آج کل ہے حال جیسا وادیٔ کشمیر کا !!!

0
6

پاکستانی ہونے کے ناطے سرزمینِ کشمیر سے ہمارا تعلق تو بچپن سے ہی بہت گہرا اور مضبوط رہا ہے لیکن اس جنت نظیر خطے کو دیکھنے کے زیادہ مواقع انجینئیرنگ یونیورسٹی لاہور میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے میسر آئے۔ لاہور میں قیام کے دوران ویسے تو درجنوں کشمیری دوستوں کا ساتھ رہا لیکن میرپور کے عبدالحمید بھائی اور راولا کوٹ سے عرفان خورشید بھائی تو ہم جماعت ہونے کے ناطے دکھ سکھ کے ایسے ساتھی بنے کہ آج تک وہ قلبی تعلق برقرار ہے۔ کچھ سالوں بعد تیسرے کشمیری ہمدم کی قلبی دوستی اس وقت نصیب ہوئی جب کوٹلی سے تعلق رکھنے والے فضل الرحمان بھائی سے امریکہ میں ملاقات ہو گئی۔ گلشنِ کشمیر کے اعلیٰ درجات کے تو غالب بھی اتنے معترف تھے کہ انہیں میر کی شاعری کا موازنہ سرزمینِ کشمیر سے کرنا پڑا۔
میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالب
جس کا دیوان کم از گلشن کشمیر نہیں
کشمیر و فلسطین کی آزادی کے لیے احتجاجی تحریکیں مسلمانوں کی زندگیوں کا اٹوٹ انگ رہی ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی دعا تو ہر نماز کا باقاعدہ حصہ ہوتی ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہماری دعائیں ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے مظلوموں اور مجبوروں کے لیے ہوتی تھیں۔ ہمارے دل سید علی گیلانی اور دیگر مجاہدینِ کشمیر کے ساتھ دھڑکتے رہے۔ ہمارے تو خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب آزاد کشمیر کے شہری اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر آجائیں گے اور پاکستانی مقتدرہ ان پر وہ ظلم توڑے گی جو مقبوضہ کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے برداشت کر رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے دکانداروں کو دہشت گرد قرار دے دینا بھلا کہاں کی شرافت ہو سکتی ہے۔ ایک شاعر عبدالستار دانش کے الفاظ میں:
نقش ہے ہر ظلم جس کا وادیٔ کشمیر پر
اس نے دہشت گرد لکھا امن کی تصویر پر
پاکستانی سیاست کا عدمِ استحکام اب وادیء کشمیر کے انتظام و انصرام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ کشمیری مہاجرین کی بارہ نشستوں پر اس قدر اعتراضات تو پہلے کبھی نہ سنے گئے تھے جس کی وجہ سے سیاسی بے چینی اب نفرت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ عوام پر فائرنگ، راستوں کی بندش، غذا کی کمی اور ضروری ادویات کی قلت عام لوگوں کی روزمرہ کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ اندازہ تھا کہ پاکستان کی طاقتور مقتدرہ چند دنوں میں حالات پر قابو پالے گی لیکن امریکہ ایران کی جنگ کی طرح یہ بدحالی بھی طول پکڑ رہی ہے۔ یہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ عادل راہی کے مطابق:
ہے اثر اس طرح دل پر عشق کی تاثیر کا
آج کل ہے حال جیسا وادیء کشمیر کا
کشمیر ایک ایسا حساس علاقہ ہے جس کی خودمختاری کے حصول کی جدوجہد کو پوری دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اسی کی دہائی میں جب ہم تعلیم کے حصول کے لیے امریکہ آئے تو حیرت ہوئی کہ مقامی امریکی پاکستان کے نام سے تو ناواقف تھے لیکن کشمیر کے حالات کا انہیں پتہ تھا اور اس کی خود مختاری کے حصول کی جدوجہد کے بھی حامی تھے۔ موجودہ حالات دیکھتا ہوں تو حبیب جالب کے وہ طنزیہ اشعار یاد آجاتے ہیں جو انہوں نے بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستانی مقتدرہ کے لیے کہے تھے۔
حسین آنکھوں مدھر گیتوں کے سندر دیس کو کھو کر
میں حیراں ہوں وہ ذکر وادی کشمیر کرتے ہیں
ہمارے درد کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا
کہ ہر قاتل کو چارہ گر سے ہم تعبیر کرتے ہیں

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here