شمالی اوقیانوس کے عسکری معاہدے کی تنظیم یعنی نیٹو کا حالیہ انقرہ اجلاس محض ایک رسمی سفارتی ملاقات نہیں بلکہ اس بات کا کڑا امتحان ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بدلتی ہوئی دنیا میں یہ اتحاد اپنا وجود برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سوویت یونین کے کمیونسٹ نظریات اور اس کی عسکری قوت کو روکنے کے لیے قائم ہونے والا یہ اتحاد آج تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے باہر سے آنے والے خطرات سے زیادہ اندرونی تضادات، باہمی بے اعتمادی اور بدلتے ہوئے مفادات کا سامنا ہے۔ دنیا کا سب سے طاقتور عسکری گٹھ جوڑ کہلانے والا یہ اتحاد اس وقت بیک وقت روس کے ساتھ جاری کھلی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی، چین کے معاشی اثر و رسوخ اور سب سے بڑھ کر امریکی قیادت کی بدلتی ہوئی ترجیحات کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ ماضی میں اس اتحاد کی بنیاد اجتماعی دفاع کے اس مضبوط اصول پر تھی کہ کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا، لیکن آج خود یورپی ممالک کا امریکہ پر سے وہ روایتی اعتماد اٹھ چکا ہے جو دہائیوں تک اس تنظیم کا بنیادی ستون رہا ہے۔ واشنگٹن میں بدلتی ہوئی سیاسی سوچ اور بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے سخت گیر رویے نے اس عسکری اتحاد کے مستقبل پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ امریکہ کا اب واضح مؤقف ہے کہ یورپی ممالک نے اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود اٹھانے کے بجائے تمام مالی اور فوجی بوجھ امریکی عوام پر ڈال رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب امریکی حکام اس اتحاد کو ایک نئے نظریے کے تحت چلانا چاہتے ہیں جہاں یورپ کو اپنے دفاع کے لیے خود بھاری سرمایہ کاری کرنا ہو گی اور امریکہ کا کردار صرف اپنے براہِ راست مفادات تک محدود رہے گا۔اگرچہ امریکہ کے مسلسل دباؤ کے نتیجے میں برطانیہ، پولینڈ اور جرمنی جیسے بڑے یورپی ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، لیکن محض دولت کے بل بوتے پر عسکری خود مختاری حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یورپ کے سامنے اصل چیلنج صرف پیسہ بہانا نہیں بلکہ جدید ترین ہتھیاروں کی مشترکہ پیداوار، ہم آہنگ کمانڈ نظام اور طویل مدتی جنگی حکمتِ عملی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے وہ آج بھی امریکی افواج اور اس کے جدید جنگی ڈھانچے کے محتاج ہیں۔ یوکرین کی سرزمین پر جاری ہولناک جنگ نے یورپی ممالک کی نیندیں اڑا دی ہیں، جہاں پولینڈ اور بالٹک ریاستیں روس کو اپنی بقا کے لیے ایک فوری خطرہ تصور کرتی ہیں، مگر دوسری طرف خود یورپی دانشوروں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ نیٹو کی مسلسل مشرق کی طرف توسیع ہی نے روس کو اس جارحیت پر مجبور کیا۔ اس مسلسل جنگ اور یوکرین کو فراہم کی جانے والی بے پناہ عسکری امداد نے تنازعے کو حل کرنے کے بجائے طویل بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہتھیاروں کی ایک خطرناک دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ جب ریاستیں عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی فنڈز کاٹ کر اپنے دفاعی بجٹ کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر لے جاتی ہیں، تو معاشروں میں عدم استحکام اور ایک جارحانہ قوم پرستی جنم لیتی ہے جو عالمی امن کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے بحران، بالخصوص ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نیٹو کے لیے ایک اور محاذ کھول دیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے، جہاں سے دنیا کی توانائی اور تیل کی رسد کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے، اب براہِ راست خطرے کی زد میں ہیں۔ ایران کے معاملے پر بھی نیٹو کے اندر وہ یکجہتی نظر نہیں آتی جو روس کے خلاف دکھائی دیتی ہے، کیونکہ امریکہ ایک سخت ترین فوجی پالیسی کا حامی ہے جبکہ اہم یورپی طاقتیں سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ترجیح دیتی ہیں۔ نیٹو کے ناقدین کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ یہ تنظیم اپنے اصل جغرافیائی دائرہ کار سے نکل کر مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے معاملات میں مداخلت کرتی رہی ہے، جس کے نتائج ماضی میں انتہائی ہولناک نکلے۔ افغانستان میں دو دہائیوں کی طویل عسکری مداخلت کے باوجود وہاں کوئی سیاسی استحکام نہ آ سکا، جبکہ 2011 میں لیبیا پر کی جانے والی فوجی کارروائی نے اس ملک کے پورے ریاستی ڈھانچے کو تباہ کر کے رکھ دیا جو آج تک بحال نہیں ہو سکا۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ صرف عسکری طاقت کے ذریعے سیاسی اور تہذیبی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے بلکہ یہ مزید نئے بحرانوں کو جنم دیتے ہیں۔
اس پورے منظر نامے میں ترکی کا کردار سب سے زیادہ پیچیدہ اور متضاد نظر آتا ہے جو جغرافیائی طور پر یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے نیٹو کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ترکی نیٹو کی دوسری بڑی فوجی قوت ہونے کے باوجود اکثر معاملات میں اپنے مغربی اتحادیوں سے بالکل الگ راہ اختیار کرتا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال روس سے جدید ترین دفاعی میزائل نظام کی خریداری ہے۔ انقرہ اجلاس کا میزبان ہونے کے باوجود ترکی مسلم دنیا اور بالخصوص غزہ کے معاملے پر سخت بیانات دیتا ہے، جس سے مغربی حلقوں میں یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ ترکی اس اتحاد کو محض اپنے علاقائی مفادات اور طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب مسلم ممالک کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی اتحاد یعنی اسلامی نیٹو کا تصرور بھی ابھر رہا ہے جس میں ترکی مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ جیو پولیٹیکل ماہرین کے مطابق یہ ممکنہ اسلامی اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے مغربی طاقتوں کی توسیع کا ایک بالواسطہ حصہ بھی بن سکتا ہے، جو خطے میں امن قائم کرنے کے بجائے ایک نئی عسکری صف بندی اور ہولناک تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ دوسری طرف چین کا معاملہ، جسے چند سال پہلے تک نیٹو کے لیے سب سے بڑا تزویراتی چیلنج قرار دیا جا رہا تھا، اب یورپی ممالک کے معاشی مفادات کی وجہ سے پسِ منظر میں چلا گیا ہے کیونکہ جرمنی جیسی بڑی معیشتیں چین کو ایک خطرے کے بجائے ایک ناگزیر تجارتی شراکت دار سمجھتی ہیں۔ ان تمام اندرونی تضادات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نیٹو اب صرف ایک عسکری اتحاد نہیں رہا بلکہ متصادم قومی مفادات کا ایک انتہائی پْرپیچ سیاسی اکھاڑہ بن چکا ہے، جہاں اراکین کا ایک دوسرے پر سے بھروسہ دن بدن کمزور ہو رہا ہے۔ اگر نیٹو کے اراکین ایک مشترکہ سیاسی وڑن اور متفقہ دفاعی حکمتِ عملی اپنانے میں ناکام رہے، تو دنیا کے اس سب سے بڑے عسکری اتحاد کا زوال اندرونی انتشار کے باعث خود بخود شروع ہو جائیگا۔
٭٭٭









