حلقہ ارباب ذوق پسکاٹوے نیو جرسی کے زیر اہتمام نیو جرسی میں ایک خصوصی اور ماہانہ اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت دانشور ادیب اور کالم نگار عتیق صدیقی نے کی۔ اجلاس میں معروف شاعر کالم نگار افسانہ نگار ڈرامہ نویس اور براڈکاسٹر ناصر علی سید کے علاوہ فلسفے کے استاد پروفیسر ڈاکٹر اشرف عدیل نے بطور مہمانان خصوصی شرکت کی جبکہ عامر بیگ تقریب کے مہمان اعزازی تھے۔ اس موقع پر عامر بیگ کے دوسرے افسانوی مجموعے چخ چخ پخ پخ کی تقریب رونمائی بھی انجام پائی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز ابراہیم بیگ کی خوش الحان آواز میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری سے پہلی آیات کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبد الرحمن عبد نے اپنے حال ہی میں شائع ہونے والے حمد و نعت کے مجموعے داستان عبد سے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی اور محفل کو روح پرور بنایا۔
تقریب کے دوران ادبی دنیا سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے مصنف کے فنی و ادبی سفر اور کتاب پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے عامر بیگ کو مبارک باد پیش کی۔ میرین بائیولوجسٹ اور رٹگرز یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر قیصر طارق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چخ چخ پخ پخ کو ایک کامیاب افسانوی مجموعہ قرار دیا اور صاحب کتاب کو مبارک باد دی۔ عامر بیگ نے اس کتاب کو کامل احمر کے نام منسوب کیا ہے۔ اس موقع پر کامل احمر نے کہا کہ عامر بیگ کے پاس کہانیوں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو انہوں نے اپنی دنیا گردی اور معاشرتی تجربات سے حاصل کیا ہے اور اب وہ انہیں اپنے مخصوص افسانوی اسلوب میں قارئین کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔
تقریب کے ابتدائی حصے کی نظامت کے فرائض مرزا ارشد علی بیگ نے انجام دیے جنہوں نے عامر بیگ کی افسانہ نگاری کی باریکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عام سے واقعے کو بھی اتنی گہرائی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک بااثر اور بامعنی کہانی کا روپ دھار لیتا ہے۔ معروف افسانہ نگار جمیل عثمان نے چخ چخ پخ پخ کو ایک شاہکار افسانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ہر گھر کی کہانی ہے جسے عامر بیگ نے انتہائی خوبصورتی سے محسوس کر کے تحریر کیا ہے۔ صاحب کتاب کے ہمسائے ڈاکٹر حسن معراج نے ان کی شخصیات پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں ہرفن مولا قرار دیا اور ہمسایہ نیز کاروباری شراکت دار ہونے کا ذکر کیا جس سے حاضری لطف اندوز ہوئے۔
مہمان خصوصی اور فلسفے کے استاد پروفیسر اشرف عدیل نے عامر بیگ کی افسانہ نگاری کا نفسیاتی اور سماجی تناظر میں جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ عامر بیگ اپنے افسانوں کے ذریعے برصغیر کی طبقاتی تقسیم کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے افسانہ شکاری کا خاص طور پر حوالہ دیا اور کہانیوں میں مکالمہ نگاری کو افسانوی تکنیک کا ایک اہم پہلو قرار دیا۔
دیگر مہمان خصوصی ناصر علی سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ عامر بیگ نے افسانوں کو صرف لکھا نہیں بلکہ خود پر بیتا ہے۔ انہوں نے عامر بیگ کے اسلوب کا تقابل سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر سے کرتے ہوئے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہا۔ اس سے قبل حلقہ کے صدر ڈاکٹر عبد الرحمن عبد نے عامر بیگ کے پہلے افسانوی مجموعے مانتو پر اپنی لکھی ہوئی ایک مزاحیہ نظم پیش کی جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔
تقریب کے دوران باقاعدہ رونمائی فوٹو سیشن اور کیک کاٹنے کی رسم بھی ادا کی گئی۔ صدارتی خطبے میں عتیق صدیقی نے عامر بیگ کے افسانے گونگلو کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے اسے ایک کامل اور بہترین افسانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عامر بیگ کی تحریر میں جو مکالماتی انداز ہے وہ کسی بھی معیاری فلم میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عامر بیگ کا موازنہ کامل احمر اور جمیل عثمان جیسے منجھے ہوئے قلمکاروں سے کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ میں اردو افسانہ نگاری درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
صاحب کتاب عامر بیگ نے تمام مقررین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا اور اپنے تخلیقی ارتقا کا احوال بیان کیا۔ انہوں نے ان تمام شخصیات کا ممنونیت کے ساتھ ذکر کیا جنہوں نے ان کے ادبی سفر میں رہنمائی کی۔ واصف حسین واصف کی عدم موجودگی میں عامر بیگ نے ان کا لکھا ہوا فلیپ پڑھ کر سنایا نیز محمد حمید شاہد اور شکیل عادل زادہ کے مضامین کا ذکر کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
تقریب کے دوسرے مرحلے یعنی مشاعرے کی نظامت اعجاز بھٹی نے اپنے مخصوص سنجیدہ و طنز و مزاح سے بھرپور انداز میں انجام دی۔ مشاعرے میں اعجاز بھٹی ڈاکٹر قیصر طارق ڈاکٹر درخشاں تنویر رضیہ کاظمی ڈاکٹر عرفان الحق عامر بیگ مرزا ارشد علی بیگ پرویز فاروقی پروفیسر اشرف عدیل ناصر علی سید اور ڈاکٹر عبدالرحمن عبد نے اپنا کلام پیش کر کے حاضرین سے داد سمیٹی۔ اختتام پر صدر مشاعرہ ناصر علی سید نے آنجہانی شعرا اور دیگر مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کروائی۔
اس سے قبل شرکا کے لیے پرتکلف ضیافت کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ تقریب میں حلقہ ارباب ذوق پسکاٹوے نیو جرسی اور حلقہ ارباب ذوق پشاور کے مشترکہ مجلے احساس کی تعارفی رونمائی بھی ہوئی جس کی ادارت میں ناصر علی سید عتیق صدیقی اور عامر بیگ شامل ہیں۔ ناصر علی سید نے اپنے کلمات میں حلقہ ارباب ذوق پسکاٹوے کی انتظامیہ بالخصوص ڈاکٹر عبدالرحمن عبد زریں یاسین عامر بیگ ڈاکٹر طفیل محمد ملک ڈاکٹر قیصر طارق جمیل عثمان یاسین زبیری اقبال دانش ممتاز حسین پروفیسر حماد خان مرزا ارشد علی بیگ اور سیدہ عفت جبار کی ادبی خدمات کو سراہا۔ یوں یہ نشست ایک یادگار اور بھرپور ادبی شام ثابت ہوئی۔










