نیویارک سٹی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جب ایک شہری کو روکا گیا تو اس نے روایتی دیسی انداز اپناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ میئر ممدانی کا کزن ہے۔ اس پر ٹریفک اہلکار نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ میئر ممدانی کے کزن ہیں تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے پھریں۔ اگر خود میئر ممدانی بھی قانون توڑیں گے تو انہیں بھی سمن جاری کیا جائے گا۔ اہلکار نے رشتہ داری کی نوعیت پر سوال اٹھایا تو معلوم ہوا کہ میئر ممدانی کی خالہ اس شہری کی والدہ کی نانی تھیں۔ اس دور اور کمزور رشتے پر، جبکہ دونوں معمر خواتین اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں، اہلکار نے موقع پر ہی ٹوک دیا کہ اگر لوگ اس طرح رشتہ داریاں جوڑنے لگے تو ٹریفک قوانین کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس مرحلے پر شہری نے صفائی پیش کی کہ اس نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ صرف دائیں جانب مڑنے کے لیے بس لین کو عبور کیا تھا۔ اس نے کوئینز میں بس لینز کی بھرمار اور برانکس میں ان لینز پر قائم تجارتی مراکز کا حوالہ دیتے ہوئے امتیازی سلوک کا گلہ بھی کیا اور بروکلین میں متوازی پارکنگ کی وجہ سے لگنے والے جام کا تذکرہ کیا۔ بالآخر طویل بحث کے بعد اہلکار نے رعایت برتتے ہوئے اسے بغیر سمن کے جانے کی اجازت دے دی۔
نیویارک سٹی میں یہ رویہ اب ایک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کسی بھی دیسی باشندے کو کام پڑے تو وہ خود کو میئر ممدانی کا کزن ظاہر کر دیتا ہے۔ ایک اور واقعے میں پبلک اسکول کے پرنسپل نے ایک طالب علم کو طالبہ کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے پر معطلی کا نوٹس بھیجا۔ طالب علم کے والد نے پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوتے وقت اپنے کارڈ پر میئر ممدانی کا کزن لکھ دیا۔ یہ جادوئی الفاظ دیکھتے ہی پرنسپل نے فوری طور پر انہیں اپنے کمرے میں بلا لیا۔ والد نے چالاکی سے ماضی کا ایک فرضی قصہ سنایا کہ کس طرح انہوں نے ایک دوسرے اسکول کے پرنسپل کی سفارش اپنے کزن میئر سے کر کے اس اسکول کے لیے لاکھوں ڈالر کا بجٹ منظور کروایا تھا۔ اس پرنسپل نے مرعوب ہو کر اور اسکول کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے طالب علم کے خلاف تادیبی کارروائی فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دے دیا۔ تاہم انہوں نے سرگوشی میں والد کو خبردار بھی کیا کہ بچہ آئندہ ایسی حرکتوں سے گریز کرے ورنہ اسکول کے دروازے اس پر بند ہو جائیں گے، جبکہ ساتھ ہی انہوں نے میئر تک اپنی سفارش پہنچانے کی درخواست بھی کر دی۔
اسی طرح سڑکوں پر موجود گڑھے بھروانے کے لیے بھی یہ رشتہ داری ایک آزمودہ نسخہ بن چکی ہے۔ ایک شہری نے سالہا سال سے ادھوری سڑک کی شکایت کے لیے تھری ون ون ہیلپ لائن پر کال کی اور خود کو میئر کا کزن متعارف کروایا۔ اس نام کا ایسا اثر ہوا کہ محکمہ ٹرانسپورٹیشن کے عملے نے دو ہی دن میں آ کر سڑک مرمت کر دی۔ اگرچہ ایسے شہری کاموں کے لیے کسی بڑے نام کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، مگر نظام کی سستی شہریوں کو یہ طریقے اپنانے پر مجبور کرتی ہے۔
امریکا کی طرح پاکستان میں بھی وزرائے اعظم اور دیگر مقتدر شخصیات کے نام کا ناجائز فائدہ اٹھانا ایک عام روایت بن چکا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال کراچی ایئرپورٹ پر دیکھنے کو ملی جہاں ایک شخص نے خود کو وزیر اعظم کی پہلی اہلیہ کا بھائی ظاہر کرتے ہوئے اسلام آباد کی مفت ٹکٹ کا مطالبہ کیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے افسر نے اسے بارہ ہزار روپے کا ٹکٹ خریدنے کا مشورہ دیا تو وہ اصرار کرنے لگا کہ وزیر اعظم نے اسے بتایا ہے کہ سالے کے لیے فضائی سفر مفت ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ماضی میں امریکا کا مفت سفر بھی کر چکا ہے جس کے لیے وزیر اعظم نے خود ایئرلائن کے مینیجر کو فون کیا تھا۔ یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں دیسی برادری قانون کا سامنا کرنے کے بجائے بااثر افراد کے نام کا سہارا لینے کو ترجیح دیتی ہے۔












