ڈاکٹر شہباز گل: قیادت کا نیا انداز!!!

0
24
عامر بیگ

جدید دنیا میں لیڈرشپ کو صرف سیاست تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ امریکہ اور یورپ کی یونیورسٹیاں آج ایسے پروگرام تشکیل دے رہی ہیں جہاں نوجوانوں کو صرف کاروبار چلانا نہیں بلکہ ادارے، معاشرے اور ریاستیں سنبھالنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ گوگل، ایپل، مائیکروسافٹ، ٹیسلا اور ایمزون جیسی عالمی کمپنیاں محض ٹیکنالوجی کی پیداوار نہیں بلکہ مضبوط قیادت کا نتیجہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بزنس ایڈمنسٹریشن اور لیڈرشپ اسٹڈیز کو مستقبل سازی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے تعلیم کو صرف نوکری کے حصول تک محدود کر دیا گیا، حالانکہ اصل کامیابی وہی قومیں حاصل کرتی ہیں جو نوجوانوں میں قیادت کا شعور پیدا کرتی ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں اگر حالیہ برسوں میں کسی شخصیت نے نوجوان نسل کو سب سے زیادہ متاثر کیا تو وہ عمران خان ہیں۔ ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ انہوں نے پاکستانی نوجوان کو خواب دیکھنے اور سوال اٹھانے کا حوصلہ دیا، جس کی وجہ سے ان کے اردگرد ایسے افراد بھی سامنے آئے جنہوں نے روایتی سیاسی کلچر سے ہٹ کر جارحانہ انداز اپنایا۔ ڈاکٹر شہباز گل انہی شخصیات میں سے ایک ہیں جن کا وی لاگ دیکھنے اور سننے کا موقع ملتا ہے، وہ اپنے تجزیوں میں جس مہارت کا ثبوت دیتے ہیں ویسا ایک کہنہ مشق صحافی ہی دے سکتا ہے، جبکہ ان کی صحافتی تعلیم اور تجربہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ امریکہ کی جامعات سے وابستہ رہنے والے اور مینجمنٹ اور لیڈرشپ میں اعلیٰ تعلیم رکھنے والے گل نے پاکستانی سیاست میں اس وقت روایتی بیوروکریٹک انداز کے بجائے ایک متحرک اور بے باک طرز گفتگو متعارف کرایا جس وقت پاکستانی سیاست اور صحافت دونوں عدم برداشت کے دور سے گزر رہے تھے۔
ڈاکٹر شہباز گل کی شخصیت کا بنیادی وصف یہی ہے کہ وہ روایتی سیاسی احتیاط سے زیادہ کھل کر بولنے پر یقین رکھتے ہیں، جو ان کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں یہی ان کا وطیرہ رہا اور اب جبکہ وہ پاکستان جانے کے حالات سے دور امریکہ میں بیٹھ کر حکومت اور حکومتی اداروں پر سخت تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں، تو ان کی معلومات مستند ہوتی ہیں، اور کیوں نہ ہوں کیونکہ وہ اس حکومتی جدوجہد کا حصہ رہے ہیں جہاں سے خبریں نکلتی ہیں اور بنائی جاتی ہیں۔ بہرحال پاکستانی سیاست میں آنے والے دنوں میں اصل معرکہ نظریات اور قیادت کا ہوگا۔ روایتی سیاست دم توڑ چکی ہے کیونکہ اب عوام میں اس کی پذیرائی نہیں رہی بلکہ صرف ایک چل چلاؤ کا ماحول ہے، جبکہ نوجوان نسل ایسے رہنماؤں کی تلاش میں ہے جو صرف تقریریں نہ کریں بلکہ اپنی شخصیت میں اعتماد اور وڑن بھی رکھتے ہوں۔
ڈاکٹر شہباز گل کے بارے میں یہ رائے بے جا نہیں کہ اگر وہ اپنے جارحانہ وی لاگز کو حکمت کے ساتھ مزید متوازن کر لیں اور تنقید کو معاشرے اور حکومت کی بہتری کے لیے استعمال کریں تو مستقبل میں بڑی سیاسی ذمہ داریاں سنبھال سکتے ہیں۔ قدرت نے انہیں وصفِ خاص سے نوازا ہے اس لیے انہیں اور مراد سعید کو اس پہلو پر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔ عمران خان کو اللہ صحت کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے لیکن دنیا فانی ہے اور ویسے بھی خان نے اپنے قریبی ساتھیوں کو اسی انداز میں تیار کیا ہے جیسے ایک کپتان اپنے مستقبل کے کھلاڑیوں کو میدان میں اتارتا ہے۔
قوموں کی تاریخ میں ایسے کردار ہمیشہ اہم ہوتے ہیں جو روایت کو چیلنج کریں، نئے سوالات اٹھائیں اور نوجوان نسل میں خود اعتمادی پیدا کریں۔ پاکستان کو آج صرف سیاستدان نہیں بلکہ ایسے لیڈرز درکار ہیں جو دنیا کی جدید قیادت، علم، کاروبار اور ریاستی نظم کے تقاضوں کو سمجھتے ہوں۔ پاکستان میں اس وقت قیادت کا شدید بحران ہے اور گنتی کے چند لیڈر رہ گئے ہیں کیونکہ اسٹوڈنٹ پالیٹکس پر پابندی ہے جہاں سے کبھی حقیقی لیڈر پیدا ہوا کرتے تھے، اور اب اس کی جگہ لیڈر مبینہ طور پر واہ فیکٹری یا ٹیکسلا کے کمپلیکس جیسے بند ماحول میں اسمبلڈ ہوتے ہیں۔ اگر ہماری جامعات ہمت کریں اور واقعی لیڈرشپ پیدا کرنے لگیں، اگر سیاسی جماعتیں موروثیت کے مائنڈ سیٹ سے نکل کر میرٹ کو جگہ دیں اور اگر سیاسی اختلاف کو دشمنی کے بجائے جمہوری حسن سمجھا جائے، تو قیادت کے لحاظ سے پاکستان کا مستقبل بھی یقیناً روشن ہو سکتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here