سب سے پہلے گھر کو دیکھو!!!

0
28
جاوید رانا

ہم نے اپنا گزشتہ کالم امریکی صدر کے دورہ چین کے حوالے سے جس تجزئیے پر ختم کیا تھا اور جن تحفظات کا اظہار کیا تھا وہ بہت حد تک درست ہی نکلے، قارئین اس دورے کی جزئیات و تفصیلات سے یقیناً واقف ہو چکے ہیں ہم محض یہی عرض کر سکتے ہیں کہ صدر شی چھائے رہے اور صدر ٹرمپ کے شانے جھکے رہے۔ عدم اعتماد و بھروسے کا اظہار امریکی ٹیم کے اس اقدام سے کیا جا سکتا ہے کہ ایئر فورس ون پر سوار ہونے سے قبل چین کی جانب سے دیئے گئے تمام تحائف و اشیاء کو ٹریش کر دیا گیا، یہی نہیں دو عالمی طاقتوں کی ملاقاتوں کے حوالے سے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہ کیا گیا۔ باہمی تعلقات کا تو ذکر ہی کیا، شنید یہ ہے کہ کاروباری و سرمایہ کاری کے ناطے بھی کوئی قابل ذکر خبر نہ بن سکی۔ مبصرین و تجزئیہ کاروں کے عالمی و باہمی ایشوز پر اندازوں اور توقعات پر بھی گویا اوس ہی پڑ گئی، نہ حالیہ ایران امریکہ تنازعے کے ناطے کوئی پیش رفت سامنے آسکی نہ ہی دو طرفہ یا عالمی ایشوز کے تناظر میں، البتہ تائیوان کے حوالے سے صدر شی نے اسے ریڈ لائن قرار دیا۔ مرزا غالب کے بقول ”بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا”۔
چین سے بے نیل و مرام واپسی کے بعد صدر ٹرمپ و امریکی ایڈمنسٹریشن نے ایک جانب ایران پر دوبارہ حملہ آور ہونے کا دعویٰ کیا تو دوسری جانب پانچ کڑی شرائط بیک ڈور طریقے سے ایرانی قیادت کو پہنچائی گئیں، صدر ٹرمپ اپنی فطرت کے مطابق جنگ چھیڑنے اور معاہدہ کرنے کے دعوے کی منطق پر ڈولتے رہے حتیٰ کہ سکیورٹی ٹیم کے اجلاس کی نوبت پر خبریں سامنے آنے لگیں، ہماری ان سطور کے تحریر ہونے تک ہوا یہ ہے کہ سعودی ولی عہد، امیر قطر و یو ای اے کے صدر کی مذاکرات کی اپیل پر صدر ٹرمپ نے جنگ مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور دھمکی بھی دی ہے کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں بڑے حملے کیلئے تیار ہیں۔
ٹرمپ کے آئے دن بدلتے ہوئے بیانات اور امریکی انتظامیہ کے اقدامات کے تسلسل تو اپنی جگہ، حقیقت حال تو وہی ہے جس کا ذکر ہم بارہا کرتے رہے ہیں یعنی گریٹر اسرائیل کا قیام اور اُمت مسلمہ میں پھوٹ و مسلم ریاستوں کا خاتمہ کرنا۔ اس ایجنڈے کے حصول کیلئے مقصد صرف بین المملکتی نیز اندرونی انتشار برپا کرنا ہے۔ گزشتہ ہفتہ اس حوالے سے ہونیوالے متعدد واقعات اس حقیقت کی گواہی ہیں۔ اسرائیل بھارت اور یو اے ای کا نیکسس، مودی کا یو ای اے سمیت چار ممالک کا دورہ اور متحدہ عرب امارات و بھارت کا دفاعی معاہدہ نیز اربوں ڈالرز کے معاہدے، پاکستان کے حوالے سے آر ایس ایس کے رہنما و سابق سربراہ راہ کے عوام سے عوام اور ریاستی تعلقات پر مؤقف اور بھارت کے موجودہ چیف آف ڈیفنس کی دھمکی کے علاوہ عراق میں موجود اسرائیلی بیسز سے سعودی عرب و امارات پر حملے نیز امریکی ایڈمنسٹریشن کی اس واقعے سے لا علمی بے معنی نہیں ہیں۔ حالات جس رخ پر جا رہے ہیں وہ حقیقتاً مسلم دنیا کو بے امان و ختم کرنے کے ایجنڈے پر عمل پذیری کے سواء کچھ نہیں، اسرائیلی ایجنڈے میں بوجوہ براہ راست یا بلا واسطہ امریکہ کا کردار بھی واضح ہو چکا ہے۔
حالات پر نظر ڈالیں تو اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل میں عراق، شام، لیبیا، اُردن، مصر کے انجام کا مرکزی کردار امریکہ ہی رہا، غزہ پر چڑھائی سمیت لبنان و ایران کی دشمنی و غارتگری میں بھی امریکی حصہ داری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ رہا پاکستان تو گزشتہ برس بھارت کی بدترین شکست، رسوائی و ذلت کے سبب ایک جانب امریکی پالیسی پاکستان سے مثبت و مصالحت سے عبارت نظر آتی ہے تو دوسری جانب اسرائیل و بھارت کا نیکسس پاکستان کیخلاف سازشی منصوبوں اور عملی دشمنی میں پراکسیز کے توسط سے کمر بستہ ہے، دکھ یہ ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار یہود، ہنود و نصاریٰ کی ان سازشوں کو یا تو سمجھ ہی نہیں رہے ہیں یا اپنی عسکری و سفارتی کامیابیوں کے سبب اس خوش فہمی میں ہیں کہ ان کیخلاف کچھ نہ ہو سکے گا۔ مثل مشہور ہے کہ گھر مضبوط ہے تو جگ مضبوط ہے اور گھر کمزور ہے تو لوگ صحن میں رستے بنا لیتے ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ عسکری و ڈپلومیٹک نکتۂ نظر سے الحمد اللہ پاکستان مضبوط و کامیاب ہے لیکن کیا وطن عزیز کے داخلی امور سیاسی و جمہوری اور معاشی و معاشرتی طور پر ہمارا تشخص بھی قومی امنگوں اور اجتماعیت کا مظہر ہے۔ تفصیل سے گریز کرتے ہوئے حالیہ ملکی صورتحال کا جائزہ لیں تو کیا سیاسی بے چینی، 28 ویں آئینی ترمیم کا شور و غوغا، حکومتی پارٹنرز کے درمیان خلیج اور سب سے بڑھ کر معاشرتی بگاڑ بالخصوص انمول پنکی کے حوالے سے نسل کشی کے حقائق، معاشرے، ملک و قوم کے مفاد اور وحدت و استحکام کا اشارہ دیتے ہیں یا اضطراب و بے چینی کا۔ ارباب اقتدار کو گھر کی جانب بھی توجہ دینی ہوگی تب ہی عالمی امتیاز کا حصول مکمل ہوگا۔سیاسی و انتقامی مخالفت سے بلند ہو کر وطن کا سوچنا چاہیئے، امریکی ذمہ داران اور نمائندوں نے بھی اب واضح کردیا ہے کہ سائفر سابق آرمی چیف کی سازش کا نتیجہ تھا۔عدالت نے بھی خان کومبرا کردیا تھا۔ ارباب اقتدار کو سوچنا اور عمل کرنا ہوگا کہ سب کو ایک روز دنیا سے جانا ہے اور حساب دینا ہے اور حساب اس پر ہوگا کہ وطن اور عوام کیساتھ انصاف کیا تھا؟۔
٭٭٭٭٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here