ہمارے معاشرے میں شادیوں کے موقع پر لڑائیاں، روٹھنا منانا اور فضول خرچی ایک عام معمول بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیٹی کے والدین کو جن سخت مسائل اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے ذمہ دار جتنے لڑکے والے ہیں، غالباً اتنے ہی لڑکی والے بھی ہیں۔ یہ سچا واقعہ رحیم یار خان کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے، جہاں شادی کی ایک تقریب میں ایسا منظر پیش آیا جس کا ہر حصہ اپنے اندر شدید دکھ اور عبرت رکھتا ہے۔
23 سال پہلے سال 2003 میں ایک ولیمے کی تقریب منعقد ہوئی۔ سب لوگ کھانا کھا رہے تھے اور دعوت سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ یہ ایک امیر رشتہ دار کے بیٹے کی شادی تھی۔ کھانے پینے سے فارغ ہونے کے بعد وہاں ایک عجیب و غریب اور انتہائی افسوسناک منظر دیکھنے میں آیا۔ دلہے کا باپ دلہن کے والد کے سامنے بیٹھ کر ان کی شدید بے عزتی کر رہا تھا اور غلیظ زبان استعمال کر رہا تھا۔ کہنے کو دلہے کا والد بہت امیر اور بظاہر معزز آدمی تھا، جبکہ دلہن کے والد ایک انتہائی شریف النفس انسان تھے جو خاموشی سے اپنے سمدھی کی باتیں سن رہے تھے۔ بظاہر کوئی اتنی بڑی وجہ نہیں تھی، لیکن محض اپنے پیسے اور جائیداد کا گھمنڈ دکھانے کے لیے دلہے کے والد نے یہ رویہ اختیار کیا۔ ان کے درمیان اصل معاملہ کیا تھا، یہ واضح نہیں ہو سکا۔ بہرحال وہ شادی قائم رہی اور آج ان کے بچے بھی جوان ہو چکے ہیں۔
اب جب بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ دلہن کے والد مظلوم اور شریف آدمی تھے جن کی بے عزتی کی گئی۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے یہ رشتہ سامنے والے کی کروڑوں کی جائیداد دیکھ کر کیا تھا۔ اگر یہی کوئی شریف مگر غریب انسان ان کے پاس رشتے کے لیے آتا تو وہ شاید کبھی قبول نہ کرتے۔ رشتہ طے کرتے وقت اگر ترجیح صرف مال و دولت اور جائیداد ہو تو صاحبِ ثروت شخص اپنی طاقت اور پیسے کا روب بھی جماتا ہے۔ دلہن کے والد کو کسی نے مجبور نہیں کیا تھا، انہوں نے خود مال و دولت دیکھ کر رشتہ انتخاب کیا۔ چنانچہ جب دوسرے شخص کو موقع ملا، اس نے بھی اپنے پیسے اور طاقت کا اظہار سرعام کر دیا۔
اس سارے واقعے کا حاصل یہ ہے کہ رشتہ بناتے وقت انسان کا اخلاق، اس کی شرافت، محنت، خاندانی تمیز اور سلیقہ دیکھا جانا چاہیے۔ انسان کا رویہ اور اس کی شخصیت اصل معیار ہونی چاہیے، کیونکہ پیسہ آنی جانی چیز ہے۔ ایسے بے شمار لوگ ہیں جن کے پاس شادی کے وقت کچھ نہیں تھا لیکن بعد میں وہ مالی طور پر بہت مستحکم ہو گئے۔ رشتے کا انتخاب ہمیشہ انسان کی قابلیت اور شرافت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے آج کے معاشرے میں پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ سامنے والے کے پاس کتنا پیسہ ہے۔ لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور لڑکی والوں کی طرف سے سونے، قیمتی گھر اور برانڈڈ خریداری کی فرمائشیں کی جاتی ہیں۔ نخروں اور مطالبات کی ایک لمبی فہرست تیار کر لی جاتی ہے۔ ان تمام باتوں پر غور کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں عزت اور شرافت کا پاس رکھا جا سکے۔












