فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
5

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب نبی آخر الزماںۖ وآلہ واصحابہ وسَلّم کو علوم غیبیہ اور شہادت عطا فرما کر تمام مخلوق کا مقتداء وامام بنا دیا۔ لوح وقلم، عرش وکرسی اور زبان ومکان کے اسرار ورموز تو حضورۖ کے بحرعلوم کا ایک قطرہ ہیں۔ کیوں نہ ہو؟ خالق مطلق کے کرم سے ہر نعمت اور ہر رحمت ان پر ختم ہوتی ہے۔ اور آپۖ کے درجات ابدالاآباد تک بڑھانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ قرآن مقدس میں ہر چیز کا علم موجود ہے اور قرآن مقدس ان کی تمام صفات میں سے ایک صفت ہے۔ یعنی حسن اخلاق اندازہ کریں ایک وسف کی بے کرانی کا یہ عالم ہے تو باقی اوصاف کا عالم کیا ہوگا؟ قرآن مقدس میں ہر چیز کا علم موجود ہے اور حضورۖ قرآن مقدس کی تعلیم دیتے ہیں گویا آپ لوگوں کو ہر چیز کا علم ان کی ذہنی وفکری استعداد کو مدّ نظر رکھتے ہوئے عطا فرماتے ہیں۔ اس لحاظ سے آپۖ مرشد کائنات، ہادی دو عالم اور رہبر کونین ہیں۔ تمام جہانوں کو قہرالٰہی سے ڈرانے والے اور رحمت الٰہی کا بشارتوں کے ساتھ مژدہ جاں فزاسنانے والے ہیں یہ سب کچھ تب ممکن ہے جب تمام جہانوں کے ذرہ ذرہ کا علم اور ادراک حاصل ہو۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ کچھ سیکھا دیا جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اس مالک حقیقی کا فضل عظیم اور احسان عمیم ہے اور اب ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں۔ کہ یارسول اللہ!ۖ ……
لوح بھی تو، قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب۔۔۔گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضورۖ نے نماز ظہر پڑھائی اور منبر پر جلوہ افروز ہوگئے۔ پس آپ نے قیام کا ذکر شروع کیا۔ فرمایا: اس میں بڑی سنگین چیزیں ہوں گی پھر فرمایا: جو شخص کچھ پوچھنا چاہتا ہو پوچھ لے۔ میں یہاں کھڑے کھڑے اسے تبادوں گا لوگوں نے کثرت سے گریہ وزاری کی اور آپ نے بار بار یہی فرمایا: مجھ سے پوچھو عبداللہ بن حذافہ سہی کھڑے ہوئے اور عرض کی۔ یارسول اللہۖ! میرا باپ کون ہے؟ فرمایا: حذافہ، آپ نے فرمایا: پوچھو، تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ دو زانوہو کر بیٹھے اور عرض گزار ہوئے۔ ہم اللہ کے رب، اسلام کے دین اور محمد(ۖ) کے نبی ہونے پر راضی ہوگئے۔ اس وقت آپۖ خاموش ہوگئے۔ ازاں بعد فرمایا: جنت و دوزخ میرے سامنے ابھی دیوار کے گوشے میں لائی گئیں۔ ایسی عمدہ اور مکرہ چیز کبھی نہیں دیکھی۔ یعنی جنت عمدہ اور دوزخ مکروہ یہ حدیث امام بخاری رضی اللہ عنہ نے ”کتاب مواقیت الصّلٰوة، کتاب العلم اور کتاب الفتن میں بھی رقم فرمائی ہے کتاب الاعتصام میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور ایک جگہ قسمیہ ارشاد فرمایا: خدا کی قسم تو جو کچھ پوچھنا چاہو پوچھ لو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا: یارسول اللہ! میرا ٹھکانہ کہاں ہوگا؟فرمایا: دوزخ، پھر اسی مقام پر آیت کریمہ نازل ہوئی: ترجمہ: اے ایمان والو! ایسی باتیں نہ پوچھو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں(سورة المائدہ آیت نمبر101پارہ نمبر7)
شرح قسطلانی میں ہے کہ بعض منافقین نے کہا کہ ہم حضور اقدس ۖ سے ایسی باتیں پوچھیں گے جن کا جواب دینے میں وہ عاجز آجائیں گے معلوم ہوا کہ نبی علیہ السّلام کے علوم غیبہ میں شک کرنا بھی بہت بڑی منافقت ہے اللہ تعالیٰ نے آپۖ کو جو شان رفیع عطا فرمائی ہے اس کو کم کرنے کی ناپاک اور ناکام کوشش ہے حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز حضورۖ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر ابتدائے آفرینش سے ذکر فرمانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ جنتی اپنے مقام پر پہنچ گئے اور دوزخی اپنے مقام پر پس اسے یاد رکھا جس نے یاد رکھا اور بھول گیا اسے جو بھول گیا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک حضورۖ نے ہمیں ایک ایسا خطبہ دیا کہ اس میں بیان کرنے سے قیامت تک کی کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ جان گیا جو جان گیا۔ اور بھول گیا جو بھول گیا۔(بخاری شریف کتاب القدر) حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضورۖ نے ارشاد فرمایا: اگر تم وہ باتیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو ضرور تم کم ہنستے اور ضرور تم زیادہ رویا کرتے(بحاری شریف کتاب النکاح) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول پاکۖ نے فرمایا: میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں سے ہوگی۔ مروان نے بھی لڑکے ہی کہا ہے ابوہرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو میں ان میں سے ہر ایک کا نسب ونام بتا سکتا ہوں۔(بخاری شریف کتاب الانبیائ) بہرحال اس دور پر فتن میں حضور اعلیٰ حضرت، محدّث اعظم پاکستان اور نائب محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنھم کی تعلیمات سے جڑے رہنے سے ہی عقیدہ حقہ کو بچایا جاسکتا ہے۔ جس فیضان کے قاسم قائد ملت اسلامیہ، سجادہ نشین آستانہ عالیہ محدّث اعظم پاکستان صاحبزادہ قاضی محمد فیض رسول حیدر قادری رضوی دام فیوضہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقائق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here