ایران جنگ: ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بیانات میں تضاد، واشنگٹن میں سیاسی ہلچل

0
13

واشنگٹن(پاکستان نیوز) ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیخلاف جاری حالیہ کشیدگی پر اپنے ہی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے ایک نیا اور تہلکہ خیز دعویٰ کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں نہیں دھکیلا، بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے؛ صدر نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے خود اسرائیل کو ایران پر حملے کے لیے شہ دی اور اس کا ہاتھ آگے بڑھایا۔ اس سے قبل وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا تھا اور اس کے ردعمل میں ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں کو نشانہ بنائے جانے کا شدید خدشہ تھا، اسی لیے امریکہ نے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے جنگ میں پہل کی۔ مارکو روبیو نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ اس وقت امریکی سفارتی دفاتر براہ راست حملوں کی زد میں ہیں۔ وزیر خارجہ کے اس بیان پر ڈیموکریٹک رکن کانگریس جواکھم کاسترو نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مارکو روبیو نے بالآخر تسلیم کر لیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ کی آگ میں دھکیلا ہے۔ دوسری جانب، ایران کی قومی سلامتی کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ایرانی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ 300 سالوں کی طرح اس بار بھی جنگ میں پہل نہیں کی اور وہ تنازع کو بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔ امریکی انتظامیہ کے اندر پیدا ہونے والے اس واضح تضاد نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here