فیضانِ محدثِ اعظمِ پاکستان رضی اللہ عنہ
حضرت سیدنا امیر المؤمنین، امام المتقین، خلیفہ المسلمین، خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ تقریباً چھبیس ذوالحجہ شریف کو ابو لؤلؤ فیروز نامی بدبخت کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور یکم محرم الحرام 24ھ کو ان زخموں کی وجہ سے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ اسی مقدس مہینے کی ستائیس تاریخ کو داعیِ محدثِ اعظم پاکستان، ہزاروں علماء ، مدرسین، حفاظ اور مفتیانِ کرام کے استاذ، حکیمِ اہلِ سنت، فقیہِ زمان، الحاج، الحافظ، مفتی محمد نواب الدین رحمہ اللہ علیہ کا وصالِ باکمال بھی ہوا۔ آپ نے اپنی تمام زندگی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی، دینِ متین کے پرچار اور اس کی اشاعت میں گزاری۔ ہر سال آپ کا عرسِ پاک 27ذوالحجہ کو پاکستان کے شہر فیصل آباد میں صاحبزادہ محمد حسن الدین رضوی کی سرپرستی اور قائدِ ملتِ اسلامیہ، رہبرِ طریقت و شریعت صاحبزادہ قاضی محمد فیضِ رسول قادری رضوی سجادہ نشین آستانہ عالیہ محدثِ اعظم پاکستان کی صدارت میں منایا جاتا ہے، جہاں جید علماء مشائخ اور مفتیانِ کرام تشریف لا کر آپ کی دینی خدمات کو خراجِ عقیدت و محبت پیش کرتے ہیں۔ اس سال بھی یہ عرسِ مبارک 27ذوالحجہ شریف بروز ہفتہ بمطابق 13 جون کو عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جائے گا۔
سیدنا حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اسلام لانے کے بعد اپنی زندگیِ مطہرہ کا ایک ایک لمحہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مقاصد پر قربان کر دیا۔ ہجرت کا معاملہ ہو یا دینِ متین کی اعلانیہ تبلیغ کا سلسلہ، وہ ہر مقام پر سابقین اولین میں شامل نظر آئے۔ راہِ خدا میں جہاد کرنے اور مال و جان اور اولاد کی قربانیاں پیش کرنے میں انہوں نے کبھی دریغ نہیں کیا۔ اگرچہ ہجرت تو بہت سے صحابہ کرام علیہم الرضوان نے کی مگر آپ کی ہجرت کی شان سب سے منفرد تھی۔ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی نے بھی علی الاعلان ہجرت نہیں کی، انہوں نے اس شان سے ہجرت فرمائی کہ ہتھیار پہن کر، کندھے پر کمان لٹکائے اور ہاتھ میں چند تیر لئے کعبہ میں داخل ہوئے، پہلے طواف کیا، پھر مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کی اور اس کے بعد اشرافِ قریش کو مخاطب کر کے واشگاف الفاظ میں فرمایا کہ میں ہجرت کر کے مدینہ جا رہا ہوں، جو شخص اپنے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ بنانا چاہتا ہو وہ میرا راستہ روک کر مقابلہ کے لئے سامنے آ جائے، مگر کسی کافر میں اتنی تاب و طاقت نہیں تھی کہ آپ کا راستہ روکتا یا مقابلہ کرتا۔ چنانچہ آپ اعلانیہ بیس افراد کو ہمراہ لے کر مدینہ منورہ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور مہاجرینِ اولین کے معزز لقب سے سرفراز ہوئے۔
ایسی ہی جرأت، بہادری اور جوشِ ایزدی کا مظاہرہ آپ رضی اللہ عنہ نے ہر نازک موقع پر کیا۔ آپ کے نزدیک کسی منافق یا گستاخ کو روئے زمین پر زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ مدینہ منورہ پہنچ کر آپ نے دین کی حمایت اور نبوت کے تحفظ کا ایسا شاندار ریکارڈ قائم کیا جو تاریخِ اسلام میں ہمیشہ ایک ممتاز شاہکار رہے گا۔ تمام مؤرخینِ اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ ایک ہجری سے لے کر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت تک جتنی لڑائیاں ہوئیں، غیر مسلموں سے جو معاہدات عمل میں آئے اور اشاعتِ اسلام کے لئے وقتاً فوقتاً جتنی تدبیریں اور انتظامات کئے گئے، ان میں سے ایک موقع بھی ایسا نہیں تھا جو آپ رضی اللہ عنہ کی شرکت اور مشاورت کے بغیر طے پایا ہو۔ سفر و حضر اور صلح و جنگ میں وہ ہر جگہ اور ہر حال میں بارگاہِ نبوت کے خاص الخاص رفیق و معین رہے اور تن، من، دھن کے ساتھ خدمتِ دین اور نصرتِ اسلام کے لئے کمر بستہ رہے۔
حضرت امیر المؤمنین، خلیفہ بلا فصل، خلیفہ اول ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، جو انبیاء کے بعد تمام انسانوں میں افضل ہیں، انہوں نے اپنی ظاہری حیاتِ طیبہ کے آخری ایام میں ہی آپ رضی اللہ عنہ کو اپنا ولی عہد اور جانشین مقرر فرما دیا تھا۔ چنانچہ آپ 22جمادی الثانی 31ھ کو مسندِ خلافت پر جلوہ فرما ہوئے۔ آپ کے دورِ خلافت میں عظیم الشان اسلامی فتوحات حاصل ہوئیں، جن میں دمشق، حمص، بعلبک، بصرہ، ایلہ، اردن، طبریہ، اہواز، مدائن، قنسرین، حلب، تکریت، جندِ نیشاپور، حلوان، حران، نصیبین، قیساریہ، مصر، تستر کا مشہور قلعہ، اسکندریہ، نہاوند، آذربائیجان، دینور، ہمدان، طرابلس الغرب، رے، عسکر، کرمان، سجستان، مکران کے پہاڑی علاقے اور اصفہان وغیرہ شامل ہیں۔ ان بے مثال فتوحات کے علاوہ آپ نے اپنے دورِ خلافت میں دیگر عظیم خدمات بھی انجام دیں۔ مسجدِ نبوی شریف کو وسعت اور رونق عطا کی۔ محدثِ جمال الدین نے روضہ الاحباب میں تحریر کیا ہے کہ آپ کے دورِ خلافت میں چار ہزار مساجد تعمیر ہوئیں اور قرآنِ مجید کی تعلیم اور اس کی نشر و اشاعت کا پوری سلطنت میں ایک ایسا مضبوط نظام قائم فرمایا جس کی بدولت ہزاروں حفاظ، محدثین اور فقہاء عالمِ وجود میں آئے۔ آپ دس برس تک ہر سال خود بھی امیرِ الحج رہے اور اپنے خطبات، خطوط اور فرامین کے ذریعہ اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے، جبکہ اپنے عمالِ حکومت کو بھی ہمیشہ تعلیمِ اسلام اور اشاعتِ دین کی تاکید فرماتے رہے۔ آپ دس سال چھ ماہ تک مسندِ خلافت پر فائز رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی شریف کے اندر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا اور روضہ انور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہوئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین ثم آمین۔











