گزشتہ روز لاہور میں ڈار فیملی کے چشم و چراغ کے کرتوتوں پر سخت ایکشن کی خیالی کہانیاں سنا سنا کر لفافہ صحافی ہلکان ہوئے جا رہے ہیں۔ نہ انہیں اپنے منصب کا، نہ اپنی عزت کا اور نہ ہی آخرت میں جوابدہی کا احساس ہے۔ یہ لفافے رضا ڈار کو بے گناہ ثابت کرنے پر تلے ہیں، حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اسحاق ڈار کا نواسہ لڑکیوں کے اغوا اور زیادتی میں ملوث تھا۔ بڑے لوگ بدکاریاں کریں یا خزانہ لوٹیں، ملک میں ضمیر فروش صحافیوں کی تمہیدیں ان کی اخلاقی پستی ظاہر کرتی ہیں۔ غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں ملوث ملزم وحید عرف باس گردہ نکالنے والے گینگ کا حصہ نکلا، جس کا تعلق ڈاکٹر فواد ممتاز اور مسلم لیگی ایم پی اے ثاقب چھدڑ سے نکلا ہے۔ ڈاکٹر ممتاز پاکستان میں غیر قانونی لیور ٹرانسپلانٹ کے مقدمات میں مجرم ہے۔ یہ گینگ ایک بڑا مافیا ہے جس کی وجہ سے مقدمے کی شفافیت کہیں نظر نہیں آئے گی کیونکہ یہ گینگ موجودہ حکومتی کارندوں کا گروہ ہے اور چند ماہ بعد شواہد نہ ملنے پر سبھی بری ہو جائیں گے۔
ڈار فیملی کے چشم و چراغ کے گھناؤنے جرم پر ہولا ہاتھ رکھنا ثابت کرتا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے صوبے میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون ہیں۔ ہائیکورٹ میں بیٹھے ججز غریبوں اور کمزوروں کے خلاف تو ازخود نوٹس لیتے ہیں جبکہ سی ٹی ڈی بھی بڑے مجرموں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے کمزوروں کو نشانہ بناتی ہے۔ آپ ان سیاسی گماشتوں میں سے جسے بھی کھنگالیں گے، نتیجہ صفر بٹا صفر ہی آئے گا۔ بڑے لوگوں کے جرائم بھی بڑے ہوتے ہیں جو طاقت کے زعم میں غیر ملکی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا جیسے سنگین جرائم میں مبتلا ہیں۔ ڈار فیملی کے چشم و چراغ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مل کر اسی قسم کے دھندے کرتے ہیں اور انہوں نے پوش علاقوں میں دفاتر، بنگلے اور فارم ہاؤسز بنا رکھے ہیں جہاں یہ لوگ دادِ عیش دیتے ہیں۔
قارئین، پاکستان میں پکنک پارٹیوں کے نام پر چلنے والے اکثر فارم ہاؤسز، ڈرگ اور جرائم کے اڈے بنتے جا رہے ہیں جو نوجوان نسل کے لیے تباہی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔ ان فارم ہاؤسز پر کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ، ان کے دوست اور بزنس کمیونٹی کے بگڑے نوجوان شامل ہوتے ہیں۔ یہاں مخلوط پارٹیز، ڈانس اور موسیقی کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ نشہ آور اشیاء ، شراب، حشیش، آئس، ہیروئن اور جنسی ادویات کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں۔ ان کو مقامی پولیس اور انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے کیونکہ ایسے فارم ہاؤسز مالدار، طاقتور اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی ملکیت ہوتے ہیں۔ ان فارم ہاؤسز پر آنے والے افراد کی اکثریت کھاتے پیتے گھرانوں سے ہوتی ہے جو مخلوط پارٹیاں ارینج کرتے ہیں جہاں ہر قسم کا نشہ وافر مقدار میں اور لڑکیاں دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ مخلوط محافل برائی اور جرائم کا گڑھ ہوتی ہیں۔
