پروفیسر مقصود جعفری کی شخصیت اور فن کا چند جملوں میں احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے ادبی مقام اور اوصاف پر اب تک بے انتہا لکھا جا چکا ہے اور مزید کئی کتابیں بھی لکھی جا سکتی ہیں۔ پروفیسر مقصود جعفری کو شاعری ورثے میں ملی کیونکہ ان کے والد محترم تحسین جعفری بھی اپنے وقت کے مشہور و معروف شاعر اور فلاسفر تھے جو کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ پروفیسر مقصود جعفری حقیقی معنوں میں شاعر انقلاب، شاعر انسانیت، شاعر اسلام اور خطیب انقلاب ہیں۔ وہ ایک مدبر، فلاسفر اور استاد کی حیثیت سے اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں اور انہیں اردو، فارسی، عربی، انگریزی، پنجابی، کشمیری اور فرانسیسی زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ حق گوئی، بے نیازی، روشن فکری، انسان دوستی، علم دوستی، خود داری اور انقلاب پروری ان کی ذات کے بنیادی اعضائے ترکیبی ہیں۔
ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے وہ خطیب انقلاب نظر آتے ہیں اور اپنے اسلوب میں مولانا ظفر علی خان، سید عطائ اللہ شاہ بخاری اور شورش کاشمیری کے کاروان شعر و ادب کے مسافر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ جب انسانیت کے حوالے سے قلم اٹھاتے ہیں تو کبھی فلسطین، کبھی کشمیر اور کبھی بوسنیا سمیت دنیا بھر کی مظلوم و مجبور اقوام کی آواز بن جاتے ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک شمشیر بے نیام بن جاتے ہیں اور اسی تناظر میں ایک جگہ لکھتے ہیں
قبضے میں حسن آ گیا سرمایہ دار کے
تعریف حسن شاعروں کے پاس رہ گئی
ایک اور مقام پر وہ سرمایہ دارانہ نظام کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں
ذہن پہ جس کے غلامی کی لگی ہوں مہریں
میری توہین ہے اْس ننگ بشر سے ملنا
علم دوستی اور انسان دوستی کی جھلک بھی ان کے کلام میں نمایاں ہے جس کا اندازہ ان کے اس شعر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے
مسلک کا میرے نام ہے انسان دوستی
انساں ہوں مجھ کو جعفری انساں سے پیار ہے
ان کی انقلابی شاعری میں مختلف بڑے شعراء کرام کے فکر کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان کی نظم ظلم کی بستی پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے حبیب جالب کی روح ان میں سما گئی ہے۔ جب ان کی نظم صرافہ بازار کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں ساحر لدھیانوی کی سوچ و فکر کا پرتو نظر آتا ہے جبکہ یتیم بچی کی شادی نامی نظم میں شورش کاشمیری کا انداز فکر جھلکنے لگتا ہے۔ اسی طرح ان کی نظم رسم شاہی میں مصطفیٰ زیدی مرحوم جیسا خیال اجاگر ہوتا ہے اور ان کی عشقیہ شاعری میں پیاری آنکھیں سنتے ہوئے احمد فراز کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ جدوجہد انقلاب کے حوالے سے قوت برائے امن نامی نظم فیض احمد فیض کی جری انقلابی شاعری کی یاد دلاتی ہے اور غم حسین نامی نظم میں شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کا سا انداز ملتا ہے جبکہ شاہ نامہ فردوسی میں علامہ اقبال بولتے محسوس ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر پروفیسر مقصود جعفری کی شاعری میں استاد الشعراء کا انداز فکر نمایاں ہونے کے باوجود ان کی اپنی ایک منفرد شناخت قائم ہے۔ وہ فرقہ پرستی کے خلاف جہاد کرتے نظر آتے ہیں اور خود ایک جگہ لکھتے ہیں
اسلام سراپا رحمت ہے اسلام کو کس سے خطرہ ہے
یہ نوع بشر کی خدمت ہے اسلام کو کس سے خطرہ ہے
ہنگامہ محشر برپا ہے واعظ کے خطاب فتنہ سے
یہ فرقہ پرستی لعنت ہے اسلام کو کس سے خطرہ ہے
ان کی تصنیف روزن دیوار زنداں شعر و شاعری کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں اگرچہ اردو کلام زیادہ ہے تاہم اس میں فارسی، عربی، پنجابی، انگریزی اور کشمیری زبان کی شاعری کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بہت سے مشاہیر ادب نے اس کتاب پر اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں اور تمام احباب نے پروفیسر صاحب کی علمی و ادبی خدمات کو شاندار خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب حقیقت میں ایک عظیم علم دوست اور انسان پرور شخصیت ہیں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگ ان کے قدردان ہیں۔ وہ ایک نہایت عظیم، قابل اور محترم استاد ہیں اور اگرچہ راقم کو ان کا باقاعدہ شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل نہیں لیکن اس کے باوجود یہ خوشی برقرار ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں ان سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھا ہے۔
ڈاکٹر مقصود جعفری کی اب تک شاعری اور نثر پر 35 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعوں میں متاع درد، میخانہ اور فانوس خیال رومانوی شاعری کے شاہکار ہیں جبکہ گوشہ قفس، آواز عصر، اوج دار اور موجودہ کتاب روزن دیوار زنداں انقلابی شاعری سے مزین ہیں۔ ان کی یہ شاعری فسطائیت، آمریت، جاگیردارانہ نظام، ملائیت، سرمایہ داری، ظلم و استبداد اور غلامی کے خلاف ایک نعرہ حق کی مانند ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں انسانی عظمت کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا ہے اور وہ اپنے دور کے نامور شعراء جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، عبدالحمید عدم، احمد فراز، مظفر وارثی، حبیب جالب، سید ضمیر جعفری، باقی صدیقی، احمد ندیم قاسمی اور احسان دانش جیسے عظیم المرتبت انقلابی شعراء کرام کی فکری روایات کے سچے پاسدار ہیں۔
انہیں عوامی مسائل اور مشکلات کا گہرا ادراک ہے جس کے باعث ان کی شاعری میں زندگی کے حقائق اور قومی و اجتماعی مسائل کا حوالہ موجود رہتا ہے۔ انہوں نے کشمیر کاز کو جہاں اپنی شاعری میں اجاگر کیا وہاں اس کے لیے عالمی سطح پر بھی آواز بلند کی۔ ان کی کتاب کی تقریب رونمائی میں تمام مقررین نے ڈاکٹر مقصود جعفری کے فن اور ان کی شخصیت پر سیر حاصل اظہار خیال کیا لیکن اس کے باوجود یہ ادنیٰ خیالات اس عظیم انسان دوست اور ہفت زبان شاعر کے سامنے سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہیں۔ دعا ہے کہ علم و ادب کا یہ ستارہ ہمیشہ چمکتا رہے، اللہ تعالیٰ انہیں عمر خضر عطا فرمائے تاکہ وہ اپنے علم سے شعر و ادب کی دنیا کو منور کرتے رہیں اور بحیثیت استاد علم و فیض کا سرچشمہ جاری رکھیں۔ پروفیسر مقصود جعفری کی عظمت کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام پیش کیا جاتا ہے۔













