ظاہر باطن کا تضاد!!!

0
25

یہاں ظاہری طرزِ زندگی سے مراد شکل و صورت اور لباس کے لحاظ سے کسی بھی شخص کا زندگی گزارنا ہے اور دیکھنے والا اسے اکثر اسی بنیاد پر اس کی سوچ اور فکر تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ظاہری بناوٹ کسی بھی شخصیت میں اس کے اردگرد کے معاشرے یعنی سوسائٹی کے حساب سے پروان چڑھتی ہے۔ مثلاً کسی بھی شخص کی ابتدائی زندگی جہاں گزرتی ہے، وہ اسی ماحول میں ڈھل جاتا ہے اور بعض اوقات زندگی کے آخر تک بھی وہ اس ماحول سے مانوس رہتا ہے جو اسے بچپن میں حاصل تھا جبکہ نوجوانوں میں عام طور پر کسی بھی شخص کو بیرونی ماحول تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ اس کے کالج، یونیورسٹی کا ماحول ہو یا محنت مزدوری کا شعبہ ہو، جس قسم کی سوسائٹی میں وہ وقت گزارتا ہے، اس کا ظاہری حلیہ بھی عام طور پر ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ ایک شخص اگر مدرسے میں وقت گزارے گا تو وہ شلوار قمیض پہننا اور داڑھی رکھنا پسند کرے گا، جبکہ یونیورسٹی میں زندگی گزارنے والا نوجوان پینٹ شرٹ پہننے، داڑھی کا خط بنوانے یا کلین شیو کروانے کو ترجیح دے گا۔ ان دونوں قسم کے افراد میں جو فاصلہ پایا جاتا ہے، اسے معاشرے کے افراد اپنی سوسائٹی اور اخلاقی معیار کے لحاظ سے پرکھتے ہیں۔ اگر کوئی مذہبی پیشوا کسی دوسرے مذہبی رہنما کا لبادہ اوڑھ لے گا تو اسے اس کے چاہنے والے تنقید کا نشانہ بنائیں گے اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے ملک کی تہذیب کو اپنائے گا تو اس پر بھی تنقیدوں کے تیر برسائے جائیں گے۔
مثال کے طور پر اگر ہمارے یہاں کوئی شخص پینٹ شرٹ اور کلین شیو میں منبر پر کھڑا ہو کر جمعہ پڑھانے آ جائے گا تو اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اگر ایسا کسی یورپی ملک یا شام و مصر وغیرہ میں ہو تو یہ ایک عام بات ہوگی۔ جدید دنیا چونکہ ایک عالمگیر گاؤں کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے دنیا کا ایک کونہ دوسرے کونے سے الگ نہیں رہا اور محض چند سیکنڈز میں ایک خبر دنیا کے دوسرے کونے میں پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح اب انسان اپنے گھر، مدرسے یا دوستوں سے ہی نہیں سیکھتا بلکہ موبائل، ٹی وی اور انٹرنیٹ سے بہت زیادہ سیکھتا ہے۔ اگرچہ ہمیں اپنی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے بچوں کو مناسب ماحول مہیا کرنا چاہیے لیکن اگر کوئی ظاہری لحاظ سے معاشرتی روایات کے مطابق نہ بھی ڈھل سکے تو ہمیں اسے کھلے دل سے قبول کرنا چاہیے۔ ہم اپنی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کو زبردستی داڑھی مونچھیں اپنے حساب سے رکھنے یا کٹوانے پر مجبور نہیں کر سکتے، نہ کسی کو زبردستی اپنی پسند کا لباس پہننے پر مجبور کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے لباس کے عیبوں کو درست کروا سکتے ہیں۔ دورِ حاضر میں کسی کو بھی ظاہری شکل و صورت اور زیب و زینت سے پہچاننا بہت مشکل ہو چکا ہے کیونکہ ہمارے اردگرد بہت سی ایسی شخصیات پائی جاتی ہیں جن کے ظاہر اور باطن میں زمین آسمان کا تضاد پایا جاتا ہے۔ ہمیں اس زمانے میں کسی بھی شخص کو تبدیل کرنا ہو تو اس کے نظریات اور افکار کو اسلام کے بنیادی عقائد و اسباق کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اس کی بول چال اور افکار و نظریات سے ایک اچھے، سلجھے ہوئے، مؤدب اور سمجھدار انسان کا تعارف ہو، نہ کہ اس کے ظاہری حلیے سے رونما ہونے والا باطن پراگندہ اور میلا ہو۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here