مسلمان ہونے کی حیثیت سے اجتماعی طور پر ہم اس کردار کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے جو ہم پر فرض ہے۔ معاشرتی بے حسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ جب بھی کوئی شر پسند مسجد پر حملہ کرتا ہے یا کسی مسلم خاتون کا حجاب نوچنے کی کوشش کرتا ہے، تو ہماری طرف سے خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ گزشتہ روز سان ڈیاگو کے مسلم سینٹر پر ہونے والا حملہ امریکہ میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی کا واضح شاخسانہ ہے۔ اس واقعے کے دوران دوسروں کی جانیں بچانے والے سیکیورٹی گارڈ عبداللہ داد تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں کی حفاظت کی۔ عبداللہ کا نام دنیا بھر میں فخر سے لیا جا رہا ہے اور وہ بلاشبہ ایک ہیرو ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس حملے کے مجرموں کی شناخت کو اب تک کیوں چھپایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی میں ملوث لڑکے غیر مسلم تھے جن کے نام کین کلارک اور کالیب ویلاسکیز بتائے جاتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ان مجرموں کی جگہ احمد یا محمد نامی کوئی مسلمان کسی چرچ پر حملہ آور ہوتا، تو اب تک عالمی ابلاغیامے کے اکثریتی چینل اسے اسلامی دہشت گردی قرار دے چکے ہوتے، بعض آیات کا من پسند ترجمہ کر کے اسلام کو ایک متشدد مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی اور تمام مسلمانوں کو امریکہ سے نکالنے کے مطالبات شروع ہو جاتے۔
اس دہرے معیار پر جہاں مغربی ذرائع ابلاغ کی خاموشی معنی خیز ہے، وہاں ہمارے اپنے نام نہاد مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی خاموشی بھی انتہائی قابل افسوس ہے جو تفرقہ بازی اور ذاتی مفادات کے لیے تو ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں لیکن ایسے سنگین واقعات پر مہر بہ لب ہو جاتے ہیں۔ خصوصاً ریاست مدینہ کے علمبردار اور پوری مسلم دنیا کی مسیحائی کا دعویٰ کرنے والے بھی اس معاملے پر مکمل خاموش ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی سیاسی قیادت کو اپنے رہنماؤں کی شخصیت پرستی سے ہٹ کر قومی اور ملی مسائل پر بات کرتے ہوئے شاید شرم محسوس ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری مذہبی اور انسانی حس وقت کے ساتھ ختم ہوتی جا رہی ہے۔
پاکستان کے عام انتخابات میں دو سو یونٹ مفت بجلی، سستا تیل، سستی گیس اور بے روزگاری کے خاتمے جیسے دعوے سیاسی رہنماؤں کا روایتی وطیرہ بن چکے ہیں۔ ان جماعتوں کا عوامی مفادات سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں عوام پانچ سال تک ان کے دور حکومت کی چکی میں پستے ہیں، انہیں برا بھلا کہتے ہیں لیکن اگلی بار پھر ووٹ انہی کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اسی سیاسی منافقت اور دوغلے پن نے ہماری انسانیت، قومیت اور مذہبی تشخص کو دھندلا کر دیا ہے۔ ملک میں مروجہ سیاسی نظام، چاہے وہ کسی بھی روایتی جماعت کا دور ہو یا مختلف آمریتوں کا دور حکومت، ہمیشہ عوام کو دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے پر مبنی رہا ہے، مگر عوام پھر بھی انہی کے گیت گانے میں مصروف رہتے ہیں۔ مہنگائی اور بدحالی کا رونا رونے والے ووٹرز اگر اپنے رویوں پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ دوغلا پن ہماری عادت بن چکا ہے، جہاں ہم دیانتدار اور محب وطن قیادت کو پہچاننے کے باوجود ووٹ ہمیشہ ذاتی مفادات کے سوداگروں کو دیتے ہیں۔
اگر ہم دنیا کے دیگر حصوں کی سیاسی تبدیلیوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں واضح فرق نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر بھارت کی ریاست تامل ناڈو کے حالیہ انتخابی نتائج اور وہاں کے نئے اقدامات ہمارے لیے ایک اہم سبق ہیں۔ تامل ناڈو کے نو منتخب وزیر اعلیٰ اور مشہور فلمی شخصیت سی جوزف وجے نے 9 مئی 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ گورنر نے چنئی کے اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک تقریب میں ان سے حلف لیا اور انہیں 13 مئی تک اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ 22 جون 1974 کو پیدا ہونے والے وجے نے فروری 2024 میں اپنی سیاسی جماعت تملگا ویترری کڑاگم کی بنیاد رکھی اور محض دو سال کے مختصر عرصے میں کامیابی حاصل کر کے سب سے بڑی عدالت تک پہنچ گئے۔ ان کی جماعت نے انتخابات میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 234 میں سے 108 نشستیں حاصل کیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کے تعاون سے مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے حکومت سازی کی۔
موجودہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے تامل ناڈو میں مسلمانوں کی تعداد 5.8 فیصد جبکہ عیسائیوں کی آبادی 6 فیصد ہے، اور نئے وزیر اعلیٰ کا تعلق اسی عیسائی اقلیت سے ہے۔ حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان ان کے بھائی بہن ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دے کر کامیاب کروایا، اس لیے وہ ریاست میں کوئی مذہبی کارڈ استعمال نہیں ہونے دیں گے بلکہ سیکولرازم اور سماجی انصاف کا نیا دور شروع کریں گے۔ انہوں نے پہلے ہی دن دس اہم ترین فلاحی وعدوں پر مشتمل سرکاری فائلوں پر دستخط کیے، جن میں ہر اس گھر کے لیے 200 یونٹ ماہانہ مفت بجلی فراہم کرنا شامل ہے جس کا مجموعی استعمال 500 یونٹ سے کم ہو۔ اس کے علاوہ خواتین کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس کا قیام، منشیات کے خلاف کارروائی کے لیے اسکواڈ کی تشکیل، مستحق خواتین کے لیے 2,500 روپے ماہانہ امداد، چھوٹے کسانوں کے زرعی قرضوں کی معافی، اور بزرگ شہریوں و بیواؤں کے لیے 3,000 روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنا شامل ہے۔ نوجوانوں کے لیے انہوں نے بے روزگار گریجویٹس کو 4,000 روپے اور ڈپلوما ہولڈرز کو 2,500 روپے ماہانہ الاؤنس دینے کا اعلان کیا، جبکہ تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور سڑکوں کی بہتری کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا۔ انہوں نے حکومت میں مکمل شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کی پالیسی نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کے مالی حالات کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے کے لیے ایک سفید کاغذ جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
ان کے وزیر اعلیٰ بننے میں چند باتیں انتہائی خاص ہیں۔ پہلی یہ کہ محض 6 فیصد عیسائی آبادی والے صوبے نے ایک عیسائی رہنما کو اپنا وزیر اعلیٰ منتخب کیا، جو وہاں کے آئین کی حقیقی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ان کی کامیابی نے پچھلی نصف صدی سے جاری روایتی جماعتوں کی دو قطبی سیاست اور تسلط کو یکسر ختم کر دیا ہے، کیونکہ 1967 کے بعد پہلی بار کسی غیر دراوڑی جماعت نے تامل ناڈو میں حکومت بنائی ہے۔ وجے نے بغیر کسی وسیع تنظیمی ڈھانچے کے صرف اپنی ذاتی مقبولیت کے بل بوتے پر 34.92 فیصد ووٹ حاصل کیے، جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔ جہاں ان کے حریف رہنماؤں نے سینکڑوں سیاسی ریلیاں کیں، وہیں وجے نے پورے ہفتے میں صرف 35 منٹ تقریر کی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ یہ کامیابی صرف مداحوں کی دیوانگی نہیں بلکہ سیاسی تبدیلی کی گہری خواہش تھی، جس میں 18 سے 30 سال کے نوجوانوں اور خواتین نے ان کے فلاحی وعدوں سے متاثر ہو کر بھرپور حصہ لیا۔
ووٹرز کے ان کی طرف راغب ہونے کی ایک بڑی وجہ ان کی جدید انتخابی حکمت عملیاں بھی تھیں، جس میں روایتی جلسوں کے بجائے سوشل میڈیا، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ہولوگرام ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے اپنی مہم میں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا پر مبنی طرز حکومت کا وعدہ کیا ہے تاکہ سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کا رواج ختم ہو سکے۔ اس کے علاوہ ان کا سب سے بڑا وعدہ ایک ایسا ڈیجیٹل کارڈ ہے جو ہر شہری کی پیدائش سے ہی فعال ہو جائے گا اور یہ کارڈ رشوت خوری کے خاتمے اور سرکاری فوائد کو براہ راست عوام تک پہنچانے کے لیے موجودہ شناختی نظام سے بھی زیادہ جدید ورڑن ثابت ہو سکتا ہے۔ فلمی دنیا کے ایک وائرل منظر کو سچ ثابت کرتے ہوئے وہ اب ایک حقیقی سیاسی رہنما کے طور پر اپنی نئی شناخت بنا چکے ہیں، جسے نوجوان ایک نئی سیاسی شروعات کا نام دے رہے ہیں۔
ہماری سیاسی قیادت کو ایک فلمی اداکار کے اس طرز عمل اور عوامی خدمت کے جذبے سے کچھ سیکھنا چاہیے۔ کلمہ کے نام پر بننے والے ملک پاکستان میں اجارہ داری قائم ہے، جہاں غریب مسلسل پس رہا ہے اور امیر کو ہر طرف سے مراعات حاصل ہیں۔ اگر ہم نے پاکستان کو صحیح منزل فراہم کرنی ہے اور ایک ایماندار، دیانتدار اور محب وطن قیادت کو سامنے لانا ہے، تو ہمیں اپنے ذاتی رویوں، انتخاب کے معیار اور اس منافقت کو بدلنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق دے۔














