واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران ایران میں جاری موجودہ عسکری تنازع کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلط کردہ ایک لاپرواہ اور انتہائی مہنگی جنگ قرار دیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ بلاجواز عسکری مداخلت امریکی عوام کے لیے معاشی اور سماجی سطح پر ایک سنگین تباہی ثابت ہو رہی ہے۔ حکیم جیفریز کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے آغاز کے لیے امریکی آئین کے مطابق کانگریس سے کوئی باقاعدہ منظوری نہیں لی گئی اور نہ ہی موجودہ انتظامیہ کے پاس اس دلدل سے نکلنے کا کوئی واضح منصوبہ یا حکمتِ عملی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی ایوان نے حال ہی میں جنگی اختیارات کے حوالے سے ایک مشترکہ قرارداد بھی منظور کی ہے جس کا مقصد اس تنازع کا فوری خاتمہ ہے، تاہم اسے موجودہ حکومتی اراکین اور سپیکر مائیک جانسن کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ڈیموکریٹک رہنما نے موجودہ جنگ کو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، گیس اور روزمرہ خوراک کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اس وقت عوام کو درپیش سستی رہائش، علاج معالجے، بجلی و گیس کے بلوں اور دیگر بنیادی ضرورتوں کے بحران کو حل کرنے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ حکیم جیفریز نے موجودہ حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ڈیموکریٹس سخت پارلیمانی نگرانی کے ذریعے احتساب کو یقینی بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتخابی عمل کی شفافیت اور رائے دہندگان کے تحفظ کے لیے شروع کی گئی ایک ملک گیر مہم پر بھی روشنی ڈالی۔ انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے معروف جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت شفافیت کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے جس کے نتیجے میں اب تک لاکھوں خفیہ دستاویزات منظرِ عام پر لائی جا چکی ہیں۔













