا ہوں، تقریباً کئی ماہ گزر گئے ہیں، وطنِ عزیز کی سیاسی صورتِ حال کو قریب سے دیکھنے کے بعد سیاست پر لکھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ سچی بات ہے کہ دل اچاٹ ہو گیا ہے، پھر سوچا کہ اس سے پہلے جو تھوڑی بہت سوچنے سمجھنے کی عادت ہے اس کو بھی زنگ نہ لگ جائے، قلم اٹھا ہی لیا جائے۔ ملک کی حکمرانی پر ان لوگوں کا قبضہ ہے جن کا ہم اہل دِل سے کوئی ناطہ نہیں ہے۔ حکومت ایسے نااہل عناصر کے ہاتھ میں ہے جو طاقت کے بل بوتے پر براجمان ہیں اور جو پاکستان کو معاشی و سیاسی استحکام دینے کے بجائے مزید نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کو سنگین بحرانوں کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، غیر معتبر اور غیر متعلقہ لوگ حکومت کے پاسبان بنے ہوئے ہیں اور ہر طرف جعل سازی کا بازار گرم ہے۔ لیکن آج کشمیر میں جو افسوس ناک واقعہ پیش آیا، اس نے مجبور کیا کہ سردار نصراللہ اپنے مافی الضمیر کے اظہار سے گریز نہ کرے، کیونکہ جان تو آنی جانی ہے اور ایک روز سبھی کو اس فانی دنیا سے رخصت ہونا ہے، اس لیے جیسے تیسے سچائی کے اظہار کا کردار ادا کر کے ہی رخصت ہونا چاہیے۔
صبح صبح میرے دوست راجہ بابر صاحب، جن کا تعلق پنجیڑی سے ہے، انہوں نے میرپور میں ریاست کے زیرِ اہتمام ہونے والے پرتشدد واقعات کا ایک ویڈیو کلپ بھیجا جس میں مظاہرین پر فائرنگ اور پرتشدد کارروائی کے مناظر تھے۔ یقین جانیے ایسا لگا جیسے یہ گولیاں میرے اپنے جسم میں پیوست ہوئی ہیں۔ گولیاں چلانے اور تشدد کا حکم دینے والوں کو ذرا بھی احساس نہ ہوا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں، جو کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ پچھلے 78 سالوں سے بلند کر رہے ہیں اور بھارتی مظالم کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس قسم کے اقدامات سے یوں لگتا ہے جیسے مظلوموں کو یہ دکھایا جا رہا ہو کہ ہمارے اور دوسرے غاصبوں کے رویے میں کوئی فرق نہیں رہا۔ ہمارے نام نہاد حکمرانوں نے تو آزاد کشمیر کے پرامن خطے کو سنگین بے امنی کا مرکز بنا دیا ہے۔
راجہ بابر صاحب کا کلپ دیکھنے کے بعد آزاد کشمیر کی مزید صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے سلیم اللہ بٹ صاحب کو ٹیلیفون کیا۔ بٹ صاحب نے رنجیدہ ہو کر کہا کہ سردار صاحب، ہم اب آزاد نہیں رہے بلکہ مقبوضہ کشمیر کی مانند ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ جواب سن کر مجھے شدید رنج ہوا۔ اس کے بعد میں نے دانشِ عصر مقصود جعفری صاحب سے رابطے کی کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ موجودہ حکمران جیسے بھی ہیں، وہ اس وقت 26 کروڑ اہل وطن کی قسمت کے فیصلے کر رہے ہیں، لہٰذا انہیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور عوام پر اس نوعیت کے مظالم بند کرنے چاہئیں۔
عسکری قیادت اور وزیراعظم کی بین الاقوامی سفارتی سرگرمیوں اور خطے کی صورتِ حال سے قطع نظر، اس وقت اپنے اندرونی معاملے کو سنبھالنے اور گھر کی مرمت کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اقتدار اور اختیار کے مالک طبقات کو چاہیے کہ وہ ان پست قد اور مسلط شدہ حکمرانوں کے غلط فیصلوں کا نوٹس لیں اور ملک کو مزید تباہی سے بچائیں۔ اگر واقعی ملک و قوم کی بہتری درکار ہے تو عوام کو ریلیف دیا جائے اور امن و امان کی فضا بحال کی جائے تاکہ پاک فوج اور ریاست کا وقار قائم رہ سکے۔












