پاکستان میںسکھ و کشمیری مجاہدین کی ہلاکتیں؛بھارت طالبان گٹھ جوڑ

0
14

نیویارک (پاکستان نیوز) سی آئی اے کی سابق تجزیہ کار سارہ ایڈمز نے ایک سنسنی خیز انکشاف میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور طالبان کے درمیان کشمیری جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے ایک خفیہ گٹھ جوڑ قائم ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت نے طالبان کے وزیر دفاع ملا یعقوب کو کروڑوں ڈالر فراہم کیے ہیں تاکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں روپوش کشمیری شدت پسندوں اور ان کے ساتھیوں کو ٹھکانے لگایا جا سکے۔ سارہ ایڈمز کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے حالیہ مہینوں میں لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں کئی پراسرار ہلاکتیں ہوئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اب براہ راست کارروائیوں کے بجائے طالبان کے اندرونی گروہوں کو بطور کرائے کے قاتل استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ حکمت عملی نہ صرف کشمیری تحریک کو کمزور کرنے کے لیے ہے بلکہ اس کا مقصد پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا بھی ہے، جس میں مبینہ طور پر ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں کو بھی بالواسطہ مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ سارہ ایڈمز نے خاص طور پر ان ہلاکتوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو حالیہ برسوں میں پاکستان کے مختلف شہروں میں ‘نامعلوم مسلح افراد’ کے ہاتھوں انجام دی گئیں۔ ان کے دعووں کے مطابق، ان واقعات کا طریقہ کار ایک جیسا تھا جس میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے انتہائی مہارت سے کشمیری تنظیموں کے اہم رہنماؤں اور ان کے قریبی ساتھیوں کو نشانہ بنایا۔ ان کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں طالبان کے ان عناصر کی مدد سے کی گئیں جنہیں بھارتی انٹیلیجنس نے بھاری رقوم کے عوض ہائر کیا تھا۔ ایڈمز نے الزام لگایا ہے کہ اس نیٹ ورک کو ملا یعقوب کے قریبی حلقوں سے سہولت فراہم کی گئی، جس کا مقصد سرحد پار موجود ان افراد کو ختم کرنا تھا جو بھارت کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم انٹیلیجنس آپریشن ہے جس میں مقامی نیٹ ورکس کو کرائے کے قاتلوں کے طور پر استعمال کر کے ‘پلازیبل ڈینائلٹی’ (یعنی ملوث ہونے سے انکار کی گنجائش) برقرار رکھی گئی ہے۔سارہ ایڈمز اور مختلف سیکیورٹی رپورٹس میں جن مخصوص افراد کا تذکرہ ملتا ہے، ان میں زیادہ تر وہ کشمیری رہنما اور شدت پسند شامل ہیں جنہیں پاکستان کے شہروں میں ‘نامعلوم مسلح افراد’ نے نشانہ بنایا۔ ان میں سرفہرست ظہور مستری ہیں جنہیں کراچی میں قتل کیا گیا، جبکہ بشیر احمد پیر عرف امتیاز عالم کو راولپنڈی میں ایک دکان کے باہر ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح سید خالد رضا کو کراچی میں ان کے گھر کے باہر نشانہ بنایا گیا، اور لشکرِ طیبہ کے سابق کمانڈر اکرم غازی کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں قتل کیا گیا۔ ان فہرستوں میں شاہد لطیف کا نام بھی نمایاں ہے جنہیں سیالکوٹ کی ایک مسجد میں قتل کیا گیا، اور لاہور میں پرمجیت سنگھ پنجوار جیسے سکھ علیحدگی پسند رہنماؤں کی ہلاکت کو بھی اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جاتا ہے۔ سارہ ایڈمز کا دعویٰ ہے کہ ان تمام ہلاکتوں کے پیچھے وہ نیٹ ورک فعال ہے جس کی ڈوریاں مبینہ طور پر طالبان کے اندرونی گروہوں اور بھارتی انٹیلیجنس کے درمیان ہونے والے معاہدوں سے جڑی ہوئی ہیں۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here