علی الجراح کی
کامیاب انتخابی مہم:
امریکی سیاست کا بدلتا ہوا منظرنامہ
امریکہ کی سیاسی تاریخ اس وقت ایک انتہائی اہم اور انقلابی موڑ سے گزر رہی ہے جہاں پاکستانی اور دیگر مسلم تارکینِ وطن محض ایک خاموش ووٹر رہنے کے بجائے اب اقتدار کے ایوانوں میں براہِ راست رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی اچانک یا حادثاتی نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی انتھک محنت، قربانیاں اور برادری کے درد مند رہنماؤں کی وہ دور اندیشی ہے جو اب رنگ لا رہی ہے۔ نیو جرسی کی پاسیک کاؤنٹی میں کمشنر کے عہدے کے لیے نوجوان مسلم عرب امیدوار علی الجراح کی انتخابی مہم کا آغاز اس بیداری کا ایک واضح ثبوت ہے جس نے نہ صرف مقامی سیاست بلکہ قومی سطح پر بھی ہلچل مچا دی ہے۔ اس سلسلے میں سید میثم رضوی کی رہائش گاہ پر منعقد ہونیوالی حالیہ تقریب محض ایک انتخابی بیداری کا جلسہ نہیں تھی بلکہ یہ مسلم برادری کے سیاسی اتحاد کا ایک ایسا سنگِ میل ثابت ہوئی ہے جہاں قوم کے دانشوروں، نوجوانوں اور بزرگوں نے مل کر اپنے سیاسی حقوق کے تحفظ کا عہد کیا۔ کسی بھی اقلیتی برادری کے لیے غیر ملکی سرزمین پر اپنے حقوق کا تحفظ اس وقت تک ناممکن ہوتا ہے جب تک وہ قانون سازی کے عمل کا حصہ نہ بنے، اور علی الجراح جیسے پڑھے لکھے، تجربہ کار اور مخلص نوجوانوں کا آگے آنا اس بات کی نوید ہے کہ اب مسلم برادری اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس پورے سیاسی سفر میں برادری کے مقتدر رہنما سید میثم رضوی کا کردار ایک ایسے رہنما اور مربی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جنہوں نے مسلم سیاست دانوں کی سرپرستی کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا ہے۔ انہوں نے کمیونٹی کے اندر سیاسی بیداری پیدا کرنے اور نوجوان قیادت کو آگے لانے میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ماضی میں نیویارک کے ممتاز مسلم رہنما زہران ممدانی کی انتخابی مہم کے دوران کیا تھا۔ زہران ممدانی کی مہم کو ایک تاریخی کامیابی دلانے کے لیے سید میثم رضوی نے نہ صرف اپنے وسائل وقف کیے بلکہ برادری کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے یہ ثابت کیا کہ اگر مسلم کمیونٹی یکجا ہو جائے تو وہ امریکی سیاست کے بڑے بڑے برج الٹ سکتی ہے۔ اب ایک بار پھر انہوں نے اپنی رہائش گاہ کو علی الجراح کی مہم کا مرکز بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسلم قیادت کی پشت پناہی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ان کی یہ کوششیں برادری کے دیگر متمول اور بااثر افراد کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں کہ وہ کس طرح اپنے سرمائے اور اثر و رسوخ کو قوم کے روشن مستقبل کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
امریکی انتخابی نظام کی یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہاں صرف نظریات یا جذبات کی بنیاد پر جنگ نہیں جیتی جا سکتی بلکہ مہم کو چلانے کے لیے خطیر سرمائے اور عوامی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ علی الجراح جیسے ترقی پسند امیدواروں کو اس وقت روایتی سیاسی نظام اور بڑے سرمایہ داروں کے شدید دباؤ کا سامنا ہے جو نہیں چاہتے کہ کوئی عام محنت کش یا مسلم نوجوان ان کے اقتدار کو چیلنج کرے۔ یہی وجہ ہے کہ مخالفین کی جانب سے اس مہم کو دبانے کے لیے لاکھوں ڈالر پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں، تاکہ عوامی بیداری کے اس سیلاب کو روکا جا سکے۔ ایسے کٹھن وقت میں مسلم برادری پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشنوں پر جا کر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرے بلکہ مالیاتی طور پر بھی ان امیدواروں کی مہم کا ہاتھ بٹائے۔ سرمائے کا یہ عطیہ محض ایک چندہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے تحفظ، سستی رہائش، ماحولیاتی بہتری اور منصفانہ نظامِ ٹیکس کے لیے ایک بہترین سرمایہ کاری ہے۔ جب تک برادری اپنے امیدواروں کو مالی طور پر مستحکم نہیں کرے گی، تب تک وہ سرمایہ دار لابیوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔
تقریب میں علی نقوی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں ائمہ معصومین بالخصوص امام حسین علیہ السلام کے اصولوں کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور سچائی کا ساتھ دینا ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ آج جب ہم دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو دیکھتے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ٹیکسوں کا پیسہ ان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، تو ہماری غیرتِ ایمانی ہمیں پکارتی ہے کہ ہم سیاسی طور پر اتنے مضبوط ہوں کہ ان فیصلوں کو تبدیل کر سکیں۔ نیویارک کے سابق کانگریس مین جمال بومین نے بھی اس محفل میں شرکت کر کے مہم کو ایک نئی توانائی بخشی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کس طرح انصاف کی بات کرنے پر انہیں بڑی لابیوں کے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ اب بھی حق کی راہ پر گامزن ہیں اور علی الجراح جیسے نوجوانوں کی کامیابی کو ملک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔
علی الجراح نے اپنے خطاب میں اپنے انفرادی سفر اور کاؤنٹی کمشنر کے عہدے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ عہدہ وفاقی اور ریاستی وسائل کو عوام تک پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر 2 جون 2026 کو ہونے والے پرائمری انتخابات میں مسلم کمیونٹی نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تو وہ نہ صرف اس کاؤنٹی کے پہلے مسلم نمائندے بنیں گے بلکہ پورے نیو جرسی کے پہلے عرب کمشنر بن کر ایک نئی تاریخ رقم کریں گے۔ سینیٹر برنی سینڈرز اور بڑی مزدور یونینوں کی تائید اس بات کا بین ثبوت ہے کہ علی الجراح کی مہم اب ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اب گیند مسلم کمیونٹی کے مرحلے میں ہے کہ وہ سید میثم رضوی کی اس شمع کو آگے بڑھاتے ہوئے ووٹ اور مالی تعاون کے ذریعے علی الجراح کو کامیابی کی دہلیز پار کرائیں تاکہ واشنگٹن اور نیو جرسی کے ایوانوں میں ہماری آواز پوری قوت کے ساتھ گونج سکے۔














