فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
25

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! تاجدارِ کشورِ ولایت حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ کی مجلسِ وعظ کا یہ پرسوز واقعہ حجاجِ کرام، عیدِ قربان کی خوشیاں منانیوالوں اور تمام مسلمانوں کے لیے عشقِ الٰہی کی کشش کا ایک زندہ جاوید پیغام اور بہت بڑا ثبوت ہے۔ایک دن بغداد کے سب سے وسیع میدان میں آپ رضی اللہ عنہ کا جلسہ وعظ منعقد ہوا۔ جوں ہی آپ نے تقریر شروع فرمائی، ہر طرف آہوں کا دھواں اٹھنے لگا اور خشیتِ الٰہی کی ہیبت سے کلیجے شق ہو گئے۔ کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو فرطِ اثر سے اشکبار نہ ہو۔ اثنائے وعظ میں احمد بن یزید نامی خلیفہ بغداد کا ایک مصاحب بڑے کروفر سے آیا اور ایک طرف مجلس میں بیٹھ گیا۔ اس وقت آپ یہ فرما رہے تھے کہ تمام مخلوق میں انسان سے زیادہ ضعیف کوئی مخلوق نہیں ہے، لیکن باوجود اس ضعف کے وہ خدا کی نافرمانی کرنے میں سب سے زیادہ جری اور بہادر ہے۔ احمد بن یزید کے دل پر آپ کے اس جملے کا اتنا گہرا اثر پڑا کہ وہ وہیں گھائل ہو کر رہ گیا۔ دل کے قریب سلگتی ہوئی آگ نے ریاست و امارت کی ساری آن بان کو آنِ واحد میں خاکستر کر کے رکھ دیا اور اب اس کے پہلو میں ایک مسکین و درویش کا دل دھڑک رہا تھا۔ شاہانہ کروفر کی دنیا یکسر بدل چکی تھی اور وعظ کی مجلس ختم ہونے کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو ایک نامعلوم ہیجان سے اس کے دل کی دنیا زیر و زبر ہو رہی تھی۔ ساری رات بے چینی اور اضطراب میں گزری۔
صبح ہوتے ہی وہ حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ چہرے کی افسردگی، آنکھوں کا خمار اور آواز کی بے خودی بتا رہی تھی کہ یہ شخص اپنے آپ میں نہیں ہے۔ اس نے بڑی مشکل سے عرض کیا کہ حضور! رات کا نشتر جگر سے پار ہو گیا ہے اور میں عشقِ الٰہی کی آگ میں سلگ رہا ہوں۔ خدا کے سوا ہر چیز سے میں نے اپنے دل کی انجمن کو خالی کر لیا ہے۔ اب مجھے وہ راستہ بتائیے جو بارگاہِ یزدانی تک پہنچاتا ہو کیونکہ میری کشتی بیچ منجدھار میں ہے، اسے ساحل تک پہنچا دیجیے۔ حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر تسکین کا ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا کہ صبر و شکیب سے کام لو، رحمتِ الٰہی اس راہ کے مسافروں کی خود دستگیری فرماتی ہے۔ تم نے دریافت کیا ہے تو سن لو کہ خدا تک پہنچنے کے دو راستے ہیں۔ عام راستہ تو یہ ہے کہ فرائض کی پابندی کرو، سجدہ عبادت کے کیف سے روح کو سرشار رکھو، گناہوں سے بچو، شیطان کی پیروی سے اپنی زندگی کو محفوظ رکھو اور مشاغلِ دنیا سے تعلق رکھتے ہوئے سرکارِ مصطفیٰ ? کی غلامی کا حق ادا کرو۔ خاص راستہ یہ ہے کہ دنیا سے بالکل بے تعلق ہو جاؤ اور یادِ الٰہی میں اس طرح بے خود ہو جاؤ کہ خدا سے بھی سوائے خدا کے کسی دوسری چیز کی طلب نہ رہے۔
حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ کی گفتگو ابھی یہاں تک ہی پہنچی تھی کہ حضرت احمد بن یزید کے منہ سے ایک چیخ بلند ہوئی اور وہ عشقِ الٰہی کے اضطراب میں بے خود ہو کر گریبان اور دامن کی دھجیاں اڑاتے ہوئے صحرا کی طرف نکل گئے۔ کچھ دنوں کے بعد احمد بن یزید کی بوڑھی ماں روتی ہوئی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آبدیدہ ہو کر عرض کیا کہ حضور! میرا ایک ہی فرزند تھا جسے دیکھ کر میں اپنی آنکھوں کی تشنگی بجھاتی تھی، چند دنوں سے وہ نہ جانے کہاں غائب ہو گیا ہے۔ ہمارے پڑوسیوں نے خبر دی ہے کہ ایک شب وہ آپ کی مجلسِ وعظ میں شریک ہوا تھا اور اسی وقت سے اس کی حالت غیر ہے۔ آپ کے چند جملوں نے اسے دیوانہ بنا دیا ہے اور اب مجھے اپنی اولاد کا ماتم کرنا ہو گا۔ حضرت نے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے ضعیفہ! صبر و شکر سے کام لے، تیرا بیٹا ضائع نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے پاس آئے گا میں تجھے خبر دوں گا، خدا کی طرف بڑھنے والوں کا ماتم اختیار کرنا خدا کی وفادار کنیزوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔
چند ہی دنوں کے بعد گرد آلود چہرے، پراگندہ بالوں اور ایک سرشار دیوانے کی سج دھج میں احمد بن یزید دوبارہ حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ چہرے پر نظر پڑتے ہی حضرت نے جلالِ عشق کا تیور پہچان لیا، اٹھ کر انہیں سینے سے لگایا، خیر و عافیت دریافت کی اور بہت دیر تک اپنے پاس بٹھائے رکھا۔ اسی دوران ان کی ماں کو اطلاع بھجوائی گئی کہ تمہارا بیٹا آ گیا ہے، آ کر ملاقات کر لو۔ ماں کو جیسے ہی خبر ملی، وہ اپنی بہو اور پوتے کو ساتھ لے کر روتی پیٹتی اپنے بیٹے کے پاس آئی اور اس کے چہرے کی بلائیں لیتے ہوئے کہنے لگی کہ بیٹا! تو اپنی بوڑھی ماں اور بیوی کو چھوڑ کر کہاں چلا گیا ہے؟ تیرے فراق میں روتے روتے ہمارے آنچل بھیگ گئے اور انتظار میں آنکھیں پتھرا گئیں۔ اب واپس چل اور اپنے گھر کو آباد کر کیونکہ ہماری امیدوں کا چمن مرجھا گیا ہے، پھر سے اسے شاداب کر۔ اس موقع پر بیوی نے بھی فرطِ غم سے منہ ڈھانپ لیا اور سسکیاں بھرتے ہوئے کہنے لگی کہ میرے سرتاج! آخر ہم سے کیا بھول ہوئی کہ تم اس طرح روٹھ کر چلے گئے اور جیتے جی اپنے بچے کو تم نے یتیم بنا دیا۔ تمہارے سوا ہمارے ارمانوں کا کون نگران ہے؟
ماں اور بیوی نے ہزار منت و سماجت کی لیکن وہ دیوانہ عالمِ ہوش کی طرف پلٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ روح پر سرورِ عشق کا اتنا گہرا نشہ تھا کہ ہزار جھنجھوڑنے کے بعد بھی اس کا عالم نہ بدلا۔ ایک دیوانہ عشق کا یہ کیف دیکھنے کے لیے سارا شہر امنڈ آیا تھا۔ وہ دیوانہ ایک بار پھر بے خودی کی حالت میں اٹھا اور صحرا کی طرف رخ کیا۔ قدم اٹھنا ہی چاہتے تھے کہ پیچھے سے بیوی نے دامن تھام لیا اور آبدیدہ ہو کر کہنے لگی کہ اگر ہماری آرزوؤں کا خون کر کے جانا ہی چاہتے ہو تو اکیلے مت جاؤ بلکہ اپنے بچے کو بھی ہمراہ لے لو۔ اس درد بھری آواز پر احمد بن یزید کے قدم رک گئے۔ انہوں نے اپنے ننھے منھے بچے کے جسم سے قیمتی لباس اتار کر اپنا پھٹا ہوا کمبل اس کے جسم پر لپیٹ دیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں زنبیل تھی اور دوسرے ہاتھ سے بچے کو پکڑ کر جونہی وہ اسے اپنے ہمراہ لے کر چلے، بیوی اس دردناک منظر کی تاب نہ لا سکی اور غش کھا کر گر گئی۔ سارا مجمع اس رقت انگیز عالم کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا۔۔۔۔۔ جاری ہے۔
٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here