آقائے کائنات کے چند مشاہیر اجدادِ کرام
زرقانی علی المواہب کی جلد اوّل میں بڑی صراحت واستناد کے ساتھ درج ہے کہ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس پیشانی میں سرور کائنات ۖ کا نور نبوت اس قدر درخشاں وتاباں تھا کہ جو بھی آپ کو دیکھتا اس کی آنکھیں خیرہ ہوجاتیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ خانہ کعبہ کے کسی گوشے میں محوا استراحت تھے۔ جب آپ بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ کے جسم مقدس پر بے حد قیمتی زرق برق لباس تھا اور آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا تھا اور مزید برآں آپ کے سر کے بالوں سے تیل کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ اس وقت آپ کا حسن وجمال اس قدر دوبالا نظرآرہا تھا کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں ٹھہر نہیں پارہی تھیں۔ سارے کے سارے ایک دوسرے سے سرگوشی کرنے لگے کہ اخیر اس جوان کے حسن وجمال اور مرتبہ کمال کا راز کیا ہے۔ جب یہ باتیں آپ کے والد حضرت ہاشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوئیں توآپ نے قریش کے مشہور کاہنوں سے رابطہ کیا اور جب سارا واقعہ بتایا تو کاہنوں نے کہا کہ اب بلاتاخیر اس نوجوان کا نکاح کر دیا جائے۔ گویا یہ من جانب اللہ اشارہ تھا کہ اب نورِ محمدی کے منتقل ہونے کا وقت آپہنچا ہے۔
حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ کا ایک مابہ الامتیاز وصف یہ بھی تھا کہ آپ کے جسم مقدس سے ہمیشہ مشک کی ایسی بھینی بھینی خوشبو اُٹھا کرتی تھی کہ جس سے گردونواح معطّر ہوجایا کرتے تھے۔ آپ بلاشبہ موحد تھے اور ان ایاّم جاہلیت کے شرمناک رسوم سے بے حد نفرت کیا کرتے تھے۔ شراب اور زنا کو سخت حرام جانتے تھے اور لڑکیوں کا زندہ درگور کیا جانا آپ کو اس قدر ناپسند تھا کہ آپ لوگوں کو اس ناپاک جرم کے ارتکاب سے بڑی سختی کے ساتھ روکا کرتے تھے اور اگر کسی شخص کی چوری حدّ ثبوت تک پہنچ جاتی تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتے تھے۔ آپ بے حد پاک باز، نیک طینت اور عابدو زاہد شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کا مقدس سینہ خشیت الٰہی کا ایسا گنجینہ تھا کہ کئی کئی دنوں تک مواتر آپ غار حرا میں جاکر معتکف ہوجاتے اور ربّ کائنات کی عبادت میں منہمک ومستغرق رہتے۔ گوشتہ نشینی اور خلوت گزینی سے آپ کو اس قدر لگائو تھا کہ بالخصوص ماہ رمضان المبارک میں تقریباً پورے ماہ غار حرا میں خداوند قدوس کی یادوں میں محو رہا کرتے تھے۔ مذکورہ اوصاف حمیدہ کے علاوہ ربّ کائنات نے آپ کے اندر سخاوت، خلق اللہ کی بے لوث خدمت، یتیموں ا ور غریبوں کی امداد کا ایسا وافر جذبہ عطا فرمایا تھا کہ انسان تو انسان اپنے دستر خوان سے پرندوں کیلئے بھی شکم سیری کا سامان فراہم کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں سارا عرب ”مطعم الطیر” (پرندوں کو کھانا کھلانے والا) کے لقب سے یاد کرتا تھا۔
٭٭٭٭٭
















