اردو شاعری میں مرثیہ گوئی کی صنف دکن، لکھنؤ ، اودھ اور امروہہ میں خوب پروان چڑھی۔ قبل از تقسیمِ ہند لکھنوی تہذیب و ثقافت پر مذہبی اور مسلکی رنگ نمایاں تھا۔ اْس دور میں لکھنو میں خدا? سخن میر ببر علی انیس اور مرزا سلامت علی کی مرثیہ گوئی کا خوب چرچا تھا۔ دونوں ہم عصر تھے۔ مرثیہ اردو کی وہ صنفِ سخن ہے جس میں کسی مرنے والے پر نوحہ کنانی ہو۔ یہ صنف امام حسین? سے منسوب ہو گئی ہے۔ اردو مرثیہ کے اجزا ? ترکیبی درجِ ذیل ہیں جو ٨ حصوں پر مْشتمل ہیں۔چہرہ، سراپا، رخصت، آمد، رجز، رزم، شہادت اور گریہ و زاری۔مرثیہ کی صنف فارسی شاعری سے اردو میں آئی۔ مّلا محتشم کاشی کے فارسی میں مرثیے لاجواب ہیں۔ اردو میں مرثیہ کا آغاز دکن میں قطب شاہی دور میں ہوا۔ مْلا وجہی اور محمد قلی قطب شاہ کا اولیّن مرثیہ گو شاعروں میں شمار ہوتا ہے۔سورت عزلت بھی ممتاز مرثیہ گو دکنی شاعر تھے۔ نوابینِ اودھ کی سر پرستی میں صنفِ مرثیہ کوعروج ملا۔ قدیم مرثیہ گو شاعروں میں میر ضمیر، میر خلیق، حیدر علی آتش ، رفیع الدین سودا ، میر مسکین ، میر انیس، مرزا دبیر اور جوش ملیح آبادی بڑے نام ہیں۔ جدید مرثیہ گو شاعروں میں نجم آفندی، نسیم امروہوی، سیّد آلِ رضا، رئیس امروہوی اور پروفیسر کرّار حسین نامور مرثیہ گو ہیں۔ فیض احمد فیض ، ناصر کاظمی اور احسان دانش نے بھی مرثیہ لکھا ہے مگر وہ ہمہ وقتی مرثیہ گو نہیں تھے۔
آغازِ مرثیہ گوئی میں مرثیہ کی کوئی مخصوص ہیئت نہ تھی۔ غزل کی طرز پر اس کا ہر شعر مفرد تھا۔ یہ طرزِ مرثیہ فارسی سے اردو میں آئی تھی۔ مرثیہ اردو کی وہ واحد صنفِ سخن ہے جس نے طویل سفر طے کیا اور آج وہ مسدس کی صورت میں زیادہ تر لکھا جاتا ہے اور جس کے ٨ اجزا? ترکیبی ہیں۔ قدیم مرثیہ روایتی اور مذہبی ہوتا تھا جس کا مقصد گریہ زاری اور حصولِ ثواب ہوتا تھا۔ لکھنؤ میں لکھے جانے والے اکثر مراثی اسی نوعیّت کے ہیں۔ جدید مرثیہ نگاری میں گریہ و حصولِ ثواب کے ساتھ ساتھ شہادتِ امام حسین? کے مقصد پر زور دیا گیا اور شہادتِ کربلا کو انسانی اور انقلابی نقط? نظر سے دیکھا گیا۔ اِس کا credit شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی کو جاتا ہے۔ جن کا یہ شعر زبان زدِ ہر خاص و عام ہے!
