زندگی میں پہلی بار اللہ کے گھر کی حاضری کا موقع ماہِ رمضان میں نصیب ہوا جب اپنی والدہ اور بھائیوں کے ساتھ حرمِ کعبہ پہنچنے کی سعادت ملی۔ اس وقت یوں محسوس ہوا جیسے برسوں کی دعائیں ایک ہی لمحے میں قبولیت پا گئی ہوں۔ رمضان المبارک کی وہ نورانی راتیں، خانہ کعبہ کے گرد جاری رہنے والا طواف، تلاوتِ قرآن کی دلنشین آوازیں اور سجدوں میں بھیگی ہوئی دعائیں آج بھی دل میں اسی طرح زندہ ہیں۔ چالیس دن کے قیام کے بعد جب طوافِ وداع کا وقت آیا تو بیت اللہ کو دیکھتے ہوئے دل عجیب اداسی میں ڈوب گیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے روح اپنا کوئی حصہ وہیں چھوڑ کر جا رہی ہو، اسی لمحے اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائے اور اگلی بار حج کی سعادت کی دعا مانگی۔ اس وقت آنکھیں اشکبار تھیں اور دل میں صرف یہی ایک خواہش مچل رہی تھی کہ اے میرے اللہ، ہمیں دوبارہ اپنے گھر حج کے لیے بلا لینا اور پھر اللہ کی شان دیکھیے کہ جس دعا کو ہم نے آہوں اور آنسوؤں کے ساتھ مانگا تھا، رب ذوالجلال نے اسے شرفِ قبولیت عطا فرما دیا۔
اگلے ہی سال ہمیں دوبارہ حج کی سعادت حاصل ہوئی اور یہ کرم میرے رب کی خاص مہربانی کا مظہر تھا۔ اس کے بعد بھی بارہا حجازِ مقدس کی حاضری نصیب ہوئی اور ہر بار یہی محسوس ہوا جیسے رب اپنے بندوں کو محبت سے بار بار بلا رہا ہو کیونکہ سچی بات یہی ہے کہ اللہ جب بلاتا ہے تو راستے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیں۔ ہمارا یہ سفر ایک ایسا روحانی تجربہ تھا جس نے دل، سوچ اور روح کے تمام زاویے بدل دئیے۔ ذوالحجہ کا چاند طلوع ہوتے ہی فضاؤں میں لبیک اللہم لبیک کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں اور یہ صدا صرف کانوں سے سنی نہیں جاتی بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے جیسے اللہ اپنے بندے کو خاص طور پر اپنے در پر بلا رہا ہو۔
جب حاجی احرام باندھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دنیاوی شناخت کہیں پیچھے گم ہو گئی ہے اور سفید لباس میں ملبوس ہر انسان ایک جیسا دکھائی دینے لگتا ہے۔ وہاں نہ کوئی امیر ہوتا ہے، نہ غریب، نہ کوئی بڑا ہوتا ہے اور نہ کوئی چھوٹا، اس لمحے دل میں صرف ایک ہی احساس رہ جاتا ہے کہ ہم اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے جا رہے ہیں۔ احرام دراصل انسان کو عاجزی، مساوات اور بندگی کا عملی سبق دیتا ہے۔ اس کے بعد جب خان? کعبہ پہلی بار نگاہوں کے سامنے آتا ہے تو وقت جیسے تھم جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسو خود بخود بہنے لگتے ہیں۔ طواف کے دوران ہر قدم دعا بن جاتا ہے اور ہر چکر بندگی کا اقرار محسوس ہوتا ہے، یوں لگتا ہے جیسے انسان اپنے رب کی رحمت کے سائے میں گردش کر رہا ہو۔ صفا اور مروہ کی سعی حضرت بی بی ہاجرہ علیہ السلام کے صبر اور توکل کی یاد دلاتی ہے جہاں ہم ہر قدم پر یہ سیکھتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ ذات بیابان میں بھی زم زم کے چشمے جاری کر دیتی ہے اور اس متبرک پانی کا ہر گھونٹ روح تک کو معطر کر دیتا ہے۔
منیٰ کی بستی کے سفید خیمے امتِ مسلمہ کی وحدت اور یگانگت کا ایک بے مثال منظر پیش کرتے ہیں جہاں ہر طرف صرف عبادت، دعا اور تلبیہ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ عرفات کے میدان میں پہنچ کر دل کی کیفیت مزید بدل جاتی ہے جہاں لاکھوں انسان ایک ہی وقت میں اللہ کے حضور ہاتھ اٹھائے کھڑے ہوتے ہیں اور وہاں جا کر یہ شدت سے محسوس ہوتا ہے کہ انسان دنیا میں کتنا بے بس ہے اور اللہ کی رحمت کتنی وسیع ہے۔ اسی طرح مزدلفہ کی رات، کھلا آسمان، خاموش ستارے اور زمین پر سجدہ ریز انسان یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل سکون دنیا کی آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ کی قربت میں پوشیدہ ہے۔ رِمی کے دوران جب شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ہم اپنے اندر کے غرور، حسد اور گناہوں کو بھی ہمیشہ کے لیے پیچھے چھوڑ رہے ہوں جبکہ قربانی کا فریضہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت کی یاد تازہ کرتا ہے جہاں اللہ کی رضا ہر دوسری محبت پر غالب آ جاتی ہے۔
اس پورے سفر کا ایک حسین ترین پڑاؤ مدینہ منورہ کی حاضری ہے جہاں روض? مبارک رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پہنچ کر الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، صرف آنسو بہتے ہیں اور دل و زبان پر درود و سلام جاری رہتا ہے، وہاں جا کر یہ ادراک ہوتا ہے کہ محبت کس طرح عبادت بن جاتی ہے۔ یہ روحانی سفر اگرچہ بظاہر ختم ہو جاتا ہے مگر اس کی روشنی دل و دماغ میں ہمیشہ باقی رہتی ہے، لبیک کی صدائیں روح میں گونجتی رہتی ہیں اور دل ہر وقت یہی دعا کرتا ہے کہ اے اللہ، اپنے گھر کی حاضری بار بار نصیب فرما۔ آمین۔