اکتوبر میں کراچی کے ایک فارم ہاؤس پر بارہ لڑکیوں کی موت واقع ہوئی جن کی انوسٹی گیشن دبا دی گئی۔ پنکی نامی ڈرگ ڈیلر کی گرفتاری پر ہوشربا انکشافات سامنے آئے جس میں بتایا گیا کہ ان کے گاہک ایسے ہیں جو ان سے نشہ خرید کر کالجز اور یونیورسٹیز کو سپلائی کرتے ہیں۔ ان کے کئی سو بڑے گاہک ہیں جن میں کئی سیاسی لوگ بھی شامل ہیں۔ نشہ بیچنے والوں کو اس کی ترسیل اور سپلائی کے لیے کسی بھی ناکے پر روکنے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ علاقے کا ایس ایچ او اور پولیس آفیسرز اس کالے دھندے کو چلانے کی بڑی رقم وصول کرتے ہیں۔ گزشتہ ستمبر میں کراچی کے فارم ہاؤسز میں ڈانس پارٹیز کے دوران ڈرگ اوور ڈوز سے بارہ لڑکیوں کی موت کا واقعہ پیش آیا جس کے اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں۔ مرنے والی لڑکیوں کو فارم ہاؤسز میں ہی دفنانے کا انکشاف ہوا ہے اور کمبل میں لپٹی لڑکی کی لاش سے متعلق بھی انکشافات ہوئے ہیں کہ متوفی لڑکی ملتان سے خریدی گئی تھی جسے ڈانس پارٹی کے لیے بک کرایا گیا تھا۔ اسی طرح لاہور کے ایک فارم ہاؤس پر جب ایک لڑکا اوور ڈوز سے ہلاک ہوا تو فارم ہاؤس کے مالک نے سیکیورٹی پر مامور شخص سے کہا کہ اس کی لاش باہر پھینک دو۔
جن والدین کے بچے کالجز اور یونیورسٹیز جاتے ہیں ان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کیونکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے ماں باپ کا خواب پورا کرنے کے لیے وہاں داخلہ لیتے ہیں جہاں وہ کچھ کرمنلز کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں مختلف قسم کے نشے کی لت لگاتے ہیں۔ یہ بچے ماں باپ کے خوابوں کو زمین برد کر کے نشے کی لت میں پڑ جاتے ہیں۔ صحت مند زندگی، خوشحالی اور دولت اللہ تبارک و تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ دولت ایک ایسی چیز ہے جو معاشرے میں وقار اور عزت کی علامت ہے جبکہ اچھا رہن سہن اور اچھی سواری صاحب حیثیت لوگوں کا حق اور اللہ رب العزت کی طرف سے انعام ہے۔ اس کا استعمال احسن طریقے سے کرنا انسانوں کا شیوہ ہے مگر کچھ لوگ امارت کے زعم میں تہذیب و تمدن بھول جاتے ہیں، معاشرتی اقدار کو داغدار کرتے ہیں اور اخلاقی قدروں کی پامالی کرتے ہیں، پھر بھی مہذب ٹھہرائے جاتے ہیں۔
جن لوگوں نے زندگی میں غربت سے امیری کا اچانک سفر کیا ہو، انہیں اپنی اوقات سے کبھی باہر نہیں نکلنا چاہیے۔ رزق کی فراوانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے جبکہ تحمل، برداشت اور رواداری اس نعمت کا شکرانہ ہے۔ مالک کائنات کو شکر گزار بندے پسند ہیں اور اکڑ، تکبر اور غرور اللہ رب العزت کو بالکل پسند نہیں۔ اللہ رب العزت نے جنہیں عزت، وقار اور مال و دولت سے نوازا ہے، اگر وہ ٹھہرے ہوئے لوگ ہیں تو اللہ کے ہاں ان کا ایک بڑا درجہ ہے کیونکہ شکر بندے میں انسانیت، اخلاقیات اور انسانی قدریں سکھاتا ہے اور عجز و انکساری پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نئے نئے دولت مند ہوتے ہیں مگر دولت کے خمار میں اپنی اصلیت بھول کر اوقات سے باہر نکل جاتے ہیں اور فیشن کے طور پر نشے اور شراب کو مشغلہ بناتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ان کے بچے اپنی حدود سے باہر نکل جاتے ہیں اور ماڈرن سوسائٹی میں فارم ہاؤسز پر میوزیکل نائٹ کے نام پر پارٹیاں کرتے ہیں۔ یہ بگڑے ہوئے نواب اخلاق باختگی کی تمام حدیں کراس کرتے ہیں اور کالجز اور یونیورسٹیز کی بچیوں کو گھیر گھار کر لاتے ہیں اور انہیں ہر قسم کا نشہ کراتے ہیں۔
