آیت اللہ کو دفنانا مشکل !!!

0
9
رمضان رانا
رمضان رانا

اگرچہ انقلاب ایران کے بانی روحانی پیشوا امام خمینی کا بھی نماز جنازہ ادا کرنے میں دو ماہ لگے تھے جس پر مختلف علماء اکرام کے مختلف ردعمل پائے گئے تھے کہ میت کو دفنانے میں بلاجواز دیر نہیں کرنا چاہیئے مگر آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو آج چار ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ جو ابھی تک دفنائی نہیں گئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی قیادتوں پر قاتلانہ حملے ہیں کہ جس میں درجنوں ایرانی قیادتی رہنما، اہم عہدیدار اور فوجی اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔ اسرائیل جو کہ اعلانیہ طور پر ایرانی حکمرانوں، جنرلوں اور اہلکاروں کو مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے جس کی بنا پر آیت اللہ خامنہ کی میت کو دفنانا مشکل ہوچکا ہے۔ ایرانی قیادت کی حفاظت کی ذمہ داری پاکستان کی فوج نے لی ہے جو9 جولائی تک اپنی تمام روایات مناظرات، اور مزارعات کے بعد انہیں ایران میں دفنایا جائیگا۔ جو شاید صدر ٹرمپ کی نیتن یاہو کو وارننگ پر دفنا پائیں گے۔ جن کے اس دکھ وغم میں خصوصاً مسلم دنیا اور دوسرے رہنما شریک ہونگے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ صہیونی طاقت مشرق وسطیٰ کے مخالفین کو پہلے ماریں گی پھر دفنانے میں آڑے آئے گی جس طرح سامراجی طاقتوں نے عراقی صدر صدام حسین اور لیبیائی صدر کرنل قذافی کا حشر کیا تھا کہ صدر صدام حسین کو عراقی عدالتوں کے ہاتھوں پھانسی پر لٹکایا گیا جبکہ صدر کرنل قذافی کو دن دیہاڑے گلی کوچوں میں قتل کیا گیا تھا جن کی بدولت عرب اور مشرق وسطیٰ بچا ہوا تھا۔ جو آج ہر طرح سے لاوارث ہوچکا ہے جو بحالت مجبوری اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا۔ تاہم ایرانی قیادتوں کے پے درپے شہادتوں اور لاشوں کو دفنانے میں مشکلات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اب ایران جنگ جیتا نہیں بلکہ صرف دفاع کیا ہے۔
ایران کی سیاسی،معاشی اور مالی بدحالی ملک میں شدید انتشار اور خلفشار پیدا کریگی جس کی وجہ سے ایران میں جمہوریت اور اعتدال پسند قوتیں باہر نکلیں گی جو گزشتہ پچاس سالہ دور ملائیت اور بربریت کا خاتمہ چاہیں گئی تاکہ آمرانہ اور جابرانہ حکمرانوں کے خلاف ردعمل برپا ہو۔ جس کا دنیا بھر میں غلط یا صحیح مظاہرہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ جب لوگوں کے بنیادی حقوق پورا کرنے والا سوشلزم اور کمیونزم والے انسانی نظریہ حیات کے خلاف عوام نے حکمرانوں کو پلٹ دیا حالانکہ اس کمیونزم کے بعد مشرق یورپ کے عوام بھوکے ننگے ہوچکے ہیں۔ بہرکیف آج یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا ایران محفوظ ہے؟ کیا ایران کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہے جو اپنے آپ کو بچا پائے؟ کیا اب ایران ایک خودمختار اور آزاد ملک کہلائے گا؟ کیا ایران کے عوام کو اپنی مرضی سے زندگی بسرکرنے کا حق حاصل ہوگا؟
یہ وہ سوالات ہیں جس کا جواب مستقبل دے گا۔ بہرحال آج جو حالت ایران کی گئی ہے یہی حشر ایک دن پورے مشرق وسطی کا ہوگا جن کو ایک وقت میں مارا جائے گا۔ پھر لاشیں دفنانے نہیں دی جائیں گی کہ جب بھی کوئی عربی یا عجمی حکمران یا قیادت اسرائیل کیخلاف کوئی قدم اٹھائے گی۔ تو اس کا حشر آیت اللہ، صدام حسین اور کرنل قذافی جیسا ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ عربی اور عجمی کا فرق مٹا کر آپس میں اتحاد پیدا کیا جائے۔ ایک دوسرے کے ساتھ صدیوں پرانی دشمنی ختم کی جائے جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا امن برباد ہوچکا ہے۔ اگر یورپ صدیوں پرانی سینکڑوں جنگوں و اور انسانی کروڑوں لاشوں کے بعد اہل یورپ ایک پلیٹ پر جمع ہو سکتا ہے۔ تو مشرق وسطیٰ کے عوام کیوں نہیں آپس میں مل بیٹھنا پسند کریں گے۔ یہ اب سوچنے کا مقام ہے کہ ان سب کا اصل دشمن کون ہے؟
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here