آنکھ مچولی!!!

0
23
ماجد جرال
ماجد جرال

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکی ہے جسے عام لوگ آنکھ مچولی کی جنگ قرار دینے لگے ہیں۔ کبھی حملوں کی خبریں سامنے آتی ہیں، کبھی جنگ بندی کے اشارے ملتے ہیں، اور کبھی سفارتی بیانات ماحول کو وقتی طور پر پرسکون بنا دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ چاہے میدانِ جنگ میں خاموشی نظر آئے یا گولہ باری، اس تنازع کے اثرات پوری دنیا خصوصاً عام شہریوں تک ضرور پہنچ رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، اور اشیائے ضروریہ کی قلت جیسے مسائل اس کشیدگی کے براہِ راست اثرات بن چکے ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ بڑھتے ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھی جنگ یا حملوں کی خبریں گردش کرتی ہیں تو پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتیں فوری طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، جہاں پہلے ہی معاشی دباؤ موجود ہو، وہاں یہ صورتحال عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دیتی ہے جس کے باعث ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورونوش کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، اور نتیجتاً روزمرہ استعمال کی چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہیں۔
صرف مہنگائی ہی نہیں بلکہ کئی ممالک میں ضروری اشیاء کی دستیابی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے کیونکہ عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، سمندری راستوں پر خطرات، اور درآمدات و برآمدات میں غیر یقینی صورتحال کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر رہی ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر کئی تاجروں نے خدشات کے باعث ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ہے جس سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت بھی جنم لے رہی ہے۔ اس صورتحال میں عام شہری حیران ہیں کہ اگر جنگ واقعی ختم ہو چکی ہے تو پھر حالات معمول پر کیوں نہیں آ رہے، اور اگر جنگ جاری ہے تو اس کا واضح اعلان کیوں نہیں کیا جا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف میدانوں میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ معیشت، اطلاعات اور سفارت کاری کے محاذ پر بھی بیک وقت جاری رہتی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی اب روایتی جنگ سے زیادہ نفسیاتی اور معاشی دباؤ کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں ایک طرف سخت بیانات اور فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف پسِ پردہ مذاکرات اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری رہتی ہیں اور یہی تضاد عوام میں مسلسل بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔
اس تمام تر ابتر صورتحال کا سب سے بڑا نقصان عام انسان کو ہو رہا ہے جس کا ان جنگی فیصلوں میں سرے سے کوئی کردار نہیں ہوتا۔ ایک عام مزدور، دکاندار یا تنخواہ دار طبقہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کی روزمرہ زندگی پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے جہاں بجلی، گیس، خوراک اور سفر کے اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں جبکہ آمدنی اب بھی وہی ہے۔ ایسے میں عالمی طاقتوں کے یہ سیاسی اور عسکری کھیل عام آدمی کے لیے ایک مستقل اذیت بن جاتے ہیں۔ دنیا کو اس وقت طاقت کے ایسے مظاہروں سے زیادہ امن اور استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان یہ طویل تنازع مذاکرات کے ذریعے حل نہ ہوا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اس خطرناک کشیدگی کو کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے فوری طور پر اپنا سنجیدہ کردار ادا کرے تاکہ عام انسان کو اس غیر یقینی جنگ کی مزید قیمت نہ چکانا پڑے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here