مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں ایک بار پھر جنگ کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں اور خطہ کسی بھی وقت ایک ہولناک علاقائی تصادم کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے جوہری بجلی گھر پر ہونے والے حالیہ فضائی حملے اور سعودی عرب کی سرحدوں کے قریب فوجی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیے جانے کے واقعات نے خطے میں عارضی جنگ بندی کے معاہدے کو عملاً ختم کر دیا ہے۔ ان بڑھتے ہوئے حملوں نے جہاں خلیجی ممالک کے دفاعی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا ہے، وہاں عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کی ناکامی پر بھی مہر ثبت کر دی ہے۔ امریکی قیادت کی جانب سے ایران کو دی جانے والی سخت ترین انتباہی وعیدیں اور تہران کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوششوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس کے بعد پورا خطہ اب بارود کے ایسے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں چنگاری کا ایک معمولی سا جھونکا بھی عالمی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
سفارتی محاذ پر پسِ پردہ چلنے والی بین الاقوامی کوششیں اس وقت مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں جس کا واضح ثبوت بیجنگ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہیں۔ امریکی صدر نے حال ہی میں چین کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا تاکہ عالمی سطح پر خام تیل کے سب سے بڑے خریدار کو اس بات پر آمادہ کیا جا سکے کہ وہ ایران پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ بڑھائے اور اہم سمندری گزرگاہ کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلا رکھنے میں واشنگٹن کا ساتھ دے۔ تاہم بیجنگ نے اپنے دیرینہ تزویراتی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے امریکی موقف کی حمایت کرنے سے صاف گریز کیا، جس نے امریکی انتظامیہ کو شدید مایوسی سے دوچار کیا۔ اس بڑی سفارتی ناکامی کے بعد واشنگٹن نے اب دباؤ بڑھانے کے لیے ایک بالکل مختلف اور جارحانہ انداز اختیار کیا ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ایسا نقشہ جاری کیا گیا ہے جس میں گیارہ مختلف سمتوں سے ایران پر زمینی فوج کی چڑھائی کا اشارہ دیا گیا ہے۔ اس خطرناک جنگی پوزیشننگ کا اصل مقصد تہران پر شدید نفسیاتی اور فوجی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ خوفزدہ ہو کر امریکی مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دے، لیکن یہ حکمتِ عملی اتنی نازک ہے کہ فریقین کے درمیان کوئی بھی معمولی سی غلط فہمی اس فرضی دباؤ کو ایک حقیقی اور خونی معرکے میں تبدیل کر سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران بھی کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا اور اس نے اپنے دفاعی انداز کو انتہائی جارحانہ بنا لیا ہے۔ تہران کی عسکری قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ امریکی اقدام کی صورت میں وہ اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر امریکی مفادات پر کاری ضرب لگائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں زیرِ زمین بنے ہوئے اپنے وسیع و عریض میزائل شہروں کے دروازے کھول دیے ہیں اور اپنے سینکڑوں جدید ترین بیلسٹک اور آواز کی رفتار سے تیز چلنے والے میزائلوں کو داغنے کی پوزیشن پر لا کر ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے کوئی بھی فوجی کارروائی کی گئی تو ایران کے پاس موجود خودکش ڈرونز اور ہدف کو درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کی بڑی تعداد بیک وقت پورے خطے میں موجود فوجی تنصیبات کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کشیدہ ماحول میں خطے کے دیگر ممالک بھی شدید خوف اور سیکیورٹی بحران کا شکار ہیں، جہاں عراقی مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں اور اسرائیل کے چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ دفاعی نظام نے جنگ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اگر واشنگٹن انتظامیہ 28 فروری 2026 کو ایران پر کیے گئے اپنے پہلے بڑے حملے کے بھیانک نتائج سے سبق سیکھنے میں ناکام رہی تو اس بار پوری دنیا کو اس کی کہیں بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔ پچھلے حملے کے جواب میں ایران نے بحیرہ عرب اور خلیج عمان میں جو تلافی پسندانہ اقدامات کیے تھے، انہوں نے عالمی فوجی مبصرین کو حیران کر دیا تھا، اور اب اگر دوبارہ وہی غلطی دہرائی گئی تو ایران اہم ترین سمندری راستے یعنی آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دے گا۔ عالمی توانائی کے اداروں کے مطابق دنیا بھر کے خام تیل کا تقریباً بیس فیصد حصہ اسی نازک گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ فروری کے واقعے کے بعد دنیا کے پاس موجود ہنگامی تیل کے ذخائر نے معیشت کو سہارا دیا تھا، لیکن اب وہ ذخائر بھی ختم ہو چکے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی ستر فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اب اگر یہ سپلائی معطل ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں دو سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جائیں گی، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارتی نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا اور چین، جاپان، جرمنی اور بھارت جیسے بڑے صنعتی ممالک ایندھن کی شدید تنگی کے باعث معاشی جمود کا شکار ہو جائیں گے۔
اس ممکنہ معاشی تباہی کا سب سے بڑا اور براہِ راست جھٹکا خود امریکہ کو لگے گا جہاں پٹرول اور گیس کی قیمتیں اس حد تک آسمان کو چھونے لگیں گی کہ عام شہریوں کی زندگی مفلوج ہو جائے گی۔ وہاں نقل و حمل کے اخراجات میں پانچ سو فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جس سے اشیائے خوردونوش عام امریکی کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔ امریکی مرکزی بینک کو مہنگائی روکنے کے لیے شرحِ سود میں بے پناہ اضافہ کرنا پڑے گا جو وہاں کے بینکاری نظام کو ڈبو دے گا اور انتیس ٹریلین ڈالر سے زائد کا عوامی قرضہ ملک کو دیوالیہ پن کی طرف دھکیل دے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت خود امریکی قیادت کے اندر دو واضع دھڑے بن چکے ہیں جن میں سے ایک دھڑا اس مہم جوئی کو تزویراتی طور پر غلط قرار دیتے ہوئے فوری واپسی کا خواہاں ہے جبکہ دوسرا جارحانہ فوجی کارروائی پر اصرار کر رہا ہے۔ اب یہ فیصلہ واشنگٹن کے ہاتھ میں ہے کہ وہ خطے کو مستقل تاہی کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے یا دانش مندی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
٭٭٭












