چند برس قبل اپنے سفرِ اردن کے دوران ایک خوبصورت شام مملکتِ اردن کی واحد بندرگاہ عقبہ کے شہر میں بحیر? احمر کے ساحل پر گزارنے کا موقع ملا۔ تیل کی دولت کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کے زیادہ مشہور اور اہم تو خلیج فارس کے سات ممالک ہیں لیکن جنگِ عظیم دوم کے بعد اہلِ مغرب نے اپنے مفادات کے پیشِ نظر جو سرحدیں قائم کی تھیں، ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سولہ ممالک پر مشتمل دنیا کا انتہائی اہم خطہ ہے۔ عقبہ کی بندرگاہ اس خطے کی مغربی حدود کے قریب ہے جبکہ خلیجی ممالک مشرقی حدود ہیں۔ جب ہم ایک بڑی فیری میں بیٹھ کر بحیرہ احمر کے صاف و شفاف پانیوں میں اترے تو ہم چار ممالک مصر، اردن، سعودی عرب اور مقبوضہ فلسطین کو بغیر کسی دشواری کے دیکھ سکتے تھے۔ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب اور اردن نے اپنی سرزمینوں میں تبادلے کے ذریعے ایک ایسا انتظام کیا تھا جس کے باعث اردن کو عقبہ کی جدید بندرگاہ بنانے کا موقع مل گیا۔
اس میں کسی کو کوئی شک نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سرحدیں اور سیاست دراصل مغربی استعمار کا تحفہ ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے قلب میں صیہونی خنجر اور اس کا زہریلا پن اس پورے خطے میں پھیلی ہوئی پڑمردگی کا واحد سبب ہے۔ عقبہ کے ایک ریسٹورانٹ میں کھانا کھاتے ہوئے ہمیں چند پاکستانی نوجوان ملے جو سندھی زبان بول رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ ان کے آبا و اجداد بھٹو دور میں یہاں کھیتی باڑی کرنے کے لیے آئے تھے اور اب وہ سب یہیں رہ گئے ہیں بلکہ ایک طرح سے پھنس گئے ہیں۔ ان کی نسلیں ابھی تک پاکستانی پاسپورٹ پر ہیں لیکن ان کا پاکستان آنا جانا نہیں ہوتا۔ ان نوجوانوں نے مجھے اپنی خوبصورت سندھی زبان میں بتایا کہ سمندر کی سیر کے دوران جو بڑی عمارت ہم نے دیکھی تھی، وہ دراصل عقبہ میں واقع شاہی محل ہے جہاں وقتاً فوقتاً ان چاروں ممالک کے سربراہان جمع ہوکر خوش گپیاں فرماتے ہیں۔
ان کے بقول اصل حکمرانی تو مشرقِ وسطیٰ میں اہلِ مغرب کی ہے اور ان کے عالمی نظام کو یہاں کے عوام الناس تو تسلیم نہیں کرتے لیکن نام نہاد بادشاہتوں نے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ مخابرات یعنی حکومتی جاسوسی اداروں کا نام آتے ہی مظلوم و مجبور عوام لرز جاتے ہیں اور ان اداروں کی گرفت بظاہر بڑی مضبوط ہے۔ اب تو بس اس بات کا انتظار ہے کہ غلامی کی یہ زنجیریں ٹوٹیں اور لوگ سکھ کا سانس لیں۔ حفیظ میرٹھی کے بقول:
آزادی کا دروازہ بھی خود ہی کھولیں گی زنجیریں
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی جب حد سے بڑھیں گی زنجیریں
غزہ، لبنان اور ایران میں صیہونی اور مغربی طاقتوں نے معصوم بچوں پر ایسے مظالم ڈھائے ہیں جنہوں نے شورِ سلاسل کو تیز تر تو کر دیا ہے، بس اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ چور چور کب ہوں گے۔ ایران اور غزہ کی بے خطر جدوجہد کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی اہم ممالک اب اس عالمی نظام کو آنکھیں دکھا رہے ہیں اور پچھتر سال سے پکنے والا لاوا اب پھٹنے کے قریب ہے۔ مغرب کی غالب تہذیب اس وقت ایک بہت بڑے خطرے سے دوچار ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست و معیشت پر اس کی گرفت کمزور پڑنے لگی ہے، بلکہ ان کے باقی معاملات میں بھی شکست و ریخت شروع ہو گئی ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
اقوام کے اسی عروج و زوال کے حوالے سے سید مودودی کا ایک 125 صفحات پر مشتمل مقالہ قوموں کے عروج و زوال پر علمی تحقیقات کے عنوان سے شائع ہوا ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ قوموں کا عروج و زوال قانونِ فطرت ہے۔ کسی بھی قوم کا اقتدار اور عروج و زوال دیرپا ضرور ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ قوموں کا عروج و زوال اگرچہ فطری قانون کے مطابق ہوتا ہے تاہم ایسا نہیں ہے کہ اس میں اسباب و عوامل کو کچھ دخل نہ ہو۔ کسی بھی قوم کے عروج و زوال میں بہت سے اسباب و عوامل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں اور تاریخ میں قوموں کے بارہا کے عروج و زوال کو دیکھتے ہوئے ان عوامل کو طے کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ حیدر علی آتش بھی اسی فلسفے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
دکھا کے چہرہ ِ روشن وہ کہتے ہیں سرِ شام
وہ آفتاب نہیں ہے جسے زوال ہوا
اسی طرح مولانا سید ابوالحسن ندوی کے نزدیک بھی کسی بھی قوم کے عروج کا دارومدار اس کے نظریے، اعلیٰ اخلاق اور مقصدِ حیات پر ہوتا ہے۔ کسی بھی غالب تہذیب کی قیادت کے خاتمے اور زوال کے حوالے سے ان کا تجزیہ یہ ہے کہ سب سے پہلے فکری انحراف پیدا ہوتا ہے اور غالب قومیں اپنی نظریاتی تعلیمات اور ان کی روح سے دوری اختیار کر لیتی ہیں۔ دوسرے مرحلے پر مادہ پرستی کا غلبہ ہوتا ہے جہاں اعلیٰ اقدار کی جگہ مادی مفادات، عیش و عشرت اور اقتدار کی ہوس لے لیتی ہے۔ تیسرا بڑا سبب ذمہ داری کا احساس ختم ہونا ہے کیونکہ مقتدر امت کا بنیادی کام دنیا کی رہنمائی اور بھلائی ہوتا ہے جسے وہ ترک کر دیتی ہے۔ آخر میں فکری جمود طاری ہو جاتا ہے جس سے اجتہاد کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور وہ قوم نئی سائنسی اور عقلی تحقیق کی دنیا سے کنارہ کشی کر لیتی ہے، جو بالآخر اس کے زوال کا سبب بنتا ہے۔
















