CIA اور اسرائیل نے آیت اللہ خامنائی کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟

0
11

نیویارک (پاکستان نیوز) فنانشل ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کی سی آئی اے نے تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے برسوں پر محیط ایک انتہائی پیچیدہ اور جدید انٹیلی جنس نیٹ ورک تیار کر رکھا تھا۔ اس خفیہ منصوبے اور آپریشن کے بارے میں مزید اہم تفصیلات کے مطابق، اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی ‘موساد’ نے برسوں پہلے تہران کے ٹریفک کیمروں کے پورے نیٹ ورک کو ہیک کر لیا تھا۔ خاص طور پر تہران کی “پاستور اسٹریٹ” (جہاں سپریم لیڈر کا کمپاؤنڈ واقع ہے) کے کیمروں کا رخ اس طرح موڑا گیا کہ وہ محافظوں، ڈرائیوروں اور پارکنگ پوائنٹس کی نقل و حرکت کو براہ راست تل ابیب منتقل کر سکیں۔ ان کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیوز کو خفیہ طور پر انکرپٹ کر کے اسرائیلی سرورز پر بھیجا جاتا رہا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے مصنوعی ذہانت اور جدید الگورتھمز کا استعمال کرتے ہوئے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کیا۔ خامنہ ای کے محافظوں کے گھروں کے پتے، ان کے ڈیوٹی کے اوقات اور روزمرہ کے معمولات کا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا۔ ان الگورتھمز کی مدد سے یہ جاننا آسان ہو گیا کہ کب کوئی غیر معمولی میٹنگ ہونے والی ہے، کیونکہ محافظوں کی مخصوص نقل و حرکت سے میٹنگ کے وقت اور شرکاء کا پہلے ہی اندازہ ہو جاتا تھا۔ جہاں ٹیکنالوجی نے اہم کردار ادا کیا، وہیں سی آئی اے نے انسانی ذرائع (جاسوسوں) کے ذریعے اس ڈیٹا کی تصدیق کی۔ رپورٹ کے مطابق، سی آئی اے کے پاس موجود ایک “انسانی ذریعے” نے اس بات کی حتمی تصدیق کی کہ ہفتے کی صبح تہران کے کمپاؤنڈ میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہو رہی ہے جس میں علی خامنہ ای خود موجود ہوں گے۔ آپریشن کے دوران تہران کے مخصوص حصوں میں موبائل فون سروس کو جزوی طور پر معطل یا “جام” کر دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ حفاظتی عملہ ایک دوسرے کو بروقت وارننگ نہ دے سکے اور حملے کے وقت کوئی بھی ہنگامی رابطہ ممکن نہ رہے۔ اسرائیل کی مشہور سائبر یونٹ 8200، موساد اور ملٹری انٹیلی جنس نے مل کر کام کیا۔ انہوں نے صرف کیمرے ہی نہیں بلکہ سگنلز انٹیلی جنس کے ذریعے موبائل کالز اور دیگر الیکٹرانک مواصلات کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ مختصر یہ کہ یہ آپریشن محض ایک فضائی حملہ نہیں تھا، بلکہ برسوں کی ڈیجیٹل جاسوسی، ہیکنگ اور ڈیٹا اینالیسس کا نتیجہ تھا جس نے ایرانی سیکیورٹی ڈھانچے کے اندر گہری رسائی حاصل کر لی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here