امریکہ میں صدارتی اور کانگریس کے انتخابات کے ساتھ ساتھ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں تارکین وطن کے سیاسی اور سماجی کردار کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بزرگ فرماتے ہیں کہ جب لڑائی کے بعد غصہ آئے تو اپنے منہ پر تھپڑ مار کر اس کو دور کرو۔ اس نصیحت کا مقصد یہ ہے کہ جب گفتگو کرنے یا کوئی معرکہ مارنے کا اصل وقت آئے تو انسان کو اپنی بھرپور توانائیاں اور صلاحیتیں استعمال کر کے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
امریکی سیاسی نظام میں کانگریس کی مدت دو سال ہوتی ہے اور ہر دو سال بعد 435 نشستوں پر امریکی عوام براہ راست ووٹوں کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ امریکہ میں انتخابی عمل انتہائی شفاف ہے جہاں نہ تو کوئی فارم 45 ہے نہ ہی فارم 47 اور نہ ہی کوئی چوہدری نظام دین ہے جو ووٹروں اور انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہو سکے۔ وہاں مکمل طور پر صاف اور شفاف الیکٹرانک ووٹ کاسٹ کیے جاتے ہیں اور گنتی کے فوری بعد نتائج عوام تک پہنچ جاتے ہیں۔ کانگریس اور صدارتی انتخابات کے ساتھ ہی سینیٹ کی کچھ نشستوں پر بھی ووٹ کاسٹ کیے جاتے ہیں جبکہ ریاستی سطح پر گورنرز اور لوکل باڈیز کے لیے بھی عوام اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتے ہیں۔
امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ریاستوں میں مسلمان الیکشن جیت کر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال نیویارک کے نو منتخب میئر زوہران ممدانی کی ہے جنہوں نے 2025 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے 1 جنوری 2026 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ انہوں نے اپنی مسلم شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے انتخابی مہم چلائی اور رنگ و نسل کے امتیاز کے بغیر ہر قوم اور مقامی امریکنز کے دلوں میں جگہ بنائی اور اب وہ اپنے وعدے پورے کرتے ہوئے شہر کی خدمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیگر ریاستوں میں کئی مسلمان اور بالخصوص پاکستانی حالیہ انتخابی عمل کا حصہ بن رہے ہیں۔
ریاست میری لینڈ میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں جو دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی اور سیاسی طور پر بھی بڑے فعال ہیں۔ وہاں قائم اسلامک سینٹرز بڑے سنجیدہ انداز میں کمیونٹی کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہاں کے پاکستانی بڑے کامیاب اور بااثر ہیں لیکن بدقسمتی سے اکثریت میں کامیاب پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے بھی خواتین و حضرات شامل ہیں جو اب بھی 90 کی دہائی کی سیاست میں جی رہے ہیں۔ یہ لوگ بار بار انتخابات میں حصہ لیتے ہیں اور ہر دفعہ ناکامی کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ محض فنڈ ریزنگ تقاریب کا انعقاد کر کے لوگوں کا وقت اور وسائل ضائع کرتے ہیں جبکہ کچھ کاروباری حضرات بھی ان جعلی اور خود ساختہ لوگوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔
اب جبکہ میری لینڈ میں پرائمری انتخابات قریب ہیں جہاں زیادہ ووٹر تو مقامی امریکنز ہیں لیکن پاکستانیوں کے بھی کچھ ووٹ موجود ہیں تو راقم الحروف کی ان کاروباری حضرات اور بڑی بڑی بلڈنگوں اور جاگیروں کے مالکوں سے درخواست ہے کہ وہ منافقت جھوٹ اور خوشامد کو چھوڑ کر درستcandidates کو سپورٹ کریں۔ ایک پاکستانی خاتون جو اسلامی لباس اور اسلامی طور طریقے اپناتے ہوئے الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ان کو سپورٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ خاتون 4 سال قبل ہزاروں ووٹوں سے الیکشن جیت کر امریکی معاشرے میں سیاسی اور سماجی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ اس لیے گزارش ہے کہ صرف ذاتی تعلقات بچانے کی بجائے منافقت کے بغیر سوچ سمجھ کر اہل امیدواروں کا ساتھ دیں تاکہ آئندہ آنے والی پاکستانی نسلیں آپ کو اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔
دوسری طرف اس وقت کشمیر میں جو خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اس کے پیچھے کون ہے یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ اپنے جائز حقوق کے لیے مطالبات کر رہے ہیں لیکن موجودہ پاکستانی حکومت نہتے کشمیریوں پر طاقت کے ذریعے بدترین تشدد اور ظلم و بربریت پر اتر آئی ہے۔ جس طرح پاکستان میں لوگوں کو دبایا جا رہا ہے اور ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں بالکل اسی طرح کشمیر کو بھی دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کشمیر کے لوگ بڑے بہادر اور جانثار ہیں وہ اپنے مطالبات سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تاہم کشمیری کمیونٹی میں بھی چند ٹاؤٹ اور غدار موجود ہیں حالانکہ اس وقت آزاد کشمیر کے لوگوں کو بھرپور سپورٹ اور مدد کی ضرورت ہے۔
پوری دنیا میں کشمیری اس ظلم پر سراپا احتجاج ہیں لیکن امریکہ اور بالخصوص واشنگٹن کے علاقے میں اس احتجاج کا کوئی نام و نشان نہیں ملتا۔ گزشتہ 25 سال سے کشمیر کے ٹھیکیدار جعلی ٹاؤٹ چابی والے مشیر اور چوروں ڈاکوؤں کے کوآرڈینیٹر اب کہیں نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کی گزشتہ سالوں کی تقریبات کا ریکارڈ دیکھیں تو یہ خود ہی ایک دوسرے کو جھوٹے ایوارڈ دیتے ہیں اور جتنے لوگ بلائے ہوں ان سب کو ایوارڈ کے ساتھ تقریر کا موقع بھی دیتے ہیں۔ یہ لوگ انڈور تقاریب میں سینکڑوں لوگوں کو بلاتے ہیں لیکن جب انڈین ایمبیسی کے سامنے کشمیر کے حق میں جلسہ کرنا ہوتا ہے تو ان کے پاس 10 یا 15 لوگوں سے زیادہ جمع نہیں ہوتے۔ موجودہ حالات میں جب کشمیری ذبح ہو رہے ہیں تو یہ نام نہاد کشمیری رہنما کہیں غائب ہیں۔ یہی وقت ہے ظلم اور ناانصافی کیخلاف آواز اٹھانے کا اس لیے تمام پاکستانی اور کشمیری دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ کمیونٹی کے میر جعفروں اور میر قاسموں کی سپورٹ بند کریں۔ اگر امریکہ میں آگے بڑھنا ہے تو ترقی یافتہ قوموں کے اصولوں کو فالو کرنا ہوگا اور سنجیدگی سے اپنا سیاسی سماجی اور مذہبی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ تب ہی جا کر ہم لوگ پاکستان اور کشمیر کے لیے کوئی حقیقی کردار ادا کر سکتے ہیں۔











