ابھی پاکستانی زندہ ہے!!!

0
2
سردار محمد نصراللہ

قارئین اور عزیزانِ وطن!!! وطن عزیز میں عجیب سی سیاسی کھچڑی پک رہی ہے بڑا میڈیا کنٹرول ہے سوشل میڈیا آزاد ہے اور بے مہار صوبوں کے مسلے کو پہاڑ بنایا ہوا ہے جبکہ ہر شخص جانتا ہے نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں اور یہ صوبے انتظامی بنیادوں پر نہی بنے چاہئیں بلکہ علاقائی اور کلچرل بنیادوں پر مسلا پنجاب تین صوبوں پر مشتمل ہونا چاہئے سندھ دو پر فرنٹئیر دو پر اور بلوچستان تین پر لیکن ہماری سو کالڈ اشرافیہ جنہوں نے صوبے کی رگوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑا ہوا ہے اور مقتدران کی آنکھوں کے نیچے خون چوس رہے ہیں اِن کو خوف ہے کہ اِن کی اجارادری پر ضرب لگتی ہے ۔ صدر مملکت کی ہمشیرہ بی بی تالپور نے کیا غضب کی تقریر فرمائی مرنے اور مارنے کی باتیں پھر سندھ کے چیف منسٹر صاحب اور ان کے حواریوں کی تقریریں واہ کیا لچھے دار تقریریں فرماتے ہیں چیف منسٹر صاحب کی کارکردگی کا پول تو کامران خان اپنے پروگرام نقطہ نظر میں کھول چکے ہیں پر شرم پھر بی نہیں آتی مرنے مارنے کی باتیں کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ جب مقتدران ان لوگوں کے کان مروڑتی ہے تو سب بھیکی بلی بن جاتے ہیں پنجاب کے شریف ہوں یاں سندھ کے زرداری اب خود بی بی مریم صفدر کے بیان سے ان لوگوں کی قابلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہہ رہی ہے کہ دہشت گردی ہندوستان سے نہیں ہوتی ہمارے اپنے ملک کے دو صوبوں سے ہوتی ہے اور اسی طرح کا بیان ہمارے فارم کے وزیر اعظم اور بی بی مریم صفدر کے چچا شہباز شریف نے طابان سے مودبانا گزارش کی تھی کہ میرے صوبے پنجاب کو چھوڑ کر باقی صوبوں کو اپنی زد میں لے لو خدارا پنجاب کو چھوڑ دو ۔ اسمبلی میں بیٹھے معتبران سے اپیل ہے کہ زرداریوں اور شریفوں کے خوف سے باہر نکل کر پاکستان کی ترقی پر زور ڈالیں اور ترقی اسی وقت ہو گی جب مزید ملک چھ یا سات صوبوں پر مشتمل ہوگا ۔
قارئین کلسادہ ہیں اسی اطار کے لونڈے سے دوا مانگتے ہیں جس کے سبب بیمار ہوئے کہ بجائے ہم جیسے تیسے بھی سیاسی لوگ ہیں مملکت کے بارے تھوڑی بہت تو سوج بوجھ رکھتے ہیں اپنی اسمبلیوں میں سر جوڑ کر صوبوں کا مسلہ حل کریں جو کہ بلکل مشکل نہیں ہے بجائے مقتدران کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے ڈنڈوں کے زور پر کروائیں لیکن بدقسمتی سے ہماری سیاسی جونکہ لالچ اور خودغرضی سے بھری پڑیں ہیں اور ہم کو مجبورا مقتدران کو پکارنا پڑتا ہے اور کیوں نہ پکاریں کہ فوج بھی اپنی ہے اور ان کے کمانڈر بھی اپنے ہیں اور انہونے ملک کی سرحدوں کے تحفظ اور ملک کی سلامتی کی قسم کھائی ہوئی ہے اب ان سے بھی اپیل ہے کہ جلد سے جلد صوبوں کا مسلہ حل کروا دیں نوازش ہو گی فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کیوں کہ آپ کہتے رہتے ہیں کہ (we have sacrificed a lot for this country تو اب وقت آگیا ہے کہ قوم ایک اور قربانی مانگتی ہے کہ ہمارے صوبے بنا دیں تاکہ ہم بدمعاشوں کی اجارا داری سے آزاد ہو سکیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں ۔
قارئین اور عزیزان وطن ! امریکہ میں لیبر ڈے کی چھٹی تھی تو ہمارے نواب زادہ میاں ذاکر نسیم حسین صاحب نے دوستوں کو اکھٹا کیا ہوا تھاکہ کہ لیبر ڈے کی خوشیوں میں سب کو شامل کریں کہ امریکہ میں پی ٹی آئی کے ممتاز لیڈر امجد نواز شاہ صاحب کو روکوں اور سمجھا کہ جب ہم پاکستان میں عمران خان کی رہائی کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں تو وہ شہباز شریف کے امریکہ آمد پر مظاہرہ کر کے عمران کی رہائی کے لئے مشکل نہ پیدا کریں اب کون سمجھائے نواب صاحب کو کہ کب کوئی بلا صرف دعاں سے ٹلی ہے شاہ صاحب اور ان کے ساتھی کب روکیں گے مظاہرہ کرنے سے یو این او کے سامنے اور ان کی بات نہ مانی جائے تو پھر ہماری نام نہاد فارم کینام نہاد حکمران آگ بگولہ ہو جاتیہیں اور پھر اپنے گلوں بٹوں کو گالیاں دینے اور دھمکیاں دینے پر معمور کر دیتے ہیں حالانکہ نواب صاحب گلوں بٹوں کے صف میں نہیں تو پھر انہوں نے امجد نواز شاہ صاحب کو شہباز کی آمد پر مظاہرہ کرنے سے کیوں روکا اللہ ہی جانتا ہے کہ نواب صاحب کی کیا مثلئت ہے دھمکی فاروڈ کرنے کی اللہ نوابوں اور جاگیر داروں کے جلال سے محفوظ رکھے آمین ۔ شنید ہے کہ شہباز شریف سپتمبر کو یو این اسمبلی کا کافی کھٹ اجلاس اٹینڈ کرنے آ رہا ہے میری اپیل ہے محب وطن پاکستانیوں سے نام نہاد حکمرانوں کے خلاف بھر پور مظاہرہ ہونا چاہئے تاکہ وطن میں ان کے جبر میں جکھڑے کروڑ عوام کو پتا ہونا چاہئے کہ ابھی پاکستانی زندہ ہے پاکستان زندہ باد !

سردار محمد نصراللہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here