آئین پاکستان ترامیم کی زد میں !!!

0
54
رمضان رانا
رمضان رانا

آئینِ پاکستان اس وقت پے در پے ترامیم کی زد میں ہے، جس کے باعث اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ کبھی 26 ویں، کبھی 27 ویں اور اب 28 ویں ترمیم کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے جمہوری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سیاسی منظر نامے پر ترامیم کے نام پر دباؤ کا ماحول قائم کیا جا رہا ہے، لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت آئین میں موجود ان آرٹیکلز پر بات کرنے کو تیار نہیں جو عوامی نمائندوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پارلیمنٹ کے ارکان کو اپنی مرضی اور ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، اور اگر کوئی رکن پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ دیتا ہے تو اس کی رکنیت ختم کر دی جاتی ہے۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ایک فیصلے نے اس سزا کو مزید سخت کرتے ہوئے یہ طے کر دیا کہ منحرف رکن کا ووٹ بھی شمار نہیں ہوگا۔ یہ آئینی صورت حال دراصل عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے پارلیمنٹیرینز کو ان کے ووٹرز کی خواہشات کے مطابق فیصلہ کرنے سے روکتی ہے، جو بالواسطہ طور پر عوام کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔
اگر امریکی آئین اور پاکستانی آئین کی تاریخ کا موازنہ کیا جائے تو دونوں کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ امریکی آئین صرف سات آرٹیکلز پر مشتمل دنیا کا مختصر ترین آئین ہے، جس میں گزشتہ تقریباً ڈھائی سو سال کے طویل عرصے کے دوران صرف 27 ترامیم کی گئیں۔ اس کے برعکس، پاکستان کے 280 آرٹیکلز پر مشتمل آئین میں گزشتہ پچاس سالوں کے دوران 27 ترامیم کی جا چکی ہیں۔ ان تمام ترامیم میں صرف 18 ویں ترمیم ہی قابلِ ذکر ہے، جس کے تحت صوبوں کو تاریخی اختیارات دیے گئے۔ اس سے قبل 8 ویں ترمیم کا خاتمہ اہم تھا، جو جنرل ضیائ الحق نے اپنے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کو تحفظ دینے کے لیے نافذ کی تھی۔ ان کے علاوہ زیادہ تر ترامیم لاحاصل ثابت ہوئی ہیں جن کا مقصد صرف وقتی سیاسی مفادات کا تحفظ تھا۔ موجودہ دور میں یہ تشویشناک صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ آئینی ترامیم کے لیے مبینہ طور پر دباؤ اور بلیک میلنگ کے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکمران اتحاد پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ 28 ویں ترمیم کے ذریعے 18 ویں ترمیم کا خاتمہ یا اس کو کمزور کرنا چاہتا ہے، اور اس مقصد کے لیے مختلف کرداروں کو استعمال کر کے ارکانِ پارلیمنٹ کو ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ وہ مطلوبہ ترامیم کے حق میں ووٹ دیں۔ یہ غیر مہذبانہ ہتھکنڈے پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کر رہے ہیں، اس لیے آئین اور آئین سازوں کو ایسے منفی حربوں سے بچانا ناگزیر ہے۔
تاریخی طور پر، 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو وہ تمام اختیارات فراہم کیے گئے جن کا وعدہ آئینِ پاکستان میں کیا گیا تھا، اور جن کی خاطر شیخ مجیب الرحمن، خان عبدالولی خان اور غوث بخش بزنجو جیسے سیاست دانوں نے اپنی زندگیاں جیلوں میں گزاریں۔ ماضی میں صوبائی محرومیوں ہی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بنا تھا۔ اسی تلخ تجربے کے بعد آئین میں یہ اصول وضع کیا گیا تھا کہ صوبوں کو مکمل داخلی خود مختاری دی جائے تاکہ وہ فیڈریشن کا حصہ رہتے ہوئے اپنے عوام کو سہولیات فراہم کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے چالیس سال کے انتظار کے بعد 18 ویں ترمیم لائی گئی، جس سے مرکز سے صوبوں کو زیادہ آزادی ملی، کئی محکمے صوبوں کے حوالے کیے گئے اور صوبوں کے مالیاتی بجٹ میں اضافہ کیا گیا۔ اب ایسا کیا معاملہ ہوتا ہے کہ مرکز کو یہ صوبائی خود مختاری قابلِ قبول نہیں لگ رہی، حالانکہ مرکز کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ صوبوں کے وجود ہی سے قائم ہے۔ اگر صوبے نہیں ہوں گے تو وفاق قائم نہیں رہ سکتا، اور وفاق کے بغیر ریاست کا تصور ممکن نہیں ہے۔ وفاق اور صوبے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، اس لیے آئین میں بے مقصد اور غیر ضروری ترامیم کا سلسلہ فوری طور پر روکا جانا چاہیے، کیونکہ آئین کی بار بار بگاڑی جانے والی شکل مستقبل میں ملک کے لیے شدید سیاسی و آئینی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here