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پْکارے گی ہمارے ہیں حسین
جدید مرثیہ نگاری نے مرثیہ میں جذبات نگاری، کردار نگاری اور واقعہ سازی کے ساتھ ساتھ مقصدِ شہادتِ امام حسین اور انقلابی فکر کو شامل کر کے اسے زندہ جاوید کر دیا۔ مرثیہ میں جب حزن و ملال کا ذکر ہو تو یہ انگریزی صنفِ شاعری Elegy اور جب جنگ و بہادری کا ذکر ہو تو یہ Epic کے قریب ہوتا ہے۔ دنیائے ادب میں Virgil, Homer, Dante, pope اور William Shakespeare کر رزمیے اور ڈرامے فرضی اور تخیلاتی کہانیوں پرمشتمل ہیں جبکہ واقعہ کربلا کوئی فرضی داستان نہیں بلکہ ایک سچّا دلدوز تاریخی سانحہ ہے۔ اس کی منظر کشی بڑے محتاط انداز میں کی جاتی ہے کیونکہ اس کا تعلق روحانی اور مذہبی جذبات سے ہے۔ احتیاط لازم ہے۔ یعنی مرثیہ گوئی کارِ آساں نہیں بلکہ جْوئے شِیر لانے کے اور تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ مرثیہ کی ہیئت میں فنّی تبدیلی آتی گئی۔ مربع مرثیے لکھے گئے پھر مربع ترجیح بند میں اور آخر میں مسدس کی طرز پر مرثیہ لکھا گیا۔ انیس ، دبیر اور جوش کے مراثی بطرزِ مسدس ہیں۔ اس سے پہلی بار مرثیہ کو ” بند ” کی شکل میں لکھا گیا۔
خدائے سخن میر انیس کا کلام فصاحت و بلاغت، منظر نگاری، واقعہ نگاری، مکالمہ سازی، اور زبان کی شیرینی کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ کے مراثی کی کم و بیش تعداد ٠٥١ ہے۔ اْن کا یہ مرثیہ طویل ترین مرثیہ مانا جاتا ہے جس کا عنوان ہے۔ ”جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے”منظور علی علوی کی تصنیف” واقعاتِ کربلا اور مراثء میر انیس” اس موضوع پر جامع کتاب ہے۔ انیس کا یہ شعر لازوال شعر ہے۔ کہتے ہیں
عمر گزری ہے اِسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پْشت ہے شبیر کی مدّاحی میں
میر انیس کے باپ دادا اور اْن کے تین بیٹے بھی مرثیہ گو شاعر تھے۔ ضمیر اختر نقوی کی کتاب” خاندانِ انیس کے نامور شعرائ” میں خانوادہ انیس کے مرثیہ گو شاعروں کا تفصیلی تذکرہ ہے۔
مرزا سلامت علی دبیر کا شمار بھی نامور مرثیہ گو شاعروں میں شمار ہوتا ہے۔ میر انیس اور مرزا دبیر ہمعصر تھے۔ دبیر کے کلام میں علمیّت، فصاحت ، جذبات نگاری اور تاریخی حوالے ملتے ہیں۔ آپ قادر الکلام شاعر تھے۔ عربی اور فارسی زبان کے اثرات اْن کی شاعری میں نمایاں ہیں۔ آپ واقعہ کربلا سے اخلاقی اور اسلامی اقدار اخذ کرتے ہیں گویا آپ کو یہ کہنا کہ آپ ” تبلیغی مرثیہ گو” تھے بیجا نہ ہو گا۔ آپ کے ایک مرثیہ کے مشہور اشعار ہیں
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہاہے
رْستم کا بدن زیرِ کفن کانپ رہا ہے
ہر قصرِ سلاطینِ زمن کانپ رہا ہے
سب ایک طرف چرخِ کہن کانپ رہا ہے
شمشیر بکف دیکھ کے حیدر کے پسر کو
جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو
شبلی نعمانی کی کتاب” موازنہ انیس و دبیر” کے مطابق میر انیس جذبات نگاری اور مکالمہ نگاری میں زیادہ کامیاب رہے جبکہ مرزا دبیر تخّیل کی بلندی، شکوہِ الفاظ، اور فکر و فلسفہ کے بیان میں یدِّ طولیٰ رکھتے تھے۔
میر انیس، مرزا دبیر کے بعد آسمانِ مرثیہ پر جوش ملیح آبادی نیّرِ تاباں بن کر چمکے۔ جوش ملیح آبادی نے مسدس کی ہیئت میں مرثیے لکھے۔ آپ نے انیس و دبیر کے روایتی ، عقیدتی و مسلکی روش سے گریز کر کے واقعہ کربلا کو تسلسل سے بیان کرنے کی بجائے امام حسین کے انقلابی اور انسانی کردار کو عیاں کیا۔ آپ نے امامِ عالیمقام کو انقلاب، آزادی اور انسانی حقوق کے علم بردار کی حیثیّت میں پیش کیا۔ ” حسین اور انقلاب” آپ کا مشہور مرثیہ ہے۔ آپ کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے
کیا نمازِ شاہ تھی، ارکانِ ایمانی کے ساتھ
دل بھی جْھک جاتا تھا ہر سجدے میں پیشانی کے ساتھ
صرف رو لینے سے قوموں کے نہیں پھرتے ہیں دن
خْوں فشانی بھی ہے لازم اشک افشانی کے ساتھ
آنکھ میں آنسو ہوں، سینوں میں شرارِ زندگی
موج آتشِ بھی ہو ، بہتے ہوئے پانی کے ساتھ
عصرِ حاضر کے عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کے شعری مجموعہ” شامِ شہرِ یاراں” میں مرثیہ بعنوان” مرثیہ امام” شامل ہے۔ آپ امام حسین کو انسانیّت اور آزادی کا مینارہ نْور قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں
طالب ہیں اگر ہم تو فقط حق کے طلبگار
باطل کے مقابل میں صداقت کے پرستار
انصاف کے، نیکی کے، مرّوت کے طرفدار
ظالم کے مخالف ہیں، تو بیکس کے مدد گار
جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں ہے
جو جبر کا مْنکر نہیں ، وہ مْنکرِ دیں ہے














