اٹلی میں حق مانگنے کی سزا!!!

0
5
سید کاظم رضوی
سید کاظم رضوی

حق مانگنے کی سزا ایک ایسا لرزہ خیز سانحہ ہے جسے پڑھ کر انسانیت پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ اس واقعے کے راوی چوہدری محمود اصغر ہیں جن کی زبانی معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح دولت کی ہوس میں انسان اندھا، بے ضمیر، بے حس اور سفاک ہو جاتا ہے۔ اٹلی میں چار زرعی مزدوروں کو گاڑی میں زندہ جلائے جانے کے واقعے کی ہولناک تفصیلات سامنے آ رہی ہیں جو انسانی روح کو زخمی کرنے کے لیے کافی ہیں۔ گاڑی سے معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے ایک مزدور نے ہوش ربا انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ زندہ جلائے جانے والے افراد میں تین افغانی اور ایک پاکستانی شامل تھا۔ انہیں گاڑی کے اندر بند کر کے اوپر سے پٹرول ڈال کر آگ لگانے والے کوئی اور نہیں بلکہ دو پاکستانی ہی تھے جنہیں پٹرول پمپ کے خفیہ کیمروں کی مدد سے شناخت کیا گیا ہے۔ ان مجرموں نے نہ صرف گاڑی کو مقفل کر کے آگ لگائی بلکہ باہر کھڑے ہو کر دروازوں کو سختی سے بند رکھا تاکہ اندر بند انسان تڑپ تڑپ کر مر جائیں اور ان کے بچنے کا کوئی راستہ نہ رہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ معاشرہ اس وقت انسانیت سے اتنا دور اور بے حس ہو چکا ہے کہ خبر کے اصل درد کو سمجھنے کے بجائے اس لایعنی بحث میں الجھا ہوا ہے کہ اطالوی میڈیا مرنے والوں کو پاکستانی کیوں کہہ رہا ہے۔ اس وقت اس بحث کی کوئی اہمیت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مرنے والے اگر کسی روایتی دشمن ملک کے بھی ہوتے تو یہ خبر اتنی ہی مکروہ اور ہولناک ہوتی۔ المیہ یہ ہے کہ اخلاقی گراوٹ اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ کچھ لوگ انسانوں کو زندہ جلانے میں بھی کوئی خوف محسوس نہیں کرتے۔ اطالوی میڈیا انہیں پاکستانی اس لیے کہہ رہا تھا کیونکہ وہاں عام طور پر ہر پشتون کو بھی پاکستانی ہی سمجھا جاتا ہے۔ زندہ بچ جانے والے شخص کا بیان اپنوں ہی کے اس مکروہ دھندے کو بے نقاب کرتا ہے جس کے مطابق ان غریب پناہ گزینوں سے زرعی زمینوں پر کام اصل اطالوی مالک لیتا تھا اور انہیں پچاس یورو روزانہ دیتا تھا لیکن ان کے اوپر نگرانی کرنے والے نگران پاکستانی تھے۔ یہ نگران اتنے ظالم اور لالچی تھے کہ ان غریبوں کو کھیتوں تک گاڑی میں لے کر جانے کے نام پر بھی ہر روز پانچ یورو فی کس زبردستی کاٹ لیتے تھے۔
یہ مجبور لوگ وہاں بغیر قانونی دستاویزات کے کام کرتے تھے اور کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں دس دس لوگ رہنے پر مجبور تھے۔ ان غریب مزدوروں کا اپنے انہی پاکستانی نگرانوں سے جھگڑا ہوا تھا کیونکہ انہوں نے بس اتنا مانگا تھا کہ یا تو مالک سے کہہ کر ان کا کام قانونی کروایا جائے اور باقاعدہ معاہدہ کیا جائے یا پھر ان کی روزانہ کی تنخواہ بڑھائی جائے۔ ان کا قصور صرف اپنا حق مانگنا تھا اور انہیں اسی بات کی یہ ہولناک سزا دی گئی کہ انہیں زندہ جلا دیا گیا۔ اٹلی کے جنوبی علاقوں میں مافیا کا یہی چلن ہے کہ اگر وہاں کوئی مزدور کام کو قانونی کرنے یا اپنے حقوق کی بات کرے تو یہ مافیا اسے سیدھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ یہ وحشیانہ طریقہ کار وہاں نیا نہیں بلکہ کئی سالوں سے مسلسل جاری ہے جہاں مالٹوں کے بڑے بڑے باغات اور کھیتوں میں محض دو یورو فی گھنٹہ کی معمولی مزدوری پر انسانوں کا خون نچوڑا جاتا ہے۔
