عید قربان اور مزاحیہ تحریر کا تجزیہ!!!

0
25
کامل احمر

اگر ضیاء محی الدین نہ ہوتے تو شاید مشتاق احمد یوسفی کو بہت کم لوگ جانتے۔ مزاح لکھنے والوں میں اس سے پہلے مجید لاہوری تھے پھر شفیق الرحمن کی آمد ہوئی جو پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے لیکن مزاح ان کی فطرت میں شامل تھا۔ وہ حماقتیں، شگوفے، دجلہ، مزید حماقتیں اور کرنیں جیسی کتب لکھ کر مشہور ہوئے جنہیں پڑھ کر متعدد نسلیں جوان ہوئیں۔ اگر یہ کتابیں دستیاب نہ ہوں تو اردو کے دیگر مزاحیہ لکھاریوں کی تلاش کرنی چاہیے جس کے لیے پرانی دکانوں کا رخ کیا جا سکتا ہے۔ ان میں میر امن کی باغ و بہار، مرزا رجب علی بیگ سرور کا فسانہ عجائب، رتن ناتھ سرشار کا فسانہ آزاد، منشی سجاد کی حاجی بغلول، سجاد حیدر یلدرم کا خیالستان، عظیم بیگ چغتائی کی شریر بیوی، رشید احمد صدیقی کے مضامین رشید، عصمت چغتائی کا دوزخی اور ٹیڑھی لکیر، کرشن چندر کی ایک گدھے کی سرگزشت، شوکت تھانوی کی سودیشی ریل، اور کرنل محمد خان کی بجنگ آمد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی کے خطوط پر بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ موجودہ دور میں رابطے کے جدید ذرائع نے لوگوں کو تنہا اور خاموش کر دیا ہے۔ مرزا غالب کے خطوط اس کی بہترین مثال ہیں اور اگر یہ بھی میسر نہ ہوں تو سوشل میڈیا پر ضیاء محی الدین کی آواز میں مشتاق احمد یوسفی کی تحریریں سنی جا سکتی ہیں کیونکہ جو لطف سننے میں ہے وہ پڑھنے میں کہاں۔ مشتاق احمد یوسفی خود تو مزاح لکھتے تھے مگر ان کے چہرے پر سنجیدگی رہتی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب کا نام خاکم بدہن رکھا جو ایک منفرد اور مشکل نام تھا جسے سمجھنا عام لوگوں کے لیے آسان نہ تھا، یہ بات 1961 کی ہے۔
سیاسی اور سماجی حالات کے تناظر میں جب بھی کوئی قوم خوف، اداسی، مایوسی یا ناکامی کا شکار ہوتی ہے تو یہ مزاحیہ لکھاری مرہم کا کام کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں عالمی اور مقامی سطح پر سیاسی تبدیلیاں اور قیادت کے فیصلے عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عوامی رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور لوگ ہر تہوار روایتی جوش و خروش سے مناتے ہیں، جس کا اندازہ انٹرنیٹ پر آنے والے اشتہارات سے ہوتا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب میں حج اور عمرہ کے دوران زائرین کا بڑا ہجوم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا پر آنے والی تشہیر سے متاثر ہو کر دنیا بھر سے لوگ بڑی تعداد میں وہاں کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اب وہاں ہر وقت غیر معمولی رش رہتا ہے۔
عید کے ایام میں جگہ جگہ عید بازار سجائے جاتے ہیں جہاں خریداری کے لیے لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف کاروباری برادریوں نے بڑے اسٹورز کے باہر اشیائے خورونوش کے اسٹالز بھی لگا دیے ہیں۔ جہاں تک قربانی کے جانوروں کا تعلق ہے، خریدار دکانداروں کو پہلے سے آرڈر دے دیتے ہیں تاکہ مناسب وزن کا جانور حاصل کیا جا سکے۔ عالمی سطح پر سیاسی رہنماؤں کی پالیسیوں کی وجہ سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا واضح ثبوت ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی بیانات اور سفارتی دورے عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں معاشی اور سماجی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے اور عوام مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here