ویںجشن آزادی پر چھائی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ

0
11

250 ویںجشن آزادی پر چھائی خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ

امریکہ میں جاری موجودہ موسمِ گرما کی یہ غیر معمولی اور پراسرار خاموشی ایک ایسے گہرے بحران کا پتہ دیتی ہے جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک دانشوروں اور تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ یہ تپتا ہوا موسم ملکی سیاست میں شدید ہیجان، احتجاج اور ممکنہ طور پر تشدد کی ایک نئی لہر لے کر آئے گا۔ متبادل پیش گوئیوں میں یہ تک کہا جا رہا تھا کہ کئی اہم شہر مڈبھیڑ اور بے امنی کا مرکز بن سکتے ہیں۔ تاہم اس وقت جب سورج اپنی پوری تمازت کے ساتھ آگ برسا رہا ہے، سڑکیں اور میدان ایک عجیب اور خوفناک حد تک پْرسکون منظر پیش کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا موسمِ گرما ہے جو اپنی تمام تر رعنائیوں اور سرگرمیوں کے باوجود اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں ناکام رہا ہے۔
اس سال امریکہ اپنی آزادی کی ڈھائی سویں سالگرہ منا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی سنگِ میل ہے جسے اب سے دس سال قبل کے روایتی امریکہ میں ایک عظیم الشان، پرجوش اور یادگار قومی جشن کے طور پر دیکھا جاتا۔ مگر آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ لوگ اپنے روزمرہ کے کاموں سے چھٹی تو لے رہے ہیں لیکن ان کے چہروں پر وہ فخر، خوشی اور جوش و خروش غائب ہے جو ایسے مواقع پر قوموں کا خاصہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگ عالمی فٹ بال مقابلوں میں اپنی قومی ٹیم کی حمایت کے لیے جمع ہوتے ہیں، تو ان کی تالیاں اور نعرے بھی دھیمے اور بے جان محسوس ہوتے ہیں۔ سفید لباس میں ملبوس کھلاڑیوں کو دیکھ کر داد دینے والے شائقین کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ وہ جس ٹیم کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، وہ دراصل کس امریکہ کی نمائندگی کر رہی ہے۔ وہ ملک جو اتحاد اور یکجہتی کا گہوارہ تھا، یا وہ جو نظریاتی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔
اس بے حسی اور خاموشی کا سبب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ قومی اداروں، ایوانِ صدر، پارلیمان اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلوں اور بیانات نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ریاست کے سربراہ نے اس عظیم قومی دن کو ایک ذاتی سیاسی مہم اور جلسے میں تبدیل کر دیا ہے۔ جب تاریخ کے سب سے بڑے قومی جشن کو کسی ایک فرد کی تعریف و توصیف اور خود نمائی کا ذریعہ بنا دیا جائے، تو عوام کا ایک بہت بڑا حصہ جو پہلے ہی سیاسی کھینچا تانی سے تھک چکا ہے، مایوسی اور بیزاری کا شکار ہو جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تو حکمران جماعت کے کٹر حامیوں میں بھی یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ قوم کی مشترکہ تاریخ اور شناخت پر کسی ایک شخص کا نام لکھ دینا حد سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔
اس بدلتے ہوئے رویے کے پیچھے کئی دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔ شدید گرمی، پٹرول اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور معاشی دباؤ اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سب سے گہرا سبب یہ ہے کہ اب عام شہری سیاست کے اس زہر آلود ماحول سے کچھ دیر کے لیے پناہ چاہتا ہے۔ دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے لے کر بائیں بازو کے نظریاتی کارکنوں تک، ہر شخص اب اپنے گھر کے پچھواڑے میں بیٹھ کر سکون سے وقت گزارنا چاہتا ہے، جہاں کوئی سیاسی نعرہ بازی نہ ہو اور نہ ہی کوئی تفرقہ انگیز تقریر کانوں میں رس گھولے۔ سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں کم از کم اس سالگرہ کے موقع پر ایک ایسا محفوظ گوشہ میسر آئے جہاں وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ذات سے بالاتر ہو کر صرف ایک پرامن دن گزار سکیں۔
یہ پرسرار جمود ایک عارضی جنگ بندی بھی ہو سکتا ہے۔ کیا ہم ایک ایسے طوفان سے پہلے کی خاموشی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس کا رخ آنے والے مہینوں میں مزید تباہ کن ہوگا؟ یہ عین ممکن ہے کہ عوام اس تاریخی جشن کو پرامن طریقے سے گزارنا چاہتے ہوں اور جیسے ہی یہ دن گزرے گا، ستمبر کے مہینے میں جب اسکول دوبارہ کھلیں گے اور روزمرہ کی زندگی معمول پر آئے گی، تو سیاسی جنگ کا وہ آخری مرحلہ شروع ہوگا جو ملک کے سیاسی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دے گا۔ حزبِ اختلاف کی ممکنہ کامیابیوں اور موجودہ صدر کی ماضی کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوچنا بالکل بھی غیر حقیقی نہیں ہے کہ وہ اقتدار کی اس جنگ میں خاموشی سے شکست تسلیم نہیں کریں گے اور ستمبر کے بعد ایک نیا محاذ کھول دیا جائے گا۔
آج کا امریکی شہری خوفزدہ ہے کہ اگر اس نے کسی جھنڈے کی طرف اشارہ کیا یا اپنی حب الوطنی کا کھل کر اظہار کیا، تو اسے کسی ایک سیاسی دھڑے کا حامی سمجھ لیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ خاموش رہنے اور کسی بھی قسم کی چنگاری کو ہوا نہ دینے میں ہی عافیت سمجھ رہے ہیں۔ دس سالوں کے مختصر عرصے میں اس عظیم قوم کا اس نہج پر پہنچ جانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا ہی ایک خاموش اور اداس جشنِ آزادی 1861 میں بھی گزرا تھا، جب ملک داخلی جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا چ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here