محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ بہت سے وجوہات کے باعث میں نے علوم فلکیات اور مخفی علوم پر لکھنا بند کر دیا ہے کیونکہ میں نے کبھی علم کو کاروبار نہیں بنایا، لیکن اپنے علم دوست احباب کا میں دل سے قدر دان ہوں۔ آج آپ کی خدمت میں ایک ایسی سبق آموز حکایت پیش کر رہا ہوں جس کے اصل مصنف کا نام انٹرنیٹ پر نہ مل سکا، تاہم اس کا عنوان میں نے بہترین مینیجر رکھا ہے۔ یہ تحریر درج ذیل ہے، اسے پڑھیے اور لطف اٹھائیے۔
ایک بڑی کمپنی کو مینیجر کے عہدے کے لیے کسی انتہائی قابل شخص کی تلاش تھی، مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدواروں کے درجنوں انٹرویوز کے باوجود کوئی بھی نوکری حاصل نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کمپنی کا مالک انٹرویو پینل میں خود بیٹھتا تھا اور آخر میں ہر امیدوار سے یہ سوال ضرور پوچھتا کہ ایک اچھے مینیجر کی سب سے خاص بات کیا ہوتی ہے۔ کوئی امیدوار وقت کی پابندی بتاتا، کوئی پیشہ ورانہ مہارت، تو کوئی ایمانداری اور تجربے کو اچھے مینیجر کی پہچان کہتا، تاہم مالک ان جوابات پر مطمئن نہ ہوتا۔ پینل کے دیگر ارکان بھی اس تجسس میں تھے کہ آخر مالک کے نزدیک مینیجر کی سب سے خاص خصوصیت کیا ہو سکتی ہے۔
ایک روز ایک سادہ سے حلیے والا نوجوان انٹرویو دینے آیا۔ پینل کے ارکان اسے طنزیہ نظروں سے دیکھنے لگے کہ جب بڑے بڑے ماہرین ناکام ہو گئے تو یہ عام سا انسان کہاں منتخب ہو پائے گا۔ نوجوان نے پینل کے سوالات کے انتہائی اعتماد سے جوابات دیے، جس کے بعد مالک نے اپنا وہی سوال دہرایا کہ ایک اچھے مینیجر کی سب سے بہترین خصوصیت کیا ہوتی ہے۔ نوجوان نے پورے اعتماد سے مسکرا کر کہا کہ جناب، اچھا مینیجر وہی ہے جو کمپنی کے معاملات کو مالک سے بھی زیادہ بہتر سمجھتا ہو اور جس کی موجودگی میں مالک برائے نام مالک ہی کہلائے۔ یہ جواب سن کر پینل کے ارکان نوجوان کی اس بے باکی پر تلملا اٹھے اور اسے زبان سنبھالنے کی تنبیہ کرنے لگے، تاہم مالک نے انہیں خاموش کروایا اور نوجوان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے سیکھی۔
نوجوان نے جواب دیا کہ جناب، اپنے گھر سے اور اپنے والدین سے۔ اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے والد گھر کے سربراہ تھے، یعنی کمپنی کے مالک تھے جن کے ذمے کفالت تھی، لیکن گھر کو مینیج کرنے والی ہماری امی تھیں۔ کس کے کپڑے، جوتے، کتابیں اور کھلونے کہاں رکھے ہیں، صفائی ستھرائی، کھانا پینا، سب کو صبح جگا کر تیار کرنا، اسکول بھیجنا، لباس کی مرمت، بیماری میں دیکھ بھال اور مہمانوں کی مہمان نوازی، یہ سب انتظام میری امی ہی سنبھالتی تھیں اور وہ ایک شاندار مینیجر تھیں۔ کبھی ہم ابو سے کچھ پوچھتے تو وہ کہتے کہ مجھے کیا معلوم، اپنی امی سے پوچھو۔ حتیٰ کہ خود ابو کا موبائل، پرس، چابیاں اور دفتر کی فائلیں تک امی ہی سنبھالتی تھیں، اس لیے ہم ابو سے کہتے تھے کہ آپ تو بس برائے نام ہی گھر کے مالک ہیں اور ابو بھی ہنس کر اعتراف کرتے تھے کہ امی کے ہوتے ہوئے انہیں کوئی فکر نہیں ہوتی۔ بس جناب، میرے نزدیک اچھے مینیجر کی یہی تعریف ہے۔
کمپنی کے مالک نے تحسین آمیز نگاہوں سے نوجوان کو دیکھا اور پینل سے کہا کہ اس نوجوان کے جواب کے پیچھے عمر بھر کا مشاہدہ اور ایک ٹھوس نظریہ ہے۔ مجھے بھی ایسا ہی مینیجر چاہیے جس کے ہوتے ہوئے میں برائے نام مالک اور ایک بے فکر شخص بن جاؤں۔ یہ کہہ کر مالک نے نوجوان کو منتخب کر کے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور پینل کے ارکان تالیاں بجانے لگے۔
اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ دوسروں کو قائل کرنے کے لیے رٹی رٹائی کتابی باتوں کے بجائے سادہ الفاظ، عملیت پسندی اور فطری مشاہدات سے کام لیں تو آپ زیادہ معتبر ٹھہریں گے۔ میری دعا ہے کہ یہی معیار انتخاب ہمارے اداروں میں بھی قائم ہو جائے تاکہ میرا وطن ترقی کر سکے اور اس کا ثمر عام آدمی تک پہنچ سکے۔ خوش رہیے، آپ سے ملتے ہیں اگلے ہفتے کے کالم میں۔















