امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں رومزہ اشیاء کی چیزیں ایک دفعہ اوپر جاکر واپس آتی ہیں یعنی عوام کی بہتری اور بھلائی کے لئے منتخب نمائندے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں اس کی واضح مثال صدر اوبامہ کے دور میں پیٹرول کی فی گیلن قیمت چھ ڈالر تک پہنچ گئی ایسی پالیسیز بنائیں گئی حکومت نے عالمی قیمتوں کے حساب نہیں بلکہ حکومتی فنڈز سے آئل بحران کو کنٹرول کیا عوام کی سہولت کے لئے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کئے جس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتیں دوبارہ دو ڈالر فی گیلن پر آگئیں اس میں کوئی شک شبہ نہیں کہ عالمی مارکیٹ میں بحران بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ حالیہ امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے نتیجے میں امریکہ میں بہت زیادہ اثرات ہوئے پیٹرول کی قیمت پندرہ دنوں میں دو ڈالر فی گیلن کا اضافہ ہے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ جب پیٹرول کی قیمت بڑھیں تو رومزہ اشیاء کی قیمتیں بڑھیں امریکی عوام نے اپنے تفریحی سفر اور چھٹیوں کے سفر کو روک دیا۔ لوگ سڑکوں پر کم نظر آتے ہیں اب ٹرمپ حکومت کو آئندہ انتخابات میں مشکلات پیش آسکتی ہیں مشکلات کے باوجود صدر ٹرمپ پیٹرول پر حکومتی ٹیکس ختم کرنے کا سوچ رہے ہیں جس سے پیٹرول کی قیمتیں دوبارہ نیچے آئیں گی یہ بھی گزارش کرتا چلوں اکثریت میں پاکستانی حلال بزنس گروسری سٹورز والے حکومتی مراعات کے باوجود قیمتیں کم نہیں کرتے۔ اور پاکستانی مائنڈ سیٹ رکھتے ہوئے لوگوں کوEXPIRE چیزیں بھی بیچتے ہیں ۔ کرونا بحران کی قیمتیں جو کافی حد تک نیچے آگئیں لیکن ہمارے پاکستانی کاروباری حضرات وہی قیمتیں وصول کر رہے ہیں ۔ امریکہ کا انتخابی سسٹم بہت زیادہ ٹرانسپرینٹ اور شفاف ہے عوام ووٹ جس کو ڈالیں اسی کو پڑتا ہے کوئی دھاندلی نہیں کرسکتا پاکستان کی طرح نہیں ہے فارم 45 کو47 بنا کر جھوٹے اور ہارے ہوئے ٹاوٹوں کو جتایا جائے۔حالیہ جنگ میں پاکستان میں آئل کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ وزیر خزانہ نے تین مارچ کو کھا کر پاکستان کے پاس اٹھائیس دن کا آئل محفوظ ہے لیکن 8 مارچ کو امریکہ ایران جنگ شروع ہوئی بہانہ بناتے ہوئے نو مارچ سے آئل کی قیمتوں میں دو سو روپے لیٹر کا اضافہ کردیا گیا امریکہ میں یہ جھوٹ اور انتخابی دھاندلی نہیں چلتی اس لیے امریکی سیاستدانوں کو اپنی کارکردگی کی فکر ہوتی ہے اب چند ماہ بعد امریکہ میں کانگریس کی چار سو پنتیس اور سینٹ کی کچھ سیٹوں پر عوام کے براہ راست ووٹوں سے انتخابات ہورہے ہیں ہر پارٹی کو اپنی اپنی فکر ہے۔ خاص طور پر امریکی عوام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے سخت ناراض ہیں اور مہنگائی کا طوفان ریپبلکن پارٹی کے لئے بڑے چیلنج سے کم نہیں ہے۔ امریکی انتخابات میں کئی مسلمان پاکستانی بڑے متحرک نظر آرہے ہیں پاکستانی کمیونٹی میں چند غیر سنجیدہ لوگ سیاسی کوششوں میں مصروف ہیں واشنگٹن میٹروپولیٹن بالٹی مور ایریا میں کئی پاکستانی امریکن ایسے ہیں جو انفرادی طور پر بہت کامیاب ہیں لیکن اجتماعی طور پرزیروہیں بزرگ کہتے ہیں جو انسان وہ بننے کی کوشش کرے جووہ نہیںہے تو کامیابی ممکن نہیں کئی پاکستانی امیدوار ایسے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں صرف اس الیکشن میں حصہ لیتے چلو کانگریس کے الیکشن لڑنے پر نام توآجائیگا۔ پاکستانی خاتون کئی تو کامیاب ہیں اور اپنے اسلامی طور طریقوں پر قائم رہتے ہوئے سیاست میں اپنا تشخص بڑی کامیابی سے قائم ہوئے ہیں لیکن کئی امیدوار ایسے ہیں کہ بار بار ہارنے کے باوجود ہر دفعہ فنڈریزنگ کرکے جعلی حرکتیں کرکے پھر دوبارہ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ ان کو خود معلوم ہے وہ کبھی نہیں جیت سکتے دوست احباب اور کمیونٹی کے لوگ بھی ان شخصیات سے پریشان ہیں کہ یہ دوستوں کا اور اپنا وقت فنڈز اور کوششوں کو ضائع کرتے ہیں آزاد کشمیر کے چند لوگ بھی فیس بک پر ایک تقریب کی دس دس پوسٹوں کو پوسٹ کرکے آزادی جدوجہد کشمیر کا نام لیتے ہیں یہ لوگ اب بھی90 کی دہائی میں رہ رہے ہیں چند کمیونٹی مافیاز ان منافقوں اور دو نمبر کشمیری خود ساختہ رہنمائوں کو پروموٹ کر رہے ہیں یہ کشمیری جعلی خود ساختہ رہنما پاکستان میں مختلف چینلوں کو مالی مدد کرکے جھوٹی خبریں بھی پیش کرتے ہیں انتخابات کسی بھی قوم کی ترقی اور تنزلی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں پاکستانی امریکنز سے درخواست ہے کہ ووٹ ضرور ڈالیں اس بات کا خیال رکھیں یہ جعلی فیک دو نمبر خود ساختہ رہنمائوں کا محاسبہ بھی کریں ان کی جھوٹی تقریبات سے بچیں تاکہ جو بھی یہ جھوٹے منافق اور مال بنانے والے مرد خواتین کو احساس ہو کہ وہ اس عہدے یا سیٹ کے لئے اہل نہیں ہیں۔ اور کسی اور مستحق پاکستانی امریکن کوموقع دیں جب تک ہماری کمیونٹی ان جعلی امیدواروں اور خود ساختہ جھوٹے کشمیری اور پاکستانیوں کا محاسبہ نہیں کریں گے کبھی کامیابی ممکن نہیں ہے اپنی کمیونٹی کو امریکہ میں بہترین مقام پر لانے کے لئے ہمیں جھوٹی تقریبات ایوارڈ بندر بانٹ سالگرہ کلچر اور پاکستانی کشمیری سیاسی جعلی خود ساختہ ورکروں اور جھوٹے مشیروں کا محاسبہ کرنا ہوگا تاکہ یہاں امریکہ میں کمیونٹی کیلئے کشمیر کیلئے اور پاکستان کی بہتری کے لئے زیادہ جوش خروش سے ایماندار اور سنجیدہ رہنمائوں کے ساتھ مل کر کام کرسکیں۔
٭٭٭٭٭٭














