نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک اسٹیٹ کامپٹرولر تھامس ڈی نیپولی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران میڈیکاڈ پروگرام کو خطیر رقم کا نقصان پہنچانے کے الزام میں جنید چوہدری، جواد چوہدری، دانیہ میتھیو اور کینتھ سمتھ کو حراست میں لیا ہے۔ تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے طبی سفری سہولیات فراہم کرنے والی تین مختلف نجی کمپنیوں کی آڑ میں سن دو ہزار اکیس سے سن دو ہزار پچیس کے دوران بڑے پیمانے پر جعلی بلنگ کی۔ الزامات کے مطابق ملزمان نے اجتماعی طور پر کیے جانے والے اسفار کو انفرادی دوروں کے طور پر ظاہر کیا، زائد چارجز وصول کیے اور ایسی خدمات کے بل بھی جمع کرائے جو حقیقت میں کبھی فراہم ہی نہیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ مریضوں کو غیر قانونی طور پر کمیشن یا رشوت دینے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق کلفٹن پارک کے رہائشی جنید چوہدری پر پبلک فنڈز سے دس لاکھ ڈالر سے زائد کی چوری کا الزام ہے جبکہ جواد چوہدری پر چار لاکھ ڈالر سے زائد کے فراڈ کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ اس اسکیم سے حاصل ہونے والی غیر قانونی رقم کو ملزمان نے اپنے ذاتی اخراجات، گھروں کے ہاؤسنگ لون کی ادائیگیوں اور کریڈٹ کارڈ کے بلوں کو چکانے کے لیے استعمال کیا۔ اسٹیٹ پولیس اور مقامی پراسیکیوٹرز پر مشتمل تفتیشی ٹیموں نے واضح کیا ہے کہ عوامی ٹیکسوں کے پیسوں میں خورد برد کرنے والوں کو سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم عدالت سے جرم ثابت ہونے تک تمام ملزمان کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔











