ہم آپ کے ملک کا جھنڈا لے جانا چاہتے ہیں!!!

0
8
کامل احمر

1960 کے لگ بھگ کی بات ہے کہ مشہور شاعر تیغ الہ آبادی (مصطفیٰ زیدی) کی خودکشی کی خبر اخبار میں چھپی تو پورا پاکستان حیران رہ گیا لیکن پھر شہناز زیدی کے تعلق سے دلچسپ خبر بنی کہ وہ مصطفیٰ زیدی کے قتل میں ملوث ہیں۔ وہ کسی فوجی کی بیوی تھی لیکن مصطفیٰ زیدی سے جڑی ہوئی تھیں ۔خفیہ طور پر آنے والی خبروں میں لکھا تھا دونوں ایک دوسرے سے والہانہ محبت کرتے تھے دونوں نے خودکشی کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن وہ بچ گئی زہر صرف زیدی نے ہی پیا۔ یہ تو رومیو جولیٹ فلم کا آخر تھا جو شیکسپیئر نے لکھی تھی مگر اس میں رومیو کو غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ مر چکی ہے لہذا اس نے زہر پی لیا بعد میں جولیٹ کو پتہ چلا تو اس نے شیشے کا بچا ہوا زہر پی لیا۔ قانون کے تحت کورٹ میں کارروائی ہوئی اور ہوتی رہی پیشی پر کورٹ کے باہر لوگوں کا ہجوم ہوتا تھا شہناز زیدی کو دیکھنے کیلئے اور جنگ اخبار کورٹ میں شہناز زیدی سے سرکاری وکیل کے سوالات اور اسکے جواب زیر و زبر کے ساتھ شائع ہوتے تھے۔ جنگ کی اشاعت دوگنا اور اس سے بھی زیادہ ہو چکی تھی کہ نوجوانوں مردوں بوڑھوں کیلئے اس سے دلچسپ کہانی نہ تھی۔ شہناز زیدی نے اپنے شوہر کے ایما پر مصطفیٰ زیدی سے تعلقات بڑھائے تھے کہ وہ اْن سے اپنے شوہر کے کام کروائے۔ لیکن عوام سمجھ رہے تھے کہ اسے محبت تھی۔کچھ ایسا ہی اسحاق ڈار، ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ کے بھانجے رضا ڈار کی کہانی ہے جس نے سنگاپور میں 2025 میں دو لڑکیوں سے جن میں ایک ہالینڈ کی تھی اور دوسری برازیل کی میں ملاقات کی تھی یہ تینوں نئی اور ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن کے لین دین میں شریک تھے اور دونوں سے الوداع کہہ کر یا وعدہ کر کے پاکستان آ گئے تھے یہ پچھلے سال کی بات ہے لیکن اس کہانی میں کوئی محبت یا پیار نہیں ہے بلکہ بزنس ہے۔ ملزم رضا ڈار نے اپنا رعب جھاڑنے کیلئے بتایا تھا کہ اسکا ماموں اور دیگر رشتہ دار حکومت میں ہیں بس یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ وہ لڑکیاں خود سے ہی مختلف معاملات میں شریک تھیں اور مالدار بن رہی تھیں جنسی تعلقات ان کیلئے شجرِ ممنوعہ نہیں تھا اور وہ رضا ڈار کی دعوت پر یہاں آئیں۔ خیال رہے ویزا بھی ڈار نے دلوایا تھا۔ یہ بڑا گھٹالا ہو گیا جو آج میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہیں کہ رضا ڈار نے دوستوں کے ساتھ مل کر مزے کرنے کا سوچا لگتا ہے۔ کچھ دوست وحشی بن گئے۔ رضا ڈار بھی اندر ہے۔ اس کہانی میں کیا ہے وہ خود ہی جانتا ہے۔ پھر بٹ کوائنز کے لینے دینے پر بات بڑھی اور دونوں لڑکیوں کے ساتھ ان کے بقول جنسی زیادتی اور زبردستی ہوئی۔ وہ کسی دوسری جگہ لے جائی جا رہی تھیں کہ وہیں کار کاحادثہ ہوا اور وہ نکل کر بھاگ گئیں اور سڑک پر لیٹ کر چیخ و پکار کر دی۔ ملزم پکڑے گئے۔ اور اب اس کا کریڈٹ ڈی آئی جی آفس سیف سٹی لے رہے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ ہالینڈ کی لڑکی کے باپ نے مریم نواز آفس سے رابطہ کیا تھا اور خبر کے مطابق مریم نواز نے دو گھنٹے دیئے تھے۔ وہ لڑکیاں اپنے اپنے ملک جا چکی ہیں اور اب واپس نہیں آئینگی۔ ملزمان کو جس میں رضا ڈار بھی شامل ہے شناخت کرنے تک اب تک کیس کو اس قدر بگاڑ دیا ہے کہ رضا ڈار آزاد ہے۔
ایسے ہی معاملات کے باعث کورٹ میں کارروائی شروع ہوگی اور بند ہوگی ایسے ہی جیسے شہناز زیدی اور مصطفیٰ زیدی کی کارروائی شروع ہو کر بند ہو گئی تھی۔ لیکن وہ کیس مدتوں یاد رہا تھا اور لوگ شہناز زیدی کے لئے کہتے تھے شاعر کی غزل ہے۔ لڑکیاں بھی شاعر کی غزل بنیں اگر محبت میں مبتلا ہوتیں اور اس قسم کے کیس عام نہ ہوتے۔ ہم دونوں کیلئے کوئی اچھی رائے نہیں رکھتے۔
رضا ڈار کو بچانے کیلئے سیف سٹی نے بچکانے طریقے سے جو بیان دیا ہے آپ بھی پڑھ لیں اور سر پیٹ لیں۔ بتاتے چلیں ملزمان پر دفعہ 365A اور دفعہ 375A نافذ کر دی گئی ہے۔ بیان یوں ہے کہ غیر ملکی خواتین جاتے ہوئے بہت مطمئن تھیں انہوں نے کہا ہم آپ کے ملک کے نظام سے بہت مطمئن ہیں ہم آپ کے ملک کا جھنڈا لے جانا چاہتے ہیں اور ایئر پورٹ پر رات کے ساڑھے تین بجے ایک جھنڈا منگوایا گیا۔ ہمارا سوال اس بے وقوف سیف سٹی سے یہ ہے صرف ایک جھنڈا کیوں؟ جھنڈا نہ ملا ہوتا ہم فریم شدہ تصویر دے دیتے۔ اس کیلئے دل گردہ چاہیے کہ ہم آپ کے ملک کے نظام سے بہت مطمئن ہیں، شکریہ دونوں کا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here