کینیڈا میں موسمِ گرما!!!

0
10
ماجد جرال
ماجد جرال

کینیڈا میں موسمِ گرما کی آمد گویا فطرت کے ایک عظیم جشن کا آغاز ہوتی ہے۔ کئی ماہ تک برف کی سفید چادر اوڑھے رہنے والا یہ ملک جونہی دھوپ کی نرم کرنوں سے آشنا ہوتا ہے، درخت سبز لباس پہن لیتے ہیں، جھیلیں نیلے آئینوں کی طرح چمکنے لگتی ہیں اور آبشاروں کا شور زندگی کی نئی نوید سناتا ہے۔ ایسے میں سیاحت محض ایک مشغلہ نہیں رہتی بلکہ قدرت کے حسن سے ہم کلام ہونے کا ایک خوبصورت ذریعہ بن جاتی ہے۔
حالیہ سفر بھی اسی احساس سے بھرپور تھا جہاں نیاگرا فالز کی فلک شگاف گونج سے لے کر سلور لیک کی پْرسکون خاموشی اور پھر ماونٹ ٹرمبلانٹ کی دلکش وادیوں تک، ہر منظر قدرت کی صناعی کا ایک نیا باب کھولتا گیا۔ نیاگرا فالز کے سامنے کھڑے ہو کر انسان کو اپنی حیثیت کا احساس ہوتا ہے۔ ہزاروں ٹن پانی کا مسلسل بہاؤ، فضا میں بکھرتی ٹھنڈی پھوار اور سورج کی روشنی میں بنتا قوسِ قزح کا حسین منظر دل پر ایسا نقش چھوڑتا ہے جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔
اس کے بعد سلور لیک کی خاموش فضا نے جیسے شور سے بھرپور دنیا سے چند لمحوں کی نجات عطا کر دی۔ شفاف پانی، سرسبز درختوں کے عکس اور ٹھنڈی ہواؤں کی سرگوشیاں انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ سکون کسی دولت کا نام نہیں بلکہ قدرت کی قربت کا دوسرا نام ہے۔ سفر کا سب سے حسین پڑاؤ ماونٹ ٹرمبلانٹ تھا، جہاں بلند پہاڑ، گھنے جنگلات، رنگ برنگے پھول اور خوبصورت جھیلیں ایک ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جسے دیکھ کر بے اختیار زبان سے سبحان اللہ نکلتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھیلی ہوئی وادیاں یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے قدرت نے سبز رنگ کے مختلف شیڈز سے ایک عظیم الشان مصوری تخلیق کی ہو۔ یہاں آنے والا ہر شخص چند لمحوں کے لیے اپنی تمام پریشانیاں بھول کر صرف حسنِ فطرت میں کھو جاتا ہے۔
اس یادگار سفر کو مزید خوشگوار بنانے کا سہرا کلاس فیلو اور بچپن کے دوست عامر بشیر کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے نہایت خوبصورتی سے سیاحتی مقامات کا انتخاب کیا اور پورے سفر کی ایسی منصوبہ بندی کی کہ ہر منزل گزشتہ سے زیادہ دلکش ثابت ہوئی۔ اچھا سفر صرف خوبصورت مقامات سے نہیں بنتا بلکہ اچھے ہمسفروں سے بھی یادگار ہو جاتا ہے، اور اس سفر نے اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا۔
کینیڈا کی اصل خوبصورتی صرف اس کے پہاڑوں، جھیلوں اور آبشاروں میں نہیں بلکہ اس شعور میں بھی پوشیدہ ہے جس کے تحت یہاں قدرتی ماحول کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔ صاف ستھری سڑکیں، منظم پارکس، ماحول دوست طرزِ زندگی اور قدرتی وسائل کی حفاظت اس قوم کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والا ہر سیاح نہ صرف مناظر سے متاثر ہوتا ہے بلکہ اس نظم و ضبط کا بھی معترف بن جاتا ہے۔
گرمیوں کا کینیڈا انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ اگر فطرت کا احترام کیا جائے تو وہ اپنی بے مثال خوبصورتی کے خزانے انسان پر کھول دیتی ہے۔ نیاگرا فالز کی گونج، سلور لیک کی خاموشی، ماونٹ ٹرمبلانٹ کی دلکش فضائیں اور دوستوں کی رفاقت ہمیشہ زندگی کی حسین یادوں کا حصہ رہیں گی۔ ایسے سفر انسان کو صرف نئی جگہیں نہیں دکھاتے بلکہ زندگی کو نئے زاویے سے دیکھنے کا ہنر بھی سکھاتے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here