سپیرا!!!

0
101
عامر بیگ

ہلری کلنٹن کے بقول ہم نے خود افغان مجاہد ین تیار کروائے جب سوویت یونین افغانستان پر حملہ آور ہوا تو ہم پاکستان میں گئے وہاں ہم نے مجاہدین کی ایک فورس تیار کی انہیں سٹنگر مزلز اور ہر طرح کے اسلحہ سے لیس کیا تاکہ وہ افغانستان جا کر سوویت یونین سے لڑیں ہم اس میں کامیاب رہے اور جب سوویت افغانستان چھوڑ کر بھاگ گئے تو ہم نے ان مجاہدین کو بھی خدا حافظ کہہ دیا جنہوں نے ہم سے لڑنے کی تربیت حاصل کی تھی اب لڑنا ان کی عادت بن چکی وہ شدت پسند تھے اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں مگر ہم خوش تھے کہ سوویت یونین کو شکست فاش ہوئی ہم نے سمجھا کہ اب سب ٹھیک ہے لیکن اب ہم سمجھتے ہیں کہ جو لوگ اب ہم سے لڑائی کر رہے ہیں یہ وہی ہیں جنہیں ہم سپورٹ کرتے تھے سوویت یونین سے لڑنے کے لیے ان کے پاس ہمارا دیا ہوا اسلحہ ہے یہ اس انٹرویو کے اقتباس ہیں جو غالبا ہلری کلنٹن نے آج سے بیس پچیس سال پہلے فوکس نیوز کی ایک جید اینکرکو دیا تھاجو آج بھی کسی نہ کسی کلپ کی صورت میں ہمیں ہماری اوقات یاد کرواتا ہے کہ ہم وقتی مفاد کے لیے ایک ہائر گن کے طور پر استعمال ہوتے آئے ہیں اب بھی وہی کہانی دہرائی جا رہی ہے فیلڈ مارشل کے لنچ کی قیمت چکانے کا وقت ہوا چاہتا ہے امریکہ میں کہاوت ہے کہ کوئی بھی لنچ فری نہیں ہوتا جی ہاں اتنی ساری محبتیں اور میل ملاقاتیں ایسے ہی نہیں ہیں منرلز تو امریکی کہیں سے بھی لے سکتے ہیں اور جہاں سے چاہیں لے سکتے ہیں ان کے پاس بڑے طریقے ہیں لیکن جو امریکہ کو اپنا پاجامہ چھوڑ کر کابل سے بھاگنا پڑا اسے وہ اب تک نہیں بھولا لہزا وہ ایک دفعہ پھر ہائر گن کو استعمال کر کے اپنا حساب کتاب چکتا کرنا چاہتا ہے امریکہ پہلے سر جوڑ کر پلان بناتا ہے پھر اس پر عملدرآمد کرواتا ہے اس کے لیے باقائدہ ماحول بنایا جاتا ہے میڈیا میں اسے کے لیے شوشے چھوڑے جاتے ہیں پلان میں حصہ لینے والوں سے سرعام میل ملاقاتیں ہوتی ہیں لنچ کھائے اور کھلائے جاتے ہیں اور پتا تب چلتا ہے جب بارڈر پر فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ تین ٹریلین کی امریکہ افغان جنگ میں سات بلین ڈالر کا اسلحہ امریکہ کابل میں چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اسے اپنے فوجیوں کے عزیزوں کی طرف سے پریشر تھا ان کے فوجی افغانستان کے پہاڑوں میں اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد سے خوامخواہ ایک ایسی جنگ میں ملوث تھے جس کا کوئی اینڈ نہیں ، فوجی خوف کے اثر سے خودکشیاں کر رہے تھے امریکی فلیگ میں لپٹے تابوت جب امریکہ پہنچتے تھے تو کتنے گھروں میں صف ماتم بچھتی ہر دو سیکنڈ میں ایک ویٹرن اپنی گن یا نشہ کی زیادتی کی وجہ سے خودکشی کی کوشش کر رہا ہوتا تھا لہزا ٹرمپ نے عمران خان کی کوششوں سے افغان وار بند کروا کر وہاں سے فرار ہونا ہی مناسب سمجھا ٹرمپ کے بعد بائیڈن نے عمران خان کی کاوش کر سراہنے کی بجائے اسے حکومت سے نکلوا کر جیل میں بند کروا دیا اب جبکہ ٹرمپ کی دوبارہ حکومت آئی ہے تو وہ اپنا سات بلین کا چھوڑا ہوا اسلحہ اور بٹگرام ایئرپورٹ بیس سمیت واپس چاہتا ہے عمران خان ہوتا تو وہ ابسلیوٹلی ناٹ کہہ دیتا فیلڈ مارشل لنچ پر ایکسٹینشن پکی کرنے کے چکر میں ٹرمپ کے ادھورے خوابوں کی تکمیل کروانے میں پیش پیش ہے قیمتی زمینی زخائر کے جھانسے میں بٹگرام پر دوبارہ قبضہ اور سات ارب ڈالر کے امریکی اسلحہ کے استعمال کے بعد افغانستان زہریلے دانتوں کے بغیر والا سانپ ہوگا اور امریکہ سمجھتا ہے کہ فیلڈ مارشل سے بہتر سپیرا اور کون ہو گا جو اس کے زہریلے دانتوں کو نکال کر اور بریف کیس میں سجاکر وائٹ ہاس میں پیش کرکے فخر یہ تصویر کھنچوائے گا ۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here