فرسودہ نظام کے شکنجے میں جکڑا پاکستان!!!

0
4
شمیم سیّد
شمیم سیّد

مملکت کے موجودہ سیاسی و معاشی حالات ایک ایسے دائرے میں گھوم رہے ہیں جہاں ہر گزرتا دن عوامی مشکلات میں اضافے اور حکمران طبقے کی بے حسی کا نیا باب رقم کرتا ہے۔ ملک اس وقت جس سنگین بحران سے گزر رہا ہے، اس کی جڑیں صرف غلط معاشی پالیسیوں میں نہیں بلکہ اس گلے سڑے نظام میں ہیں جسے دہائیوں سے اصلاح کے نام پر محض طول دیا جا رہا ہے۔ فرسودہ طرزِ حکمرانی نے قومی اداروں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور عوام کو ایک ایسے لامتناہی عذاب میں مبتلا کر دیا ہے جہاں روزمرہ کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کا حصول بھی ایک ناممکن خواب بن چکا ہے۔ بجلی اور سوختنی تیل کی قیمتوں میں مسلسل اور بے تحاشا اضافہ اس تلخ حقیقت کا ثبوت ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کو عام شہری کی تڑپ اور معاشی بدحالی کا ذرہ برابر بھی احساس نہیں۔ جب ہر بنیادی شے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوں اور معاشی اشاریے مسلسل تنزلی کا پتہ دے رہے ہوں، تو ایسے میں کامیابی اور معاشی بحالی کے ادعاجات محض لفظی گولہ باری کے سوا کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔
سیاسی میدان کی صورتِ حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ اقتدار کی منتقلی اور سیاسی وفاداریوں کی خرید و فروخت کا کھیل اب ملکی سرحدوں سے نکل کر غیر ملکی دارالحکومتوں اور پرتعیش محلات کے بند کمروں تک پھیل چکا ہے۔ قوم کی تقدیر کے فیصلے بیرونِ ملک بیٹھ کر کیے جاتے ہیں، جہاں ذاتی مفادات اور خاندانی بقا کو قومی ترجیحات پر فوقیت دی جاتی ہے۔ یہ کس قدر المیہ ہے کہ جو رہنما قوم کو خودداری اور خودانحصاری کا درس دیتے ہیں، ان کی اپنی جائیدادیں، سرمایہ اور معصوم اولادیں غیر ممالک میں مقیم ہیں۔ ملکی خودمختاری کا نعرہ لگانے والوں کا اصل دارالحکومت شاید وہی بیرونی شہر ہیں جہاں ہر نیا منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس میں عوام محض ایک مہرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ حقیقی جمہوریت عوامی رائے اور شفافیت پر مبنی ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں یہ چند بااثر خاندانی شاہی گھرانوں کی جاگیر بن کر رہ گئی ہے، جہاں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے صرف ذاتی اقتدار کے تحفظ کی جنگ لڑی جاتی ہے۔
اس تمام تر صورتِ حال میں سب سے دکھائیک دینے والا اور الم ناک پہلو عوام کی اپنی فکری غفلت اور شخصیت پرستی کی بیماری ہے۔ جب تک کوئی معاشرہ حق اور باطل، اور درست و غلط کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت سے محروم رہتا ہے، اس وقت تک اس کا مقدر بدحالی کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ہماری قوم کی اکثریت نے سچائی کی تلاش ترک کر کے اندھی عقیدت اور شخصیت پرستی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ لوگ محض زبانی نعروں اور جھوٹے وعدوں پر اپنی بنیادی ترجیحات قربان کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار آزمائے ہوئے چہروں کو دوبارہ مسندِ اقتدار پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ جب تک عوام اپنے حقوق کے لیے شعوری اور پرامن جدوجہد کا آغاز نہیں کرتے اور اپنے فیصلوں میں عقل و بصیرت کو مقدم نہیں رکھتے، اس وقت تک نظام میں کسی مثبت تبدیلی کی توقع رکھنا محض ایک خام خیالی ہے۔
انتظامی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کی زوال پذیری کا یہ عالم ہے کہ قابلیت اور شائستگی کی جگہ بدعنوانی اور سفارش نے لے لی ہے۔ اعلیٰ ترین سول خدمات کے امتحانات میں امیدواروں کی بھاری اکثریت کا ناکام ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام اور انتظامی تربیت مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ جب ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھنے والی بیوروکریسی کا یہ حال ہو تو پھر ملک کے مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔ مزید برآں، حکومتی اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں کے پاس دوہری شہریت کا ہونا اور بیرونِ ملک مستقل قیام کے راستے محفوظ رکھنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کا اس ملک کی مٹی سے کوئی سچا تعلق نہیں۔ یہ لوگ اس ملک سے صرف مراعات حاصل کرتے ہیں اور جب ملکی حالات نازک ہوتے ہیں تو اپنے غیر ملکی پاسپورٹ کا سہارا لے کر رفوچکر ہو جاتے ہیں۔
عدل و انصاف کا نظام اس قدر مفلوج ہو چکا ہے کہ غریب اور امیر کے لیے قانون کے پیمانے بالکل جدا ہیں۔ غریب انسان کے لیے قانون کی گرفت انتہائی سخت اور بے رحم ہے، جبکہ بااثر اور دولت مند افراد کے لیے ہر جرم معاف ہے۔ مظلوم اور بے بس شہریوں پر ظلم و ستم ڈھایا جاتا ہے اور قانون کی دھجیاں اڑانے والے دندناتے پھرتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ کرے، لیکن ہمارے ہاں تو غریب ہونا ہی سب سے بڑا جرم بنا دیا گیا ہے۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو معاشرتی انارکی کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔
قومی ترقی اور حقیقی سرفرازی کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور ایک نئی بیداری کو جنم دیں۔ نئے صوبوں کی تشکیل، انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور احتساب کا ایک غیر جانبدارانہ نظام قائم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر صوبائی اور علاقائی تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر صرف میرٹ اور قابلیت کو معیار بنایا جائے، تو اب بھی اس ملک کو تباہی کی دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اندھی عقیدت کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں سے اپنے حقوق کا حساب مانگیں۔ جب تک عام شہری اپنے اندر اخلاقی جرات اور شعور پیدا نہیں کرے گا، اس وقت تک یہ فرسودہ نظام اسی طرح معصوم شہریوں کا خون چوستارہے گا اور ترقی و خوشحالی صرف ایک اَن چھوا خواب بنی رہے گی۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here