بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی ہمیشہ سے وطن عزیز کی معیشت اور عالمی سطح پر اس کے وقار کو برقرار رکھنے میں ایک اہم ستون رہی ہے۔ اس متحرک کمیونٹی میں کچھ ایسی شخصیات بھی ابھرتی ہیں جو محض ذاتی کاروباری کامیابیوں تک محدود نہیں رہتیں، بلکہ اپنی قوم کے مستقبل، بالخصوص نوجوان نسل کی فکری و تہذیبی آبیاری کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنا لیتی ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مقیم ممتاز سماجی رہنما اور باشعور کاروباری شخصیت عامر زیدی کا شمار بھی انہی مخلص اور دور اندیش رہنماؤں میں ہوتا ہے، جنہوں نے تارکین وطن کی نئی نسل کو ان کی اصل جڑوں اور ثقافتی شناخت سے جوڑے رکھنے کے لیے ایک ولولہ انگیز مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔ ان کی خدمات اور خیالات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ایک مضبوط اور معزز کمیونٹی کی بنیاد بلند و بالا عمارتوں پر نہیں، بلکہ تعلیم یافتہ، خوددار اور اپنے وطن سے محبت کرنیوالے نوجوانوں پر استوار ہوتی ہے۔ عامر زیدی کا فکری فلسفہ اس بنیادی نکتے کے گرد گھومتا ہے کہ کسی بھی قوم کا اصل اثاثہ اور حقیقی سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جو قومیں اپنے نوجوانوں کی فکری اور اخلاقی تربیت سے غافل ہو جاتی ہیں، وہ تاریخ کے صفحات میں اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔
دیارِ غیر کے مادی معاشرے میں پرورش پانیوالی نئی نسل کے حوالے سے وہ اکثر گہرے تفکرات کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی نوجوانوں کو صرف معاشی اور پیشہ ورانہ ترقی ہی کو اپنی زندگی کا حتمی ہدف نہیں بنانا چاہیے، بلکہ انہیں اپنی مادری زبان، شاندار تہذیب، اسلامی و مشرقی اقدار اور قومی تشخص کے ساتھ ایک مضبوط اور اٹوٹ رشتہ قائم رکھنا ہوگا۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ امریکی معاشرے کا ایک فعال اور کامیاب حصہ بننے کے ساتھ ساتھ اپنی پاکستانی شناخت پر فخر کرنا ہی ان کی حقیقی کامیابی کی کلید ہے۔ نوجوانوں کی رہنمائی اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے عامر زیدی محض زبانی دعووں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے نوجوان ہی کل کے قائد ہیں، اس لیے وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ انہیں دور جدید کے تعلیمی اور تربیتی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر نئی نسل کو صحیح سمت اور مثبت قیادت میسر نہ ہو تو ان کی توانائیاں بے راہ روی کا شکار ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ایسے جامع نظام کے قیام کے لیے کوشاں ہیں جہاں نوجوانوں کو اعلیٰ درجے کی رہنمائی، علمی معاونت اور پیشہ ورانہ تربیت میسر آ سکے۔ ان کی خواہش ہے کہ ہمارے نوجوان جدید علوم میں مہارت حاصل کر کے دنیا بھر میں ملک و قوم کا نام روشن کریں اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اسلاف کی دیانت، شجاعت اور اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ بھی پیش کریں۔
اس تناظر میں، تارکین وطن کی بڑی انجمن کے معتمد عمومی کی حیثیت سے ان کا طویل المدتی منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ محض وقتی پروگراموں کی بجائے ایسے پائیدار ادارے قائم کرنے کا عزم رکھتے ہیں جہاں نوجوان نسل کے لیے جدید تربیتی مراکز، قیادت سازی کے خصوصی نصاب، کھیلوں کے میدان اور ثقافتی سرگرمیوں کے وسیع مواقع موجود ہوں۔ ان کا یہ وڑن ایک ایسی متحد اور بیدار کمیونٹی کی تشکیل میں مددگار ثابت ہو رہا ہے جو اپنی نئی نسل کو مکمل اعتماد، اعلیٰ تعلیم اور مثبت انسانی اقدار کے ساتھ آگے بڑھنے کے قابل بناتی ہے۔ وہ بارہا اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عظیم نظریہ، سحر انگیز ثقافت اور دلوں کا جذباتی رشتہ ہے، اور اس رشتے کی شمع کو نسل در نسل منتقل کرنا ہر بااثر اوورسیز پاکستانی کا اولین قومی فریضہ ہے۔
ملکی استحکام اور دفاع وطن کے حوالے سے بھی عامر زیدی کے خیالات انتہائی واضح اور مخلصانہ ہیں۔ وہ پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں اور خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک کے دفاع، سلامتی اور بقا کے لیے پاک فوج نے ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ملکی وقار کو برقرار رکھا ہے، اور پوری قوم کو اپنے ان محافظوں پر دل سے فخر ہے۔ وہ دیارِ غیر میں بیٹھ کر بھی وطن کی سالمیت کے گیت گاتے ہیں اور نوجوانوں میں بھی یہی حب الوطنی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرنا چاہتے ہیں۔ کمیونٹی کے سنجیدہ حلقوں میں عامر زیدی کی شخصیت کو امید، عزم اور مثبت قیادت کی علامت سمجھا جاتا ہے، جو تاریک راہوں میں نئی نسل کیلئے ایک روشن چراغ کی مانند ہیں تاکہ وہ اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے کامیابی کی نئی منزلیں حاصل کر سکیں۔
















