محترمہ طاہرہ حسین …(آپا)

0
4
عامر بیگ

طاہرہ آپا ایک لیونگ لیجنڈ ہیں جن کے چاروں بچوں نے ان کی خوشی کے لیے ڈبل ٹری فیئرفیلڈ نیو جرسی میں ایک یادگار شام کا اہتمام کیا۔ آج کل کے نفسا نفسی اور تیز رفتار زندگی کے دور میں کم ہی ایسے سعادت مند بچے ہیں جو اپنے والدین کی خوشی کے لیے اس طرح کی پروقار تقاریب منعقد کرتے ہیں اور ان کے دوستوں، رشتہ داروں اور مداحوں کو ایک چھت تلے مدعو کرتے ہیں۔ طاہرہ آپا جیسی عظیم شخصیت کے لیے ایسی تقریب کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت بھی تھا، خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب وہ صحت کی ناسازی کے باعث بعض سراہنے والوں، دوستوں اور عزیز رشتہ داروں کو پہچاننے میں دشواری محسوس کرتی ہوں۔ ان کے یہ فرماں بردار بچے بلاشبہ اس بہترین کاوش پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔
تاہم اس تقریب کا ایک افسوسناک پہلو یہ رہا کہ ایک معتبر اور سینیئر صحافی کے اعزاز میں تقریب ہو اور وہاں خلیل بھائی کی بیوہ انجم خلیل کے علاوہ کوئی دوسرا صحافی نظر نہ آئے۔ اس کمی پر صحافی برادری اور انتظامیہ دونوں کو مشفقانہ تنبیہ کرنا بنتا ہے۔ بہرحال، اس یادگار تقریب میں راقم کو بھی طاہرہ آپا کی خدمات کے اعتراف میں نیک کلمات کہنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر دعوتِ کلام کی باری نہ آ سکی۔ اس کے باوجود، طاہرہ آپا کے اعزاز میں جو جذبات اور خیالات راقم نے اپنے ذہن میں ترتیب دئیے تھے، وہ قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
آج ہم ایک ایسی باوقار اور ہر دل عزیز شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ محترمہ طاہرہ حسین (آپا) کی شخصیت محبت، خلوص اور اپنائیت کا حسین امتزاج ہے۔ جو بھی ان سے ملتا ہے، ان کے اعلیٰ اخلاق، شفقت اور بے لوث رویّے کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ ان کی متحرک موجودگی ہمیشہ ہر اس محفل کو رونق بخشتی رہی ہے جس میں وہ شریک ہوتی تھیں۔
انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے صحافت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی طور پر اس میدان میں قدم رکھا جہاں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ کراچی کے صحافتی حلقوں میں انہیں ایک انتہائی باصلاحیت اور باوقار جرنلسٹ کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے اپنی قلمی کاوشوں سے قارئین کے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑے۔ وہ اس دور سے صحافت کے میدان میں سرگرم ہیں جب پاکستان میں انگلیوں پر گنی جانے والی چند خواتین ہی اس شعبے کا حصہ ہوا کرتی تھیں۔ بعد ازاں، امریکہ ہجرت کے بعد نیویارک میں بھی انہوں نے کامیابی کے ساتھ عوام اخبار کی اشاعت و ادارت کی سنگین ذمہ داریاں نبھائیں اور دیارِ غیر میں اردو صحافت کی شمع کو روشن رکھا۔
صحافت کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی ان کا کردار بے مثال رہا ہے۔ انہوں نے تقریباً بیس برس تک علیگڑھ المنائی ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام شاندار سالانہ مشاعروں کا انعقاد کیا، جنہوں نے نہ صرف تارکینِ وطن کے ادبی ذوق کو جِلا بخشی بلکہ امریکہ میں اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ کچھ عرصے سے طاہرہ آپا علیل ہیں اور صحت کی ناسازی کے باعث اپنی پسندیدہ ادبی و سماجی محفلوں میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم ان کے تمام چاہنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ آج بھی ان محفلوں کو اسی پرانے خلوص اور محبت سے یاد کرتی ہیں، جبکہ ادبی حلقے بھی ان کی کمی کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
آئیے!! ہم سب مل کر ان کی صحت، خوشی اور درازیٔ عمر کے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ طاہرہ آپا کو صحتِ کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، انہیں اپنی رحمتوں اور برکتوں کے سائے میں رکھے اور انہیں دوبارہ مکمل صحت و توانائی کے ساتھ اپنے دوستوں، عزیزوں اور چاہنے والوں کے درمیان متحرک دیکھنے کی سعادت عطا فرمائے، آمین۔

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here