ری سیٹ یا اپ سیٹ؟

0
6
جاوید رانا

اس کالم کو تحریر کرتے ہوئے ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وطن عزیز کے حالات پر ایک ناول مرتب کر رہے ہیں جس کے چیپٹرز تو الگ ہیں لیکن بنیادی آئیڈیئے میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے اقدامات و معاملات کا جائزہ لیں تو ایک ہی ہنگامے پر گھر کی رونق موقوف تھی لیکن نکتۂ نظر اور مؤقف میں تضادات کاہنگام رہا۔ ایک جانب مرسو مرسو سندھ نہ ڈیسو کے تناظر میں سندھ اسمبلی کی قرارداد بشمول وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، نثار کھوڑو اور فریال تالپور کی زہریلی تقاریر تو لندن میں محسن نقوی کی زرداری سے پانچ گھنٹوں کی ناکام ملاقات اور بے نیل و مرام واپسی (شنید تو یہ بھی ہے کہ فریال تالپور کی تقریر بھی زرداری کی تحریر شدہ تھی)۔ دوسری جانب وطن واپسی پر مقتدرہ کے خاص الخاص کی نئے صوبوں، انتظامی یونٹس کے حوالے سے واضح دھمکی کہ صوبے، یونٹ تو بنیں گے اور عوام کی رائے سے بنیں گے، سونے پر سہاگہ بڑے میاں صاحب کی ٹُک ٹُک دبدم، دم نہ کشیدم والی خاموشی۔ بعض مبصرین کے مطابق چھوٹے میاں صاحب شروع سے ہی آن بورڈ ہیں۔ تازہ ترین صورتحال تو یہ ہے کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا ڈرافٹ بھی تیار ہو چکا ہے۔
محسن نقوی کے واضح انتباہ کے بعد اب یہ صوبے ، یونٹس تو بن کر رہیں گے، صحافتی و سیاسی جغادری ان حوالوں سے آئینی موشگافیوں میں پڑ گئے ہیں اور مختلف آرٹیکلز و سیشن کے ناطے ریفرنڈم، پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے کردار کے حوالے سے مصروف ہیں۔ ایک سادہ سا سوال ہے کہ بنیادی جمہوریت، 85-84ء کے اور 2002ء کے ریفرنڈمز کیلئے ایوب خان، ضیاء الحق یا پرویز مشرف نے کسی پارلیمان یا عوامی حمایت کا سہارا لیا تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ حکم حاکم مرگ مفاجات کے فارمولے پر ہی یہ سب کچھ ہوتا رہا اور سیاسی قوتیں بھی اپنے مفادات کی خاطر معاون رہیں۔ کیا یہ کہنا غلط ہوگا کہ اس بار بھی تماشہ یونہی ہوگا کیونکہ محسن نقوی ری سیٹ کی سوچ کے نہ خالق ہیں نہ مختار ہیں بلکہ ان کے معاونت کار ہیں جو اصل حاکم اور اس سوچ کے خالق و مختار ہیں۔
وطن عزیز کے حوالے سے ہماری اولین سطور کے مطابق جاری اس ناول کے اب تک کے جو چیپٹر سامنے آئے ہیں ان میں بشمول موجودہ تین برس چالیس سال اصل حکمرانوں یعنی مقتدرین کے زیر نگیں رہے اور اگر اس میں غلام محمد، اسکندر مرزا اور شہید بھٹو کا ایک برس بطور چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر بھی شامل کر لیا جائے تو نصف صدی تک کا اقتدار 79 سال میں سے اصل حکمرانوں کا ہی قرار پاتا ہے۔ سچ پوچھیں تو آئی جے آئی سے تا ہنوز سول حکومتوں پر بھی نظر ڈالیں تو نام نہاد جمہوری ادوار مقتدرہ کے طفیل ہی رہے اور جس نے سر اُٹھایا اسے راندہ درگاہ کر دیا گیا ہے یا سفر آخرت پر بھیج دیا گیا ہے۔ عموماً وطن عزیز کے ان حالات کومقتدرہ، بیورو کریسی حتیٰ کہ انصاف کے رکھوالوں سے عبارت کیا جاتا ہے لیکن کیا مفادات و اقتدار کی بھوکی سیاسی اشرافیہ کے کردار کو وطن، عوام، جمہوری اصولوں و اقدار کا آئینہ دار قرار دیں؟ عمومی جواب نفی کے سواء کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگر ان نام نہاد حکمرانوں کے موجودہ رویوں اور کردار کا جائزہ لیں تو ان کا طرز حکمرانی نہ وطن و عوام کے حق میں ہے اور نہ ہی معاشرتی، معاشی و اصلاحی نکتہ ہائے نظر سے ہے بلکہ اپنی بقاء و تسلسل کیلئے ہے۔ پیپلز پارٹی جو کبھی ملک بھر کی مقبول ترین اور محبوب جماعت تھی، اب وہ سُکڑ کر سندھ تک محدود ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی قومی اور اہم معاملہ ہو وہ اپنا وجود برقرار رکھنے کیلئے سندھی قومیت کا کارڈ کھیلتی ہے۔ حالیہ قرارداد بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، قارئین کو یاد دلاتے چلیں کہ کالا باغ سے نہروں کے معاملے اور موجودہ ایشو تک سندھ اسمبلی میں چھ قراردادیں سندھ کی عصبیت کے حوالے سے منظور کی جا چکی ہیں۔ اب ذرا ن لیگ کے کردار کو دیکھیں ضیاء کے ریفرنڈم کے بعد جونیجو کومعزول کر کے وجود میں آنے والی اور آئی جے آئی و ن لیگ سے اسٹیبلشمنٹ کا محبت و نفرت کا طویل سلسلہ گڈ کاپ اور بیڈ کاپ کا رہا اور اپنی چلتر بازیوں سے معاملات بنتے رہے ہیں، بڑا بھائی مغرور اور چھوٹا بھائی موقع شناس رہے جبکہ بیٹی (بھتیجی) باپ کی پیروکار ہے۔ اقتدار کے حصول کے علاوہ وطن و عوام سے ان کا کوئی سروکار نہیں البتہ بھارت خصوصاً مودی سے تعلقات ہیں۔ فارم 47 سے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے والی سنہرا پنجاب کا دعویٰ کرنے والی شہزادی نے اربوں کا ذاتی جہاز خریدا، وہ اپنی جگہ گزشتہ ہفتے موصوفہ کا انکشاف ”ہمیں بھارت افغانستان سے اتنا خطرہ نہیں جتنا پڑوسیوں سے خطرہ ہے”۔ حلق کی ہڈی بنا ہوا ہے جو نہ اُگلتے بن رہا ہے نہ نگلتے۔ بعض حلقے اس بیان کو بھارت سے انسیت قرار دے رہے ہیں، سنا ہے کہ چچا مقتدرین کو وضاحتیں دے کر ان کی ناراضگی ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ہم نے شروع سطور میں اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے ڈرافٹ کی آگاہی دی تھی ہمارے ذرائع کے مطابق پنجاب کے صوبوں کے نقشے بھی تیار ہو گئے ہیں۔ صدر زرداری کا فرانس کا دورہ منسوخ کر کے واپس آنا اس امر کی تمہید ہے کہ پیپلزپارٹی بھی راہ راست پر آگئی ہے۔ حالات جس طرف جا رہے ہیں لگتا ہے کہ ری سیٹ کرنے کے نام پر موجودہ ہائبرڈ رجیم (نظام) مزید طوالت اختیار کریگا۔ اگر حقیقت میں نظام کو ری سیٹ کرنا ہے تو اصل حکمرانوں کو اول این ایف سی کو صوبائی فنانشل کمیشن تک گرانٹ منتقل کرنا ہوگی اور شفاف الیکشن کروا کر اختیارات کو نیچے تک منتقل کرنا ہوگا ورنہ لوٹ مار بھی جاری رہے گی اور نظام کی خرابی بھی۔
٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here