یہ بچیاں ان درندوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی ہیں۔ یہ نو دولتیے معاشرے کا وہ ناسور ہیں جنہوں نے معاشرے کے ہر ستون کو زنگ آلود کر رکھا ہے۔ گزشتہ روز ہمارے وزیر خارجہ اور ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کے نواسے کے ہاتھوں دو غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا اور ان سے زیادتی کے واقعے نے قانون کے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا۔ بچیوں کی فارنزک انکوائری نہیں ہوئی، ان کا میڈیکل ٹیسٹ نہیں ہوا اور انہیں فوراً جہاز پر بٹھا کر ان کے ملک روانہ کر دیا گیا کیونکہ یہ بااثر لوگوں کے بگڑے ہوئے بچے تھے جن کی نظر میں پولیس، عدالت اور قانون کی کوئی حیثیت نہیں۔ جب قانون نوٹوں میں بکتا ہو تو معاشرے سے انصاف ناپید ہو جاتا ہے۔ جب تک اس ملک میں قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوگا، غریب اور کمزور کو انصاف نہیں ملے گا۔ سی سی ڈی کا ادارہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے مجرمان پر ہاتھ ہولا رکھتا ہے اور صرف کمزور اور چھوٹے مجرمان پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ ان کی حیثیت اونچی دکان پھیکا پکوان سے زیادہ نہیں ہے۔
پاکستان میں زیادہ تر جرائم کی پشت پناہی میں سیاسی اشرافیہ شامل ہوتی ہے جن کے ساتھ درجنوں جرائم پیشہ سیکیورٹی گارڈز ہوتے ہیں۔ یہ الیکشن کمپین میں جعلی ووٹ ڈلوانے اور لوگوں کو ہراساں کرنے کا کام کرتے ہیں۔ مقامی پولیس کی کرپشن سے مجرمان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ سیاسی لوگوں کی حفاظت پر مامور پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی اکثریت جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ہوتی ہے جن کے پاس غیر ممنوعہ بور کا خطرناک اسلحہ ہونا عام معمول ہے، پورے ملک میں اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ، ق لیگ، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے ٹکٹ ہولڈرز میں کرمنلز لوگ نظر آئیں گے جبکہ شریف النفس اور کمزور لوگوں کو ڈرا دھمکا کر الیکشن کے عمل سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ موجودہ فرسودہ سسٹم میں معاشرے کی اصلاح کا کوئی عنصر موجود نہیں ہے اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں کرپشن اور فارم ہاؤس کلچر عام بات ہو چکی ہے۔
حکمرانوں کو چاہیے کہ ان فارم ہاؤسز کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ نوجوان نسل خرافات سے محفوظ رہ سکے۔ اسی لیے اللہ جل شانہ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے باہمی اختلاط کی ممانعت فرمائی۔ پاکستان میں بے حیائی کے فروغ میں سوشل میڈیا نے انتہا مچا رکھی ہے۔ ان چیزوں کا تدارک چوروں، لٹیروں اور بے حیاؤں کے ٹولے سے ممکن نہیں۔ یہ کام جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی دوسری جماعت نہ کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی جماعت میں ایسی صلاحیت ہے۔ اس لیے ووٹ دیتے وقت اس چیز کا خیال ضرور رکھیں کہ آپ اپنی نوجوان نسل کا مستقبل کن خرکاروں اور بدکاروں کے ہاتھ میں دے رہے ہیں۔ پاکستان میں مسائل کا حل صرف جماعت اسلامی کر سکتی ہے۔ فحاشی، بے حیائی اور عریانی کا خاتمہ، اور چوروں و ڈاکوؤں کا صفایا صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی کر سکتی ہے۔ اس لیے آئندہ ووٹ کی امانت کو اس کے اہل لوگوں کے سپرد کریں جو ملک کے اسلامی تشخص کے امین ہوں، قوم کی جان، مال، عزت و آبرو کے پاسبان ہوں اور نظریاتی و اخلاقی قدروں کے پاسدار ہوں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ حرام خور بدکاروں کے ساتھ ہیں یا محب وطن، باصلاحیت اور دیانتداروں کے ساتھ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فیصلہ سازی کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے اور ملک میں باحیا اور صالح لوگوں کو اقتدار نصیب فرمائے۔ آمین۔









