نیویارک (پاکستان نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں ایران کیخلاف جاری امریکی جارحیت اوراسرائیل گٹھ جوڑ سے پیدا کردہ جنگ اب ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ دنیا بھر کے دفاعی ماہرین اور میڈیا کے تجزیہ نگاروں کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے مستقبل کا کوئی واضح منصوبہ نہیں۔ ایران میں رجیم چینج کی کوشش میں صرف فضائی حملوں پر انحصار خطرناک ہے ، ٹرمپ کی حکمت عملی 2003 میں عراق اور 2001 کے افغانستان ماڈل سے مختلف ہے۔ پاسداران انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کی ہدایت، مگر عملی لائحہ عمل غائب ہے، طویل جنگ کی صورت میں خلیجی ریاستوں کو عدم استحکام کا خدشہ ہے ۔ یاد رہے کہ 27 فیصد امریکی ایران پر فوجی کارروائی کے حامی ہیں، زمینی فوج نہ بھجنے کا فیصلہ مگر بعد از جنگ حکمت عملی غیر واضح ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اپنے ویڈیو پیغام میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ ایران کی ملٹری کمان مکمل ختم ہو چکی ہے ، بہت سے لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیجی ممالک کے دفاعی نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملوں کی یہی شدت برقرار رہی تو محض ایک ہفتے کے اندر خطے کے اہم ممالک کو “انٹرسیپٹرز” کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی میزائلوں کے استعمال کی رفتار ان کی پیداواری صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے، جو کہ ایک سنگین سیکیورٹی گیپ پیدا کر سکتی ہے۔ دوسری جانب، علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ متحدہ عرب امارات اور قطر نے باضابطہ طور پر ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے دفاعی اسٹاک کو تسلی بخش قرار دیا ہے، تاہم زمینی حقائق مختلف ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست کشیدگی نے بھی خلیجی فضائی حدود کو ایک جنگی زون میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگے ترین دفاعی میزائل فائر کیے جا رہے ہیں۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو امریکی سپلائی چین کا متاثر ہونا ہے۔ پینٹاگون کے حکام نے اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کی چار سالہ طویل جنگ میں مسلسل فوجی معاونت اور پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کے بعد اب خود امریکہ کے اپنے ذخائر میں بھی کمی آ رہی ہے۔ دفاعی صنعت کے ذرائع کے مطابق، ایک پیٹریاٹ میزائل کی تیاری میں مہینوں لگتے ہیں، جبکہ موجودہ تنازعات میں انہیں چند منٹوں کے اندر درجنوں کی تعداد میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی سطح پر امریکی اتحادیوں کے لیے ایک بڑا دفاعی چیلنج بن چکی ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر رضا طلاء نے کہا ہے کہ ہم طویل جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں، دانشمندی نہیں کہ ہم ابتدا ہی میں اپنے موثر ہتھیار استعمال کریں۔ بریگیڈیئر رضا طلاء نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دشمن کا اسلحہ ذخیرہ محدود ہے سب اس سے واقف ہیں، دشمن کو غلط فہمی تھی کہ ایرانی عسکری قوت رہبر کی شہادت کے ساتھ ختم ہوجائیگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے حملے کے پہلے روز شدید مزاحمت کرکے دشمن کو حیرت میں ڈال دیا۔دوسری جانب ایران کے شہر قْم میں مجلس خبرگان رہبری کی عمارت بھی امریکا اور اسرائیل کے حملے میں تباہ ہوگئی۔ واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی افواج کے مشترکہ اور انتہائی شدید حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت نے پورے خطے میں ایک ایسی بڑی جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ہفتے کی صبح تہران میں خامنہ ای کے رہائشی کمپاؤنڈ پر ہونے والی اس پین پوائنٹ بمباری نے نہ صرف ایرانی قیادت کو شہید کر دیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ درجنوں اعلیٰ فوجی حکام اور سینئر رہنما بھی شہید کر دئیے گئے ہیں۔ایرانی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی اہلیہ منصورہ باغزادہ امریکی حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں،بعد میں ان کی شہادت کی خبر کی بھی تصدیق کر دی گئی۔ خیال رہے کہ گزشتہ ایران نے امریکی و اسرائیلی حملوں میں اپنے رہبر اعلیٰ آیت اللّٰہ خامنہ ای اور عسکری قیادت کی شہادت کی تصدیق کی تھی۔ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور اور ایران کی ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد تین رکنی عبوری کونسل نے کنٹرول سنبھال لیا، ایران میں 40 روزہ سوگ اور 7 دن تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ خامنائی کی شہادت کے فوراً بعد تہران نے اپنی جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل اور قریبی امریکی فوجی اڈوں پر سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور خودکش ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔ لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایک سال سے زائد عرصے کے بعد پہلی بار اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے جس کے جواب میں اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے سرحدی علاقوں میں شدید بمباری کی ہے، جبکہ خلیجی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات اور کویت میں بھی ایرانی میزائل گرنے سے ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور دنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈوں پر سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ایران کی جانب سے کی گئی اس شدید جوابی کارروائی میں پہلی بار تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی باقاعدہ تصدیق کر دی گئی ہے جو کہ خطے میں دہائیوں بعد امریکہ کے لیے سب سے بڑا جانی نقصان ثابت ہو رہا ہے، جس نے واشنگٹن کو مزید جارحانہ فوجی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران کے اندرونی حالات انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں جہاں خامنہ ای کی جگہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ایک تین رکنی عبوری قیادت کونسل تشکیل دی گئی ہے جو اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں نئے جانشین کا فیصلہ کرے گی۔