مزدوروں کے اس بدترین استحصال کی ایک دل دہلا دینے والی مثال ایک اطالوی صحافی کی رپورٹ میں ملتی ہے جس نے ان کھیتوں میں کام کرنے والے ایک افریقی مزدور کا انٹرویو کیا تھا۔ وہ صحافی ٹیلی ویڑن کی براہ راست نشریات میں یہ بات سناتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا تھا کہ اس مزدور کا مالک اسے ناشتے، دوپہر اور شام کے کھانے میں صرف مالٹے ہی کھانے کو دیتا تھا۔ ٹیلی ویڑن پر کوئی بھی شخص اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھا مگر بدقسمتی سے ایسا ہی ہوتا تھا کیونکہ اس صحافی نے اس افریقی کا خفیہ کیمروں سے کیا ہوا انٹرویو بھی چلا دیا تھا۔ یہ غیر قانونی شہریوں کو باقاعدہ ایک غلام بنانے کا طریقہ ہے جو وہاں کئی دہائیوں سے کھلم کھلا چل رہا ہے۔ وہاں اٹلی کے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی بالکل بے بس نظر آتے ہیں کیونکہ اٹلی کا مافیا اندر سے اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ کوئی جج یا پولیس افسر ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کر سکتا ورنہ ججوں کو بھی بموں سے اڑا دینے کے معاملات اٹلی کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگ اتنے ظلم کے باوجود ان کے پاس کام کیوں کرتے ہیں تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جو غیر ملکی دستاویزات کے بغیر ہوتے ہیں وہ مجبور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اس معاملے میں بھی واضح ہوا کہ وہ پناہ گزین تھے اور کیمرے پر دکھائے جانے والے کارڈز سے یہ سامنے آیا کہ وہ ابھی مکمل طور پر قانونی شہری نہیں بنے تھے۔ ایسے بے آسرا اور قانونی تحفظ سے محروم لوگ ہی اس مافیا کا سب سے آسان ہدف بنتے ہیں۔ ایک پاکستانی کے لیے یہ بات شدید تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے کہ ہمارے اپنے لوگ اس ظالم مافیا کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اس پورے استحصالی نظام کو اطالوی زبان میں کاپورالاتو کہتے ہیں جس کا اردو میں آسان مفہوم بیگار کیمپ ہی ہو سکتا ہے۔ حیرت ہے جو لوگ خود کبھی مجبور ہو کر اور ایجنٹوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو کر ایک بہتر مستقبل کے لیے اٹلی پہنچے تھے آج وہ خود اتنے بڑے ظالم بن چکے ہیں کہ دوسرے مجبور انسانوں کا گوشت نوچ رہے ہیں۔ جب تک ہم قومیتوں اور میڈیا کی سرخیوں کی بحث سے نکل کر اس درندگی کو بطور انسان محسوس نہیں کریں گے تب تک انسانیت ایسے ہی بیگار کیمپوں میں جلتی رہے گی اور ہمارا ضمیر سویا رہے گا۔ مرنے والے انسان تھے جو ایک بہتر مستقبل کے لیے گھر سے نکلے تھے اور ان کو زندہ جلا دیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنا حق مانگا تھا۔ دعا ہے کہ جو ان کمزور محنت کشوں پر گزری وہ وقت کبھی کسی انسان پر نہ آئے۔ آمین۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here