ذکر الٰہی کا ایک اہم قاعدہ ہے جسے سمجھنا، یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا خیر و برکت کا باعث بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ اللہ کو یاد کرو اور اس فرمان کہ اللہ کو کثرت سے یاد کرو میں بہت بڑا فرق ہے۔ لفظ کثرت ہی وہ بنیادی محور ہے جس پر ذکر کے فوائد کا دارومدار ہے۔ جیسا کہ سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 41 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ اے ایمان والو! اللہ کا ذکر کرو، بہت زیادہ ذکر کرنا۔ اس بات کی دلیل رسول اللہ ۖ کا وہ فرمان بھی ہے جس میں آپ ۖ نے ہمیں جمعہ کے دن درود پڑھنے کی وصیت فرمائی۔ آپ ۖ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ مجھ پر درود پڑھو، بلکہ فرمایا کہ پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔ قرآن و سنت کی روشنی میں درج ذیل چھ اذکار وہ تیز دھار ہتھیار ہیں جو غموں، دکھوں، بیماریوں اور گناہوں کے خلاف طویل جنگ میں انسان کا دفاع کرتے ہیں۔
ان میں پہلا ذکر درود شریف یعنی اللَّھْمَّ صَلِّ وَسَلِّم عَلَی نَبِیّنَا مْحَمَّدٍ ہے، جسے سارا دن پڑھنے کا معمول بنا لینے سے انسان کثرت کرنے والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ دوسرا ذکر کثرت استغفار یعنی اَستَغفِرْ اللَّہَ واَتْوبْ عِلیہِ ہے، جو اپنے گناہوں کی معافی اور رزق کی کشادگی کے لیے زبان پر جاری رکھنا چاہیے۔ تیسرا ذکر یا ذا الجلال والاکرام کی کثرت کرنا ہے جو ایک ایسی سنت ہے جسے تقریباً بھلا دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ یا ذا الجلال والاکرام کو لازم پکڑ لو اور کثرت سے پڑھا کرو۔ اس میں یا ذا الجلال سے مراد اے عظمت، کمال اور بزرگی والے، اور والاکرام سے مراد اے عطا اور جود و سخا والے ہے۔ جب انسان دن میں سینکڑوں بار اللہ کو اس کے جلال اور کرم سے پکارتا ہے، تو وہ حاجت کو جانتے ہوئے ضرور عطا فرماتا ہے۔
چوتھا ذکر لا حول ولا قوة الا باللہ ہے، یہ کلمہ رسول اللہ ۖ نے کئی صحابہ کو وصیت فرمایا اور اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ ایک روایت کے مطابق جب بندہ یہ کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے خود کو میرے سپرد کر دیا اور سر تسلیم خم کر دیا۔ پانچواں ذکر دعائے یونس علیہ السلام یعنی لَا اِلَ اِلَّا َانتَ سْبحَانَک ِانِّی کْنتْ مِنَ الظَّالِمینَ ہے، یہ ذکر غموں کو مٹانے والا اور پریشانیوں سے نجات دلانے والا ہے۔ چھٹا ذکر چار کلمات یعنی الباقیات الصالحات سْبحَانَ اللَّہِ، وَالحَمدْ الِللہِ، وَلَا اِلا َ ِالَّا اللَّہْ، وَاللَّہ اکبَرْ ہے، یہ کلمات اللہ کو تمام کلاموں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
اذکار اور دعاؤں کا اصل فائدہ اور ثمر چند بنیادی چیزوں میں پوشیدہ ہے جن میں عاجزی و اصرار کے ساتھ اللہ سے بار بار مانگنا، مقدار میں زیادہ ذکر کرنا، بار بار دہرانا اور دل کی حاضری و غور و فکر شامل ہیں۔ انسان جتنا زیادہ ذکر کرے گا، اتنی ہی اللہ کی محبت پائے گا، جتنا دعا میں اصرار کرے گا، اتنی ہی جلدی قبولیت آئے گی اور جتنا ذکر کی تکرار کرے گا، اتنا ہی شیاطین اور حسد کے زہر سے نجات پائے گا۔ شیخ ابن عثیمین اکثر سورہ البقرہ کی آیت نمبر 223 یعنی اور جان لو کہ تم نے اس اللہ سے ملنا ہے کی تکرار فرمایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کی قسم! اگر ہمارے دل زندہ ہوتے، تو اس کلمے کا ہمارے نفسوں پر گہرا اثر ہوتا۔