دریں اثناء صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی کارروائی ایران کے خلاف صرف ابتدا ہے، ‘بڑی لہر’ ابھی آنا باقی ہے، حملے میں ایران کے 49 رہنما مارے گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ابھی انہیں سختی سے نہیں مارا، بڑی لہر ابھی باقی ہے، بڑا حملہ جلد ہوگا۔ جنگ کی مدت سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ یہ زیادہ دیر تک جاری رہے، میں سمجھ رہا تھا کہ ایران پر حملے میں چار ہفتے لگیں گیں، مگر ہم تھوڑا سا شیڈول سے آگے ہیں۔ امریکی صدر نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کو خارج از امکان قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ دیگر صدور کی طرح زمینی فوج نہ بھیجنے کی بات نہیں کروں گا، امکان ہے کہ زمینی فوج کی ضرورت نہیں ہوگی، ایسا بھی ممکن ہے کہ زمینی فوج ضرورت بن جائے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر کی جانب سے یہ بیان امریکی فضائی اور بحری کارروائیوں کے بعد آیا ہے، جن میں ایران کی بیلسٹک میزائل، بحری اور نیوکلیئر صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہائیوں پرانی مذہبی حکومت کا تختہ الٹ دیں حالانکہ تہران کی سڑکوں پر انٹرنیٹ کی بندش اور سخت سیکیورٹی کے باعث عوامی احتجاج کے واضح آثار فی الحال دکھائی نہیں دے رہے۔ اسرائیل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری انفراسٹرکچر اور میزائل سائٹس پر “نان اسٹاپ” حملے جاری رکھے گا تاکہ تہران کی عسکری قوت کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے سپلائی چین کے مکمل طور پر ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ دریں اثناء امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران جنگ صرف نام نہاد حکومت کی تبدیلی کی جنگ نہیں، ایران میں امریکی مشن کا مقصد ایران کے میزائلوں کو تباہ کرنا تھا۔ جنگ امریکا فرسٹ کی شرائط پر ختم کریں گے۔ واشنگٹن میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران میں امریکی مشن کا مقصد ایران کے جوہری ہتھیاروں سے انکار کرنا ہے، یہ عراق نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی لامحدود جنگ ہے، ایران پر آپریشن میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، ہم یہ جنگ امریکا فرسٹ کی شرائط پر ختم کریں گے۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ نام نہاد نظام کی تبدیلی کی جنگ نہیں ہے، لیکن نظام ضرور بدل گیا ہے اور دنیا اس سے بہتر ہوئی ہے، امریکا نے یہ جنگ شروع نہیں کی، بلکہ ایران کئی دہائیوں سے امریکا کے خلاف ‘یکطرفہ جنگ’ جاری رکھے ہوئے تھا، موجودہ کارروائیاں اسی سلسلے کا جواب ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ہم اسے ختم کررہے ہیں۔ ایران پر کیے جانیوالے حملوں پر برطانیہ اور امریکا میں اختلاف سامنے آگیا، ڈیگو گارشیا کے استعمال سے روکنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔برطانوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ نے ڈیگو گارشیا فوجی اڈے کو ایران پر حملوں کیلئے استعمال کرنے سے روک دیا، برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کے اس فیصلے سے بہت مایوسی ہوئی۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے برطانیہ کی جانب سے فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت میں تاخیر پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے، جس سے دونوں اتحادی ممالک کے درمیان پالیسی اختلافات سامنے آئے ہیں۔خیال رہے کہ بحرِ ہند میں واقع ڈیگو گارشیا امریکا اور برطانیہ کا مشترکہ اسٹریٹجک فوجی اڈہ ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند کے خطے میں طویل فاصلے کی فضائی اور بحری کارروائیوں کیلئے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکا کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنیکی اجازت دے دی۔کیئر اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے فوجی اڈوں کے استعمال کیلئے اجازت طلب کی تھی، امریکا کی درخواست قبول کر لی ہے، جس کے تحت ایران کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے لیے برطانیہ کے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ ایران کو خطے میں میزائل داغنے سے روکنے کے لیے کیا ہے، تاکہ معصوم شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں، برطانوی شہریوں کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں اور ایسے ممالک کو نشانہ بننے سے بچایا جا سکے جو اس تنازعہ میں شامل نہیں۔برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خلیجی پارٹنرز دفاعی تعاون کا مطالبہ کر رہے ہیں، برطانوی جانوں کا تحفظ ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے طیارے دفاعی کارروائیوں کے لیے فضا میں ہیں، ہمارے طیارے ایرانی حملوں کو کامیابی سے روک رہے ہیں۔












