ماں کی قدر اور اہمیت!!!

0
31
رعنا کوثر
رعنا کوثر

ماں کی قدر اور اہمیت!!!

ماں ایک قیمتی تحفہ ہے اور دنیا کا کوئی بھی متبادل اس کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ دن روایتی جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ جب تک قارئین تک یہ تحریر پہنچے، یہ دن گزر چکا ہو لیکن ماں کی اہمیت اور اس کی محبت کا کوئی ایک دن مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اولاد ماں کے لیے کتنی ہی آسائشیں فراہم کر دے، کتنے ہی پھول اور گلدستے اس کی خدمت میں پیش کر دے، اسے حقیقی دلی سکون اور اطمینان صرف اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب اسے اس بات کا پختہ یقین ہو جائے کہ اس کی اولاد ہمیشہ اس سے محبت کرتی ہے اور اس کا خیال رکھتی ہے۔
اس حقیقت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس مخصوص دن کو نہ منایا جائے، کیونکہ موجودہ دور میں اس دن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دنیا بھر میں بچے اس دن کو منانے کے لیے خصوصی انتظامات کرتے ہیں، تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ مغربی معاشروں بالخصوص امریکہ جیسے ممالک میں یہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے اس ایک دن تو بہت اہتمام کرتے ہیں لیکن باقی پورا سال ان کا وقت اپنی ذاتی مصروفیات اور سرگرمیوں میں ہی گزر جاتا ہے۔ موجودہ دور کی گہما گہمی اور بے پناہ مصروفیات نے انسان کو اس حد تک جکڑ لیا ہے کہ ہر شخص یہی کہتا نظر آتا ہے کہ وہ اپنے والدین کے لیے وقت نہیں نکال پا رہا۔ اس صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ والدین ہمیشہ انتظار ہی کرتے رہ جاتے ہیں اور انہیں اولاد کی طرف سے نہ تو مناسب وقت مل پاتا ہے اور نہ ہی وہ خدمت، جس کے وہ حقدار ہیں۔ سال بھر میں صرف ایک دن تحفہ دے کر اولاد یہ سمجھ لیتی ہے کہ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے اور وہ کئی دنوں تک اسی خوشی میں مگن رہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ماں کو ایک قیمتی تحفہ دے دیا۔
تحفے تحائف اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ماں کی دعا روزانہ لینے کی چیز ہے۔ اگر اولاد روزگار یا کسی اور وجہ سے دور رہتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ روزانہ فون پر رابطہ کرے، ماں کی دیکھ بھال کرے اور خوش دلی سے ان کے لیے وقت نکالے۔ موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دور رہ کر بھی والدین کی دیکھ بھال ممکن ہو چکی ہے۔ ان کی ادویات کا بروقت انتظام کرنا، کھانے پینے کی ضروری اشیاء وقتاً فوقتاً بھیجتے رہنا اور ان کے معالج سے بات کر کے ان کی صحت کی خبر گیری کرنا ہر اولاد کا فرض ہے۔ انسان کو ہر دن یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس طرح اپنی ماں کے کام آ سکتا ہے کیونکہ ماں کی دعا لینے سے زندگی کے ہر دن، ہر کام اور وقت میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جو راتوں کو جاگ کر اپنی اولاد کی پرورش کرتی ہے، لیکن وقت بدلنے پر وہی اولاد جب اپنے بچوں کی پرورش میں مگن ہوتی ہے تو اکثر اس کے اندر سے یہ احساس ہی ختم ہو جاتا ہے کہ اس کی اپنی بوڑھی ماں کو بھی اس وقت اس کی توجہ کی ضرورت ہے۔ یہ سب کچھ عموماً جان بوجھ کر نہیں کیا جاتا بلکہ دنیاوی مصروفیات انسان کو ماں سے دور کر دیتی ہیں اور انسان نادانستہ طور پر ماں کو فراموش کر بیٹھتا ہے۔ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انسان ماں کو دیا جانے والا وقت دیگر کاموں اور دوسروں کو دے دیتا ہے اور پھر سال میں ایک بار محبت بھرا تحفہ دے کر ماں کو راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
حقیقت یہی ہے کہ ماں دنیا کا سب سے قیمتی تحفہ ہے جو خالق کائنات کی طرف سے انسان کو عطا کیا گیا ہے۔ اس عظیم نعمت کی بے حد قدر کرنی چاہیے اور صرف ایک دن کے مصلحتی اظہار کے بجائے زندگی کے ہر لمحے کو ان کی خدمت کے لیے وقف کرنا چاہیے۔ پروردگار تمام ماؤں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہر اولاد کو اپنے والدین کی حقیقی خدمت اور ان